رومیوں کی برطانیہ پر فتح
جس وقت دنیا کے بیشتر حصے تاریکی اور جہالت میں ڈوبے ہوئے تھے، اس وقت رومی سلطنت اپنے عروج پر تھی، اور اس کی طاقتور فوجیں دنیا کے کونے کونے میں فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہی تھیں۔ یہ 43 عیسوی کی بات ہے، جب رومی شہنشاہ کلاڈیئس (Claudius) کی نظر برطانیہ کے سرسبز و شاداب جزیرے پر پڑی۔ وہ اس جزیرے کو اپنی سلطنت میں شامل کرنا چاہتا تھا، لیکن یہ کام آسان نہیں تھا۔
برطانیہ کے قبائل بہادر اور جنگجو تھے، اور وہ اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے تھے۔ شہنشاہ کلاڈیئس نے اپنی سب سے طاقتور فوج کو، جس کی قیادت ایک تجربہ کار جنرل آلوس پلاٹیئس (Aulus Plautius) کر رہا تھا، اس مہم پر روانہ کیا۔ رومیوں کی یہ مہم کامیاب رہی۔ انہوں نے کئی سخت لڑائیاں لڑیں اور برطانوی قبائل کو شکست دی۔
لیکن جب رومی فوجیں برطانیہ کے ایک اہم شہر کولچیسٹر (Colchester) کے دروازوں پر پہنچیں، تو انہیں ایک غیر متوقع اور شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانویوں نے اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دی تھی۔ جنگ رک گئی اور دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی تھیں۔ رومی جنرل نے محسوس کیا کہ اس شدید مزاحمت کو توڑنے کے لیے کوئی غیر معمولی چال چلنا ضروری ہے۔
اسی لیے، اس نے شہنشاہ کلاڈیئس کو پیغام بھیجا اور اسے خود آ کر فوج کی قیادت کرنے کی درخواست کی۔ شہنشاہ نے اس پیغام کو منظور کیا اور ایک شاندار حکمت عملی کے ساتھ برطانیہ میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ کلاڈیئس صرف فوجی دستوں کے ساتھ نہیں آیا، بلکہ اس کے ساتھ ایک غیر معمولی اور ڈرامائی چیز بھی تھی: جنگی ہاتھیوں (War Elephants) کا ایک دستہ۔
برطانوی قبائل نے اپنی زندگی میں کبھی ہاتھی نہیں دیکھے تھے۔ جب انہوں نے یہ دیو ہیکل جانور اپنے اوپر حملہ کرتے ہوئے دیکھے، تو ان پر خوف اور دہشت طاری ہو گئی۔ یہ رومیوں کی ایک بہترین نفسیاتی چال تھی۔ برطانویوں کی ہمت پست ہو گئی اور ان کی مزاحمت ٹوٹ گئی۔
ہاتھیوں کی اس ڈرامائی آمد نے رومیوں کو نفسیاتی فائدہ پہنچایا، جس کے ساتھ ساتھ ان کی بہتر فوجی حکمت عملی، ڈسپلن اور جدید ہتھیاروں نے بھی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ برطانویوں کی شدید مزاحمت کے باوجود، رومیوں نے آہستہ آہستہ پورے جزیرے پر قبضہ کر لیا۔
اس فتح کے بعد، برطانیہ رومی سلطنت کا ایک صوبہ بن گیا۔ رومیوں نے اپنی سلطنت کی تہذیب کو برطانیہ میں روشناس کرایا۔ انہوں نے سڑکیں، پل، شہر اور قلعے تعمیر کیے، جن میں سے بہت سے آج بھی موجود ہیں۔ انہوں نے برطانویوں کو اپنی زبان (لاطینی)، قانون اور طرز زندگی سے بھی متعارف کرایا۔
اس طرح، رومیوں کی برطانیہ پر فتح صرف ایک فوجی فتح نہیں تھی، بلکہ یہ ایک تہذیبی اور ثقافتی انقلاب بھی تھا۔ یہ واقعہ تاریخ میں اس لیے بھی یادگار ہے کہ اس نے ثابت کیا کہ بعض اوقات دشمن کو خوفزدہ کرنا، ہتھیاروں سے زیادہ کارگر ثابت ہوتا ہے۔

0 Comments