جنگِ تھرموپیلا، 480 قبل
مسیح میں لڑی گئی، یونان کی تاریخ کی ایک اہم ترین جنگ ہے۔ یہ جنگ فارسی شہنشاہ
زرکسس اول کی قیادت میں ایک بہت بڑی فوج اور یونانی ریاستوں کے ایک چھوٹے سے اتحاد
کے درمیان لڑی گئی تھی۔ اس جنگ کا مقصد یونانیوں کی طرف سے فارسی فوج کو ایک تنگ
راستے پر روکنا تھا تاکہ وہ یونان کے مرکزی علاقوں میں داخل نہ ہو سکیں۔ اگرچہ
یونانی فوجی اس جنگ میں ہار گئے اور بڑی تعداد میں شہید ہوئے، لیکن ان کی بہادری اور
قربانی نے یونانیوں کو بہت حوصلہ دیا اور بالآخر فارسیوں کی شکست کا سبب بنا۔ یہ
جنگ آج بھی بہادری اور قربانی کی ایک شاندار مثال کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔
جنگ کے اسباب
جنگِ تھرموپیلا کے اسباب
صرف ایک دن یا ایک واقعہ پر مبنی نہیں تھے، بلکہ یہ کئی دہائیوں کی کشمکش کا نتیجہ
تھے۔
آیونیائی
بغاوت کا بدلہ: فارسی سلطنت نے ایشیائے کوچک (موجودہ ترکی) کے یونانی شہروں
پر حکومت قائم کی تھی۔ 499 قبل مسیح میں، ان شہروں نے فارسی حکومت کے خلاف بغاوت کر
دی۔ اس بغاوت کی خفیہ حمایت ایتھنز اور اریتریا جیسے شہروں نے کی تھی۔ فارسیوں نے بغاوت
کو تو کچل دیا، لیکن شہنشاہ داریوش اول نے اس حمایت کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا۔
میراتھون
کی جنگ میں شکست: 490 قبل مسیح میں، فارسیوں نے یونان پر پہلا حملہ کیا، جس
کا مقصد ایتھنز کو سزا دینا تھا۔ لیکن "میراتھون کی جنگ" میں، ایک چھوٹی
یونانی فوج نے فارسیوں کو غیر متوقع طور پر شکست دے دی۔ یہ فارسیوں کے لیے بہت
بڑی ہزیمت تھی، اور شہنشاہ داریوش کے بیٹے زرکسس نے اس شکست کا بدلہ لینے کی ٹھان لی۔
زرکسس
کا غرور اور تسلط کی خواہش: زرکسس اپنے والد کی شکست کا بدلہ لینا اور پوری
یونانی دنیا پر فارسی سلطنت کا تسلط قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے، اس نے ایک
بہت بڑی فوج اور بحری بیڑہ تیار کیا جو تاریخ میں اپنی مثال آپ تھا۔ اس کا مقصد یونانیوں
کو ہمیشہ کے لیے اپنا غلام بنانا تھا۔
دونوں افواج کی طاقت اور
تجربہ
جنگِ تھرموپیلا میں مقابلہ
دو بالکل مختلف نوعیت کی افواج کے درمیان تھا۔
فارسی
فوج:
تعداد: تاریخی
حوالوں کے مطابق، فارسی فوج کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ ہیروڈوٹس نے 1.7 ملین فوجیوں
کا ذکر کیا ہے، لیکن جدید مؤرخین یہ تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی سمجھتے ہیں، پھر
بھی یہ بات مسلم ہے کہ فارسی فوج ہزاروں کی تعداد میں تھی، جو یونانی فوج سے کئی گنا
زیادہ تھی۔
تجربہ: فارسی
فوج مختلف علاقوں سے بھرتی کیے گئے سپاہیوں پر مشتمل تھی، جن میں سے کچھ کا تجربہ کافی
کم تھا۔ البتہ، ان کے پاس بہترین جنگجو دستے بھی تھے، جیسے "امرتیے"
(Immortals) جو کہ زرکسس کے خصوصی محافظ تھے اور ان کا شمار فارسی سلطنت کے
بہترین جنگجوؤں میں ہوتا تھا۔
ہتھیار: فارسیوں
کے ہتھیاروں میں کمان، تیر، چھوٹے نیزے اور تلواریں شامل تھیں۔ ان کے دفاع کے لیے ہلکی
ڈھالیں اور کپڑے کی بنی زرہیں تھیں۔
یونانی
فوج:
تعداد: یونانیوں
کی تعداد 7,000 کے قریب تھی، جس میں صرف 300 سپارٹن فوجی شامل تھے۔ یہ تعداد فارسیوں
کے مقابلے میں بہت کم تھی۔
تجربہ: یونانی
فوجی، خاص طور پر سپارٹن، اپنے وقت کے سب سے بہترین اور منظم جنگجو تھے۔ انہیں بچپن
سے ہی سخت جنگی تربیت دی جاتی تھی اور وہ نظم و ضبط اور لڑائی کے ماہر تھے۔
ہتھیار: یونانیوں
کے ہتھیار بہت بھاری اور موثر تھے۔ ان میں لمبی نیزے (dory)، بڑی گول ڈھالیں
(hoplon)، اور لوہے کے ہیلمٹ اور زرہیں شامل تھیں۔ ان کا سب سے اہم ہتھیار ان کا "فالینکس"
(Phalanx) تھا، جو ایک مضبوط، منظم فارمیشن تھی جس میں فوجی اپنی ڈھالوں کو
جوڑ کر ایک ناقابلِ تسخیر دیوار بنا لیتے تھے۔
تھرموپیلا میں داخلہ اور
پہلی جھڑپیں
جب فارسی فوج تھرموپیلا کے
قریب پہنچی تو زرکسس نے یونانیوں کو چار دن کا وقت دیا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں یا پسپا
ہو جائیں۔ لیکن اس کے غرور اور یونانیوں کی بہادری کا اندازہ نہ لگاتے ہوئے، زرکسس
نے اپنے فوجیوں کو حملہ کرنے کا حکم دیا۔
یونانیوں کی پوزیشن: یونانی
فوج نے تھرموپیلا کے تنگ راستے کے ایک سرے پر اپنی دفاعی پوزیشن سنبھال لی۔ اس
پوزیشن کا سب سے اہم فائدہ یہ تھا کہ یہاں فارسیوں کی عددی برتری بے معنی ہو گئی تھی،
کیونکہ ایک وقت میں صرف چند فوجی ہی اس تنگ راستے سے یونانیوں کے خلاف لڑ سکتے تھے۔
پہلی لڑائی: زرکسس
نے اپنے بہترین دستوں، جن میں میڈیا کے فوجی شامل تھے، کو حملے کا حکم دیا۔ یہ
حملے مسلسل جاری رہے، لیکن یونانیوں نے اپنے "فالینکس" فارمیشن کو برقرار
رکھا اور فارسیوں کو پیچھے دھکیلتے رہے۔ فارسیوں کے لیے یہ غیر متوقع تھا کہ ایک
اتنی چھوٹی فوج انہیں اتنی دیر تک روک سکتی ہے۔ کئی گھنٹوں کی شدید لڑائی کے بعد،
فارسیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔
جنگی میدان کے حالات
جنگی میدان کے حالات نے یونانیوں
کو بہت فائدہ پہنچایا:
جغرافیائی
ساخت: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، تھرموپیلا ایک تنگ پٹی تھی جس کے ایک طرف
پہاڑ اور دوسری طرف کھڑی چٹانیں تھیں جو سمندر میں گرتی تھیں۔ اس وجہ سے بڑی تعداد
میں فوج کو راستہ نہیں مل سکا کہ وہ یونانیوں کو گھیر سکیں۔
سمندر: جنگ
کے دوران، یونانی بحری بیڑہ بھی قریب ہی آرٹیمیسیئم (Artemisium) کے ساحل پر فارسی
بحری بیڑے سے لڑ رہا تھا تاکہ فارسیوں کو سمندر کے راستے سے حملہ کرنے سے روکا جا سکے۔
جنگ کا آغاز اور سپارٹنز
کی حکمتِ عملی
پہلے دن کی لڑائی میں ناکامی
کے بعد، زرکسس کو غصہ آیا اور اس نے اگلے دن اپنے خصوصی دستے "امرتیوں" کو
بھیج دیا۔ امرتیے بھی یونانی فالینکس کو توڑنے میں ناکام رہے، جس سے زرکسس کا غصہ اور
مایوسی بڑھ گئی۔
سپارٹنز کی حکمتِ عملی: لیونائڈاس
اور ان کے سپارٹنز کی حکمتِ عملی بہت سادہ لیکن موثر تھی۔
دفاع: وہ
صرف اپنی پوزیشن پر جم کر دفاع کر رہے تھے، جس سے فارسیوں کے حملے بے اثر ہو رہے تھے۔
فریب: یونانیوں
نے کئی بار پسپائی کا فریب کیا، جس سے فارسی فوجی ان کے پیچھے بھاگے، اور پھر یونانیوں
نے اچانک مڑ کر حملہ کر دیا، جس سے فارسیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
فارسیوں کا اچانک حملہ
اور یونانیوں کی پسپائی
جب دو دن کی لڑائی کے بعد
بھی کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو فارسیوں کی مایوسی میں اضافہ ہوا۔ لیکن پھر ایک مقامی
یونانی شخص ایفیلٹس (Ephialtes) نے زرکسس کو ایک خفیہ راستہ دکھایا
جو پہاڑیوں کے اوپر سے گزرتا تھا۔ اس راستے کے ذریعے فارسی فوجی یونانیوں کو پیچھے
سے گھیر سکتے تھے۔
غداری: زرکسس
نے اپنے جرنیل ہائیڈرنیز کی قیادت میں ایک دستہ اس خفیہ راستے سے بھیجا۔ اس راستے کی
حفاظت صرف 1000 یونانیوں کا ایک چھوٹا سا دستہ کر رہا تھا جو فارسیوں کو آتا دیکھ کر
بھاگ گئے۔ اس غداری نے جنگ کا رخ پلٹ دیا۔
"کرو یا مرو"
کی لڑائی اور بحری جنگ
جب لیونائڈاس کو یہ اطلاع
ملی کہ فارسی فوج پیچھے سے آ رہی ہے، تو انہوں نے باقی یونانی فوجیوں کو اپنی جان بچانے
کے لیے پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔ لیکن انہوں نے اور ان کے 300 سپارٹنز نے، اور تھیسپیا
اور تھیبس کے کچھ سپاہیوں نے، راستہ روکنے اور پیچھے ہٹنے والے یونانیوں کی حفاظت کے
لیے وہیں رکنے کا فیصلہ کیا۔
"Do or
Die" Fight: یہ ان کی آخری لڑائی تھی۔ لیونائڈاس اور ان کے سپاہی
آخری دم تک لڑتے رہے، انہوں نے فارسیوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ وہ جانتے
تھے کہ ان کی موت یقینی ہے، لیکن وہ اپنے وطن کے لیے قربان ہونا چاہتے تھے۔ اس لڑائی
میں، لیونائڈاس خود بھی شہید ہو گئے۔ آخر میں، فارسیوں نے تیروں کی بارش کر کے تمام
یونانیوں کو ختم کر دیا۔
بحری جنگ: اس
دوران، بحری فوج بھی آرٹیمیسیئم کے مقام پر فارسی بحری بیڑے سے لڑ رہی تھی۔ اگرچہ اس
جنگ کا نتیجہ کوئی فیصلہ کن نہ نکلا، لیکن اس نے فارسی بحری بیڑے کو کافی نقصان پہنچایا
اور اسے آگے بڑھنے سے روکے رکھا۔ تھرموپیلا میں یونانیوں کی قربانی نے بحری فوج کو
یہ حوصلہ دیا کہ وہ پیچھے ہٹ کر سلامیس میں ایک بہتر دفاعی پوزیشن سنبھال لیں۔
جنگ کا نتیجہ
جنگِ تھرموپیلا میں یونانیوں
کی قربانی نے یونان کو ایک اہم سبق سکھایا: ان کی طاقت ان کے اتحاد میں ہے۔ اگرچہ
فارسیوں نے تھرموپیلا کا راستہ عبور کر لیا، لیکن یونانیوں نے ان کی پیش قدمی کو کافی
دیر تک روکے رکھا۔ اس وقت کا فائدہ اٹھا کر، یونانیوں نے بعد میں سلامیس اور پلاٹیا
کی فیصلہ کن جنگوں میں فارسیوں کو شکست دی اور ان کی یونان پر حملہ کرنے کی کوشش کو
ناکام بنا دیا۔

0 Comments