Michael Rockefeller: Ek Purisrar Anjam aur Ek Na Hal Hone Wala Muamma

 مائیکل راک فیلر: ایک پراسرار انجام اور ایک نہ حل ہونے والا معمہ

مائیکل راک فیلر کی یہ آخری معلوم تصویر ہے، جو 1961 میں پاپوا نیو گنی میں اسمات قبیلے (جو ایک آدم خور قبیلہ تھا) پر تحقیق کرتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے۔


1961 کا سال تھا۔ امریکا کے مشہور ترین اور دولت مند ترین خاندان راک فیلر کا ایک نوجوان وارث، مائیکل کلارک راک فیلر، اپنے شوق اور جستجو کے سفر پر نکلا۔ یہ نوجوان محض ایک ارب پتی خاندان کا فرد نہیں تھا بلکہ ایک ایسا ماہر بشریات تھا جسے دنیا کی قدیم تہذیبوں اور اجنبی قبائل کے بارے میں جاننے کی شدید آرزو تھی۔ وہ ہارورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ اپنی زندگی کو صرف دولت اور سیاست کے لیے وقف کرنا اس کے لیے کافی نہیں، بلکہ وہ اپنی آنکھوں سے ان لوگوں کو دیکھنا چاہتا ہے جو صدیوں سے جنگلات میں زندہ ہیں اور جن کی تہذیب جدید دنیا کے لیے پراسرار اور ناقابلِ فہم ہے۔



اسی جستجو نے اسے پاپوا نیو گنی کے جنگلوں میں پہنچایا۔ یہ وہ خطہ تھا جہاں اسمات قبیلہ بستا تھا، ایک ایسا قبیلہ جس کا فن کمال کا تھا، جو لکڑی کی تراش خراش اور اپنے مخصوص جنگی نقوش کے لیے مشہور تھا۔ مگر ان کی شہرت صرف ان کے فن کی وجہ سے نہیں تھی۔ ان کے بارے میں یہ روایت مشہور تھی کہ وہ اپنے دشمنوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کا گوشت کھاتے ہیں، اور یہ عمل ان کے نزدیک محض خوراک نہیں بلکہ انتقام اور روحانی طاقت کا ذریعہ تھا۔


مائیکل نے اس قبیلے کے درمیان وقت گزارا، ان کے رسم و رواج کا مشاہدہ کیا اور اپنی آنکھوں سے ان کی دنیا کو محفوظ کیا۔ اُس کی آخری معلوم تصویر آج بھی دنیا کے سامنے ہے جس میں وہ اپنے کیمرے میں مصروف ہے جبکہ اسمات قبیلے کے لوگ اس کے گرد موجود ہیں۔ یہ تصویر چند دن بعد ایک ایسی کہانی کا پیش خیمہ بنی جس نے دنیا کو حیرت اور خوف میں مبتلا کر دیا۔


نومبر 1961 میں مائیکل اور اس کے ساتھی ایک چھوٹی کشتی میں دریا عبور کر رہے تھے کہ اچانک کشتی الٹ گئی۔ اس کے ساتھیوں کو کسی نہ کسی طرح بچا لیا گیا مگر مائیکل تیرتے ہوئے دریا کے دوسرے کنارے کی طرف نکل گیا اور پھر کبھی واپس نہ آیا۔ حکومت نے وسیع پیمانے پر تلاش شروع کی، ہیلی کاپٹر، کشتیاں، فوجی دستے، مقامی گائیڈ سب شامل ہوئے، لیکن اس نوجوان کا کہیں کوئی سراغ نہ ملا۔ سرکاری اعلان یہ ہوا کہ مائیکل غالباً ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔ مگر یہ محض ایک رسمی بیان تھا۔


جلد ہی افواہیں پھیلنے لگیں کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ ہولناک ہے۔ مقامی لوگوں نے سرگوشیوں میں کہنا شروع کیا کہ دریا کے اس پار موجود ایک گاؤں میں ایک سفید فام نوجوان کو دیکھا گیا جسے بعد میں قبیلے کے افراد نے مار کر کھا لیا۔ کچھ روایات کے مطابق یہ کوئی حادثاتی قتل نہیں تھا بلکہ تین سال پہلے پیش آنے والے ایک خونریز واقعے کا بدلہ تھا، جب ڈچ پولیس نے اسمات قبیلے کے پانچ افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ قبیلے نے موقع ملتے ہی اس سفید فام نوجوان کو قربانی بنا کر اپنے انتقام کو پورا کیا۔


اس کہانی کو مزید وزن اس وقت ملا جب بعد کے برسوں میں مختلف محققین اور صحافیوں نے ان علاقوں میں جا کر لوگوں سے بات کی۔ کچھ نے کہا کہ انہوں نے خود قبیلے کے افراد سے یہ اعتراف سنا کہ ایک غیر ملکی نوجوان کو مار کر کھایا گیا تھا۔ 2014 میں امریکی صحافی کارل ہوفمین نے اپنی کتاب Savage Harvest میں تفصیلی انٹرویوز اور شواہد کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا کہ مائیکل راک فیلر کو واقعی اسمات قبیلے نے قتل کیا اور پھر ان کا گوشت کھایا۔


یہ واقعہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں رہا بلکہ نوآبادیاتی دور کے اختتام اور مغربی دنیا کی مقامی تہذیبوں میں مداخلت کا ایک استعارہ بن گیا۔ یہ اس ٹکراؤ کی عکاسی کرتا ہے جس میں ایک طرف مغرب اپنی سائنس اور طاقت کے ساتھ کھڑا تھا اور دوسری طرف وہ قدیم دنیا جو صدیوں سے اپنے اصولوں اور خوفناک رسوم کے ساتھ زندہ تھی۔ مائیکل کی گمشدگی نے یہ سوال ہمیشہ کے لیے کھڑا کر دیا کہ کیا وہ واقعی دریا کی موجوں میں ڈوب گیا تھا یا وہ اسمات قبیلے کے ہونٹوں پر آخری مسکراہٹ بن کر معدوم ہوا؟


یہ معمہ آج تک حل نہ ہو سکا۔ کوئی ثبوت نہیں، کوئی لاش نہیں، صرف کہانیاں، افواہیں اور خوفناک امکانات۔ ایک نوجوان جس نے دنیا کو سمجھنے کی خواہش کی، شاید خود دنیا کے سب سے پراسرار رازوں میں سے ایک کا حصہ بن گیا۔

Post a Comment

0 Comments