The shameful game of Western imperialism: Proxy war in Laos, puppets and unexploded bombs still causing massacres today

مغربی سامراج کا شرمناک کھیل: لاؤس میں پراکسی جنگ، کٹھ پتلیاں اور نہ پھٹنے والے بموں کا آج بھی قتلِ عام


چھ جنوری 1965 کی صبح تھی۔ لاؤس کے ایک پہاڑی علاقے میں دھند چھائی ہوئی تھی جب ایک چھوٹا سا طیارہ ایک چھوٹی سے عارضی پٹی سے اڑا۔ اس میں سی آئی اے کے پائلٹ اور چند لوگ سوار تھے۔ نیچے زمین پر تین سو ہمونگ قبائلی سپاہی امریکی بندوقیں پکڑے کھڑے تھے، اور ایک کوڈ ورڈ کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ ویتنامی قافلے پر حملے کی سازش تھی اور اسکو شروع کرنے کیلئے کوڈ ورڈ تھا "سائیکل"۔




یہ وہ وقت تھا جب امریکہ لاؤس میں ایک ایسی خفیہ جنگ لڑ رہا تھا جس کو وہ سرکاری طور پر تسلیم نہیں کرتا تھا۔

لاؤس دنیا کا وہ ملک ہے جس پر سب سے زیادہ بم برسائے گئے۔ آٹھ برسوں میں امریکی جہازوں نے اس چھوٹے سے ملک پر اکیس لاکھ ٹن سے زیادہ بارود گرایا۔ ہر آٹھ منٹ بعد ایک بم گر رہا تھا۔ اس کے باوجود امریکہ نے کبھی اعلانِ جنگ نہیں کیا۔ سب کچھ خفیہ رکھا گیا۔ ایک ایسی جنگ جو نہ کانگریس نے منظور کی، نہ دنیا کو پتا چلا، مگر لاکھوں جانیں لے گئی۔


یہ کہانی دوسری عالمی جنگ کے بعد شروع ہوتی ہے۔ فرانس نے جب انڈوچائنا کو تین حصوں میں بانٹا تو لاؤس کو ایک بفر زون کے طور پر رکھا۔ فرانس نے اس ملک کی معیشت کو مکمل طور پر نچوڑ دیا تھا۔  بیحد پسماندہ ملک جس میں تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی۔ مگر جیسے ہی ویتنام میں جننگ چھڑی اور کمیونسٹ پارٹی نے مزاحمت شروع کی تو لاؤس کے پہاڑوں کا نقشہ بھی بدل گیا۔ ویت نام کے کمیونسٹ جنگجو یہاں سے سپلائی لائن چلا رہے تھے۔ امریکہ نے مزاحمت کو پھیلتے دیکھا تو نہایت بیدردی سے لاؤس پر بمباری شروع کر دی۔ جیسے لاؤس کے لوگوں کی زندگی کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو اور ایسا ہی تھا، دنیا کو خبر تک نہ تھی کہ لاؤس کے لوگوں پر کس قدر ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔



یہ آپریشن سی آئی اے کی نگرانی میں چل رہا تھا۔ انہوں نے ہمونگ قبیلے کے ایک کمانڈر وینگ پاؤ کو چنا، جو فرانس کا وفادار تھا اور فرانسیسی دور میں بھی لڑ چکا تھا۔ سی آئی اے نے اسے جدید اسلحہ دیا، پیسے دیے، اور ایک خفیہ فوج کھڑی کر دی۔ اس فوج کو کہا گیا کہ وہ ویتنامیوں کو روکیں۔ طیارے، ہیلی کاپٹر، اور ہزاروں تھائی کمانڈوز لاؤس پہنچائے گئے۔ یہ سب کچھ "غیر سرکاری" انداز میں ہوا تاکہ امریکہ براہِ راست ملوث نہ لگے۔


ایئر امریکا نام کی ایک جعلی ایئر لائن بنائی گئی جو دراصل سی آئی اے کی ملکیت تھی۔ یہی طیارے فوجی، اسلحہ، اور سامان پہاڑوں میں لے جا رہے تھے۔


یہاں سے انسانی تاریخ کی بدترین بمباری کا دور شروع ہوا۔ سنہ 1965 سے 1973 تک امریکہ نے لاؤس پر ساڑھے پانچ لاکھ فضائی حملے کیے۔ تصور کیجیے، ایک چھوٹے سے ملک پر ہر آٹھ منٹ بعد ایک بم گر رہا تھا، دن رات، مسلسل نو سال تک بمباری جاری رہی۔


ان بموں میں لاکھوں کلسٹر بم بھی شامل تھے جن کے چھوٹے چھوٹے دھماکہ خیز ٹکڑے آج تک لاؤس کی زمین میں دفن ہیں۔ کلسٹر بم بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھی اور ایک گھناؤنا جنگی جرم تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس جنگ میں استعمال ہونے والے اسی فیصد بم پھٹے نہیں تھے۔ آج تک وہاں بچے ان بموں سے مر رہے ہیں۔ امریکہ کی لاؤس کے خلاف وہ وحشیانہ بمباری آج بھی لاؤ عوام کو اپاہج بنا رہی ہے۔


زمین پر ہمونگ سپاہی امریکیوں کے حکم پر لڑ رہے تھے۔ وہ پہاڑوں پر چڑھتے، دشمن کی نقل و حرکت بتاتے، اور کبھی خود بھی امریکی بمباری کا شکار ہو جاتے۔ ہر سال ہزاروں مارے جاتے۔ ان کی لاشیں انہی جنگلوں میں دفن ہوئیں جن کے نام دنیا نے کبھی نہیں سنے۔


جب امریکہ نے ویتنام سے نکلنے کا فیصلہ کیا تو ان سپاہیوں کو بھی ویسے ہی پیچھے چھوڑ دیا جیسے ویتنام میں اپنے ایجنٹوں کو چھوڑا تھا، جیسے افغانستان میں انکے وفادار آخری پروازوں کے ٹائرز سے لٹک کر مر رہے تھے۔ سی آئی اے نے صرف چند سو لوگوں کو تھائی لینڈ منتقل کیا۔ باقی تیس ہزار سے زیادہ وہیں رہ گئے۔ جنہوں نے برسوں امریکی مفاد کے لیے اپنے ہی لوگوں سے لڑائی لڑی، اپنی قوم کے ان غداروں کو امریکی بے یارو مددگار چھوڑ گئے۔


سنہ 1975 میں جب لاؤس کی کمیونسٹ پارٹی پاتھیت لاؤ کی فوج لانگ تیانگ میں داخل ہوئی تو وہاں کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ صرف خالی بیرکیں، جلے ہوئے توپ خانے، اور ایک شستہ حال قبرستان۔ بعد کے برسوں میں لاکھوں لوگ تھائی لینڈ بھاگے۔ ان میں سے کچھ نے امریکہ میں پناہ لی۔ آج بھی ہمونگ قبائل کے چند بچ جانے والوں کے بچے امریکی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اسی فوج میں جس نے ان کے قبیلے کو چند ڈالروں کے عوض غداری پر آمادہ کیا اور پھر مرنے کیلئے پیچھے چھوڑ دیا۔


جنگ ختم ہو گئی مگر اس کے اثرات آج تک موجود ہیں۔ آج بھی زمین میں لاکھوں بم بکھرے پڑے ہیں جو کسانوں اور بچوں کو مارتے ہیں۔ اب بھی لاؤس کی معیشت کمزور ہے کیونکہ جو سڑکیں بنائی گئیں، وہ فوجی سپلائی کے لیے تھیں، تجارت کے لیے نہیں۔ ملک آج بھی غیر ملکی امداد پر چلتا ہے۔ چین نے حال ہی میں لاؤس میں ایک ہائی سپیڈ ریلوے کا آغاز کیا ہے جس سے ملک میں پہلی بار خوشحالی کا آغاز ہوا ہے۔ چین کے ساتھ تیز رفتار رابطے نے لاؤس میں اقتصادی ترقی کے راستے کو کھول دیا ہے۔ ایسا ہی کاریڈور نیپال کیساتھ بھی بنایا جا رہا تھا مگر وہاں کمیونسٹ حکومت کے خلاف نام نہاد سوشلسٹ انقلاب آ گیا ہے۔ 


لاؤس میں آزمایا گیا سی آئی اے کا فارمولہ دنیا کے کئی چھوٹے ممالک میں استعمال ہوا ہے۔ ہمیشہ کوئی نہ کوئی گروہ، کوئی نہ کوئی قبیلہ، کوئی نہ کوئی کرپٹ جنرل، کوئی خودپسند سیاستدان، سی آئی اے کیلئے کام کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ سی آئی اے کے پاس ڈالروں کی کوئی کمی نہیں، ڈالر صرف چھاپ کر بانٹنے ہوتے ہیں۔ ڈالرز کی اس پرنٹنگ کا بل پوری دنیا چکاتی ہے۔ امریکہ کی جنگوں کا ایندھن بننے والے بھوک سے مرتے لوگوں کے پاس صرف ایک نظریہ ہوتا ہے، کسی بھی طور پر زندہ رہنا ہے اور بنیادی ترین ضروریات پوری کرنی ہیں۔ 


یہی سی آئی اے والا طریقہ، خفیہ فوجیں، پراکسی جنگیں، بعد میں لاطینی امریکہ، افریقہ، ایشیاء اور یورپ میں استعمال ہوتا نظر آتا ہے۔ آج بھی وہی فارمولہ ہم شام، یمن، افغانستان اور یوکرائن میں استعمال ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ آج جو ڈرون پائلٹ یمن یا افریقہ میں کارروائیاں کرتے ہیں، ان کے کوڈ نیم بھی وہی ہیں جو لاؤس کے پائلٹوں کے تھے۔


 لاؤس کا المیہ صرف ایک ملک کی کہانی نہیں ہے، یہ پوری دنیا میں کھیلا جانے والا مغربی سامراج کا کھیل ہے۔ جو مغرب خود کو آزادی اور انسانی حقوق کا علمبردار کہتا ہے، اس نے سب سے زیادہ ایسی جنگیں لڑیں جن کا وجود سرکاری طور پر تسلیم کرنا ان کیلئے باعث شرم ہے۔


اس لئے یاد رکھئے کہ جب بھی کہیں ایسی کاروائی نظر آئے تو ہمیشہ کٹھ پتلیوں کو چلانے والے پس پردہ مغربی ہینڈلرز کا مقصد سمجھنے کی کوشش ضرور کیا کیجئے۔



Post a Comment

0 Comments