Aik Wapasi, Aik Dastaan, Aik Almiya

 

ڈاکٹر ولیم برائڈن: ایک واپسی، ایک داستان، ایک المیہ

1842ء کی شدید سردیوں میں افغانستان کے برفانی درّوں میں ایک ایسا المناک سانحہ پیش آیا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ یہ ایک کہانی ہے ایک عظیم سلطنت کے غرور، ایک بہادر قوم کی آزادی کی محبت، اور ایک ڈاکٹر کی تنہائی میں کی گئی بقا کی جنگ کی۔ یہ کہانی صرف فوجی شکست کی نہیں، بلکہ انسانیت کی کمزوریوں، غلط فیصلوں اور اس المناک حقیقت کی ہے کہ جنگ میں فاتح اور مفتوح دونوں ہی قیمتی جانیں گنواتے ہیں۔ ڈاکٹر ولیم برائڈن کا کابل سے جلال آباد تک کا سفر محض ایک سفر نہیں، بلکہ ایک ایسی المناک داستان کا خلاصہ ہے جس میں برطانوی فوج کی شان و شوکت کا جنازہ اٹھا اور افغانستان کی آزادی کا پرچم لہرایا۔

First Anglo-Afghan War , urdu kahani, urdu stories, urdu kahani ghar 88,  Retreat from Kabul 1842  Dr. William Brydon,  Massacre of Elphinstone's Army,





یہ کہانی 19ویں صدی کے اوائل کی "گریٹ گیم" سے شروع ہوتی ہے، جب دو عظیم طاقتیں، برطانوی راج اور روسی سلطنت، وسطی ایشیا میں اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل تھیں۔ برطانوی حکام کو یہ خوف تھا کہ روس افغانستان کے راستے ہندوستان میں ان کے اقتدار کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی خوف نے انہیں ایک غلط فیصلہ لینے پر مجبور کیا: وہ افغانستان میں اپنی مرضی کا حکمران، شاہ شجاع، تخت پر بٹھانا چاہتے تھے جو افغان عوام میں غیر مقبول تھا۔ 1839ء میں برطانوی افواج نے کابل پر قبضہ کر کے شاہ شجاع کو تخت نشین کر دیا۔ یہ قبضہ بظاہر ایک کامیابی تھی، لیکن یہ آنے والے طوفان سے پہلے کا سکون تھا۔ افغان قبائل اپنی غیرت اور آزادی کے خلاف کسی بھی غیر ملکی قبضے کو برداشت کرنے کو تیار نہ تھے، اور بہت جلد مزاحمت کی آگ بھڑک اٹھی۔

کابل سے المناک پسپائی کا سفر

1841ء کے آخر میں، کابل میں حالات مکمل طور پر برطانوی کنٹرول سے باہر ہو گئے۔ افغان سرداروں اور قبائل نے، جن کی قیادت سردار محمد اکبر خان کر رہے تھے، بغاوت کر دی۔ برطانوی فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کو کابل میں محصور کر لیا گیا۔ شدید سردی اور رسد کی کمی نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔ جب شکست یقینی نظر آنے لگی، تو برطانوی حکام نے افغان سرداروں سے معاہدہ کیا کہ وہ کابل چھوڑ کر جلال آباد میں اپنی چھاؤنی کی طرف نکل جائیں گے۔ جنوری 1842ء میں تقریباً 16 ہزار افراد پر مشتمل ایک بڑا قافلہ، جس میں فوجی، سویلین، عورتیں اور بچے شامل تھے، کابل سے جلال آباد کے لیے روانہ ہوا۔ یہ پسپائی کا آغاز تھا۔

برف، موت اور بقا کی جنگ

کابل سے نکلنے والا یہ قافلہ ایک ایسی موت کی وادی میں داخل ہو رہا تھا جس کا انہیں اندازہ نہ تھا۔ سردی اتنی شدید تھی کہ برف کی تہہ راستوں پر جم چکی تھی۔ بھوک، پیاس، اور تھکن نے ان کی قوت کو توڑ دیا۔ سب سے بڑھ کر، افغان جنگجوؤں نے اپنا وعدہ توڑتے ہوئے ہر گھاٹی اور درّے میں ان پر حملے شروع کر دیے۔ یہ حملے اتنے مہلک تھے کہ قافلہ ہر قدم پر کمزور ہوتا گیا۔ برفانی راستوں میں سینکڑوں لوگ سردی سے ٹھٹھر کر مر جاتے، جبکہ افغان سنائپرز ہر موڑ پر ان کا شکار کرتے رہے۔ عورتیں اور بچے انتہائی بے بسی کی حالت میں ہلاک ہو رہے تھے۔ جو قافلہ کبھی برطانوی سلطنت کی شان و شوکت کا مظہر تھا، اب وہ لاشوں اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کا ڈھیر بنتا جا رہا تھا۔

ہر نیا دن ایک نئی مصیبت لے کر آتا تھا۔ بھوک سے نڈھال لوگ اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھتے رہے۔ اس سفر کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ تھی کہ جو فوجی ہتھیار ان کے پاس تھے، وہ انہیں شدید سردی کی وجہ سے استعمال نہیں کر پا رہے تھے۔ اس المناک سفر کے چند دن بعد، جب جلال آباد کا قلعہ قریب آیا تو قافلہ مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا۔ 16 ہزار افراد میں سے صرف چند سو زندہ بچ سکے تھے، مگر ان کی حالت بھی نازک تھی۔ ان میں سے زیادہ تر کو افغانوں نے قیدی بنا لیا۔

ڈاکٹر ولیم برائڈن کی واپسی

اس المناک داستان کا سب سے یادگار اور طاقتور لمحہ ڈاکٹر ولیم برائڈن کی واپسی ہے۔ جب جلال آباد کے قلعے کے پہرے داروں نے دور سے ایک اکیلے گھوڑے سوار کو اپنی طرف آتے دیکھا تو انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ وہ ایک گھوڑا تھا جس پر ایک نیم مردہ انسان سوار تھا۔ اس کا لباس تار تار ہو چکا تھا، جسم پر خون اور برف کی تہہ جم چکی تھی، اور سر پر زخم تھے۔ یہ ڈاکٹر ولیم برائڈن تھا، کابل سے نکلنے والے پورے 16 ہزار افراد کے قافلے میں سے واحد شخص جو جلال آباد تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ اس کی آمد نے قلعے میں موجود لوگوں کو پوری فوج کی المناک شکست کا پیغام دے دیا۔

ڈاکٹر برائڈن کی یہ واپسی محض ایک شخص کی بقا کی کہانی نہ تھی، بلکہ یہ پورے برطانوی راج کی شکست، ان کی سبکی اور غرور کے ٹوٹنے کی علامت تھی۔ سولہ ہزار افراد میں سے صرف ایک زخمی سپاہی کا زندہ واپس آنا اس شکست کی ہولناکی کو دنیا پر واضح کر گیا۔ بعد میں کچھ قیدیوں کو رہا کرایا گیا، لیکن اس سانحے کی یاد ہمیشہ کے لیے برطانوی تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر درج ہو گئی۔

افغانستان: فاتحین کا قبرستان

پہلی افغان جنگ برطانوی سلطنت کے لیے ایک تلخ اور عبرت ناک تجربہ ثابت ہوئی۔ افغانستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ بیرونی طاقتیں یہاں قبضہ تو کر سکتی ہیں، مگر یہاں کی عوام کی آزادی کی روح اور پہاڑی جغرافیہ انہیں ٹکنے نہیں دیتا۔ یہ جنگ برطانیہ کی تاریخ میں ایک ایسی یاد بن گئی جو یہ ثابت کرتی ہے کہ فوجی طاقت اور وسائل کے باوجود، ایسی سرزمینوں کو مکمل طور پر فتح کرنا ناممکن ہے جہاں کے لوگ اپنی آزادی کے لیے کسی بھی قربانی کے لیے تیار ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کو بعد میں "فاتحین کا قبرستان" کہا جانے لگا۔

ڈاکٹر ولیم برائڈن کی خستہ حال واپسی اس حقیقت کی مجسم علامت ہے کہ بڑی بڑی سلطنتیں اپنی طاقت اور منصوبوں کے باوجود ان سرزمینوں کو کبھی مکمل طور پر فتح نہیں کر سکیں جہاں عوام اپنی آزادی کے لیے جان دینے کو تیار ہیں۔ اس کہانی نے نہ صرف برطانوی سامراج کے غرور کو توڑا بلکہ افغانستان کی مزاحمت کو بھی ایک نئی شناخت دی۔

 

Post a Comment

0 Comments