تجارت، تقویٰ اور قید – ایک سچے مسلمان کی داستان
حضرت محمد بن سیرین کا ذریعہ معاش تجارت تھا۔ اپنے کاروبار میں وہ اس قدر احتیاط کرتے تھے کہ کئی دفعہ فائدے کے بجائے نقصان ہو جاتا تھا لیکن ان کی پیشانی پر بل تک نہیں آتا تھا۔ ایک مرتبہ انہوں نے بیع کے طور پر غلہ خریدا۔ اس میں انہیں اسی ہزار کا فائدہ ہوا لیکن ان کے دل میں شک پیدا ہو گیا کہ منافع میں سود کا شائبہ ہے چنانچہ انہوں نے محض احتیاط اور تقویٰ کی بنا پر یہ پوری رقم چھوڑ دی حالانکہ فی الحقیقت اس میں مطلق ربہ نہ تھا۔
ایک مرتبہ حضرت ابن سیرین نے چالیس ہزار کا روغن زیتون خریدا۔ اس میں اتفاق سے ایک مرا ہوا چوہا نکل آیا۔ حضرت ابن سیرین نے اس خیال سے کہ ممکن ہے یہ چوہا کولھو میں پڑ گیا ہو۔ سارا تیل پھینکوادیا۔ لیکن چونکہ تیل خرید چکے تھے تیل والے نے قیمت کا مطالبہ کیا وہ اتنی بڑی رقم فورا ادانہ کر سکے نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں اس کی سزا میں قید کر دیا گیا۔ قید کے زمانہ میں اتفاق سے جیل کا محافظ ان کا ارادت مند تھا۔ اس نے ابن سیرین کو پیشکش کی کہ آپ رات کو اپنے اہل و عیال کے پاس چلے جایا کیجئے اور صبح ہونے سے پہلے پہلے قید خانے میں واپس چلے جایا کیجئے آپ نے فرمایا میں سلطانی خیانت میں تمہاری اعانت نہیں کر سکتا۔
ایک مرتبہ ایک شخص نے ابن سیرین پر دو درہم کا دعویٰ کیا۔ آپ نے اس کے دعوی کو غلط قرار دیا۔ مدعی نے کہا قسم کھاؤ ابن سیرین تیار ہو گئے ۔ لوگوں نے کہا آپ دو درہم کے لئے قسم کھاتے ہیں۔ فرمایا میں جان بوجھ کر اس شخص کو حرام نہیں کھلا سکتا۔
ایک دفعہ حضرت ابن سیرین نے جو جرایہ کے علاقہ میں ایک قطعہ زمین خریدا۔ جب اس کی مالگزاری وصول کی تو اس میں انگوروں کی ایک بڑی مقدار تھی۔ کچھ لوگوں نے ان انگوروں سے افشردہ نکالنے کا ارادہ کیا۔ چونکہ اس افشردہ کو شراب کے طور پر استعمال کئے جانے کا احتمال تھا۔ ابن سیرین نے منع کیا کہ انہیں یوں ہی رہنے دو۔ لوگوں نے کہا تو پھر ان کی نکاسی نہیں ہو سکے گی۔ آپ نے فرمایا کہ انہیں خشک کر کے منقے بنالو۔ لوگوں نے کہا ان انگوروں سے منقے نہیں بن سکتے۔ آپ نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو پھر ان انگوروں کو ضائع کر دو۔ چنانچہ آپ کے ارشاد کے مطابق سب انگور پانی میں پھینک دیے گئے۔
حضرت ابن سیرین کے پاس تجارت کے سلسلے میں کئی بار کھوٹے سکے آجاتے تھے۔ آپ ان سب کو الگ پھینک دیتے اور ان سے کبھی کوئی چیز نہ خریدتے۔ چنانچہ ان کی وفات کے بعد ان کے مال میں اس قسم کے پانچ سو کھوٹے سکے نکلے۔
ابن سیرین کے زمانے میں وزن کے پیمانوں کی مقدار میں حکومت کی طرف سے اکثر کمی بیشی ہوتی رہتی تھی اس کو مد نظر رکھ کر ابن سیرین جب کسی سے کوئی مال قرض لیتے تھے۔ تو رائج الوقت پیمانوں اور اوزان کے بجائے کسی اور چیز سے تول کر مال لیتے تھے اور جس چیز سے تولتے تھے اس کو سر بمہر کر کے محفوظ کر دیتے تھے پھر جب مال واپس کرنے لگتے تو اسی مہر شدہ چیز سے تول کر واپس کرتے اور فرماتے کہ وزن گھٹتا بڑھتارہتا ہے
.jpg)
0 Comments