code(00000000)

 ایک زمانے کی بات ہے، جب دنیا دو بڑی طاقتوں کے درمیان تقسیم تھی: ایک طرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دوسری طرف سوویت یونین۔ یہ وہ دور تھا جسے سرد جنگ (Cold War) کہا جاتا ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو خوفزدہ رکھنے کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تیار کر رہے تھے۔ امریکہ کے پاس Minuteman نامی بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کا ایک پورا ذخیرہ تھا، جو سائلوز (silos) میں چھپے ہوئے تھے اور ایک بٹن دبانے پر دنیا کے کسی بھی کونے میں تباہی پھیلا سکتے تھے۔



امریکی عسکری قیادت کو ایک خوف مسلسل تنگ کرتا تھا: اگر سوویت یونین اچانک حملہ کر دے تو کیا ہوگا؟ کیا ان کے پاس اتنا وقت ہوگا کہ وہ میزائلوں کو لانچ کرنے کے لیے پیچیدہ کوڈز داخل کر سکیں؟ اس خوف کے پیشِ نظر، انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو آج بھی ناقابلِ یقین لگتا ہے۔ انہوں نے یہ طے کیا کہ میزائلوں کا لانچ کوڈ بالکل آسان ہوگا، تاکہ ہنگامی حالت میں کوئی تاخیر نہ ہو اور فوری جوابی حملہ کیا جا سکے۔

اور وہ کوڈ کیا تھا؟ صرف اور صرف "00000000"۔ جی ہاں! آٹھ صفر۔ کوئی سیکیورٹی نہیں، کوئی پیچیدگی نہیں۔ یہ بالکل ایسے تھا جیسے آپ اپنے لاکر میں کروڑوں روپے رکھیں اور اس کا پاس ورڈ "1111" سیٹ کر دیں۔ یہ پالیسی 1960ء سے لے کر 1970ء کی دہائی تک جاری رہی۔ فوجی کمانڈروں کو بھی یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اس کوڈ کو کبھی نہ بدلیں۔ یہ کوڈ اتنا آسان تھا کہ کسی بھی فوجی کو اسے یاد رکھنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی، لیکن اس کی قیمت یہ تھی کہ کوئی بھی شخص جو سسٹم تک رسائی حاصل کر لیتا، وہ دنیا کو ایک لمحے میں تباہ کر سکتا تھا۔

یہ پالیسی اتنی غیر محفوظ تھی کہ جب بعد میں سیکیورٹی ماہرین نے اس کا انکشاف کیا تو دنیا حیران رہ گئی۔ ایک فوجی کمانڈر اور سیکیورٹی ایکسپرٹ، بروس بلیئر نے اس راز سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نظام کتنا خطرناک تھا۔ یہ ایک ایسی تلوار تھی جو نہ صرف دشمن پر لٹکی ہوئی تھی بلکہ اس کے چلانے والے کے سر پر بھی تھی۔

1977ء میں، جب اس خوفناک حقیقت کا مکمل ادراک ہوا، تو فوجی قیادت نے اس پالیسی کو تبدیل کیا اور زیادہ محفوظ اور پیچیدہ کوڈز کو متعارف کرایا۔ لیکن اس وقت تک، دنیا تقریباً 20 سال تک ایٹمی تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سادگی اور سہولت کی خاطر اٹھائے گئے فیصلے کس قدر خطرناک اور تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ تاریخ میں کچھ فیصلے ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔















Post a Comment

0 Comments