Sir Ganga Ram Ki Dastan

 

ایک انجینئر، ایک انسان: سر گنگا رام کی داستان

19ویں صدی کے وسط میں، پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں مانگٹاں والا میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام گنگا رام تھا۔ اس کے خاندان میں کوئی بڑا نام یا دولت نہیں تھی، لیکن اس کے اندر کچھ کر دکھانے کی لگن ضرور موجود تھی۔ بچپن سے ہی اسے تعمیر اور ایجادات کا شوق تھا، اور اس کے والد نے اس کے اس شوق کو پروان چڑھایا۔ اس نے اپنی تعلیم تھامسن کالج آف سول انجینئرنگ (جو اب انڈین انسٹی ٹیکنالوجی رُڑکی ہے) سے حاصل کی، اور اپنی ذہانت کی وجہ سے جلد ہی ایک بہترین انجینئر کے طور پر جانا جانے لگا۔

اس نے برطانوی حکومت کے لیے بطور سول انجینئر کام کرنا شروع کیا، اور جلد ہی اس کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ اس نے نہ صرف حکومت کے لیے، بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی کام کرنا اپنا فرض سمجھا۔ اس کا سب سے بڑا مقصد لاہور شہر کو ایک جدید اور خوبصورت شہر بنانا تھا۔ اس کے ڈیزائن کردہ منصوبے آج بھی لاہور کی پہچان ہیں۔ لاہور کا جنرل پوسٹ آفس، عجائب گھر، ایچیسن کالج، میو سکول آف آرٹس اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ، یہ سب اس کی ذہانت کے شاہکار ہیں۔ اس نے صرف خوبصورت عمارتیں ہی نہیں بنائیں بلکہ ایسی عمارتیں بنائیں جو وقت کے امتحان میں کھری اتریں اور آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔



سر گنگا رام صرف ایک انجینئر نہیں تھے، بلکہ ایک عظیم انسان دوست بھی تھے۔ انہوں نے اپنی کمائی کا بڑا حصہ غریبوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کیا۔ انہوں نے لاہور میں اپنے ذاتی خرچ سے سر گنگا رام ہسپتال، لاہور کالج فار ویمن (جو اس وقت سر گنگا رام گرلز اسکول تھا)، اور ادارۂ بحالی معذوراں جیسے کئی فلاحی ادارے قائم کیے۔ وہ جانتے تھے کہ تعلیم اور صحت کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے بنیادی ستون ہیں۔

1925ء میں انہیں امپیریل بینک آف انڈیا کا صدر بنایا گیا، اور اسی دوران انہوں نے گنگا رام ٹرسٹ قائم کیا تاکہ ان کی فلاحی خدمات ان کی وفات کے بعد بھی جاری رہیں۔

سر گنگا رام کی وفات 1927ء میں لندن میں ہوئی۔ ان کی وصیت کے مطابق، ان کے جسم کو جلایا گیا اور اس کی آدھی راکھ مقدس دریائے گنگا میں بہا دی گئی، جبکہ باقی آدھی راکھ کو لاہور میں دریائے راوی کے کنارے ان کی سمادھی میں دفن کیا گیا۔ یہ ان کی زندگی کے اصولوں کا بہترین نمونہ تھا، جو اس بات کی علامت تھا کہ وہ اپنے آبائی وطن اور اپنی محنت سے تعمیر کیے گئے شہر سے کتنا گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔

سر گنگا رام کو ان کی بے مثال خدمات پر برطانوی حکومت نے "رائے بہادر" اور "سر" کے خطابات سے نوازا۔ لیکن ان کا اصل اعزاز وہ محبت اور احترام ہے جو آج بھی لاہور اور دہلی میں موجود ان کے بنائے ہوئے اداروں میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔



Post a Comment

0 Comments