The Vulture and the Little Girl

گدھ اور بچی

 سوڈان کے خشک اور تپتے ہوئے صحرا میں، جہاں زندگی کی رمق ڈھونڈنا بھی محال تھا، ایک چھوٹی سی بچی اپنی آخری سانسیں گن رہی تھی۔ اس کا جسم بھوک اور پیاس سے نڈھال تھا، جلد ہڈیوں سے چپک چکی تھی اور آنکھوں میں زندگی کی چمک ماند پڑ چکی تھی۔ وہ کسی طرح رینگتی ہوئی ایک اقوام متحدہ کے امدادی کیمپ تک پہنچنا چاہتی تھی، جہاں اسے شاید پانی اور کھانا مل جاتا، مگر اس کے جسم میں اتنی سکت نہ تھی کہ وہ مزید ایک قدم بھی اٹھا سکے۔



یہ 1993 کی بات ہے، جب سوڈان میں قحط اپنی بدترین شکل اختیار کر چکا تھا۔ ہزاروں لوگ بھوک اور بیماری سے مر رہے تھے، اور دنیا کو اس کی خبر بھی نہ تھی۔ ایسے میں، جنوبی افریقہ کا ایک فوٹوگرافر، کیون کارٹر، اس ہولناک صورتحال کی عکاسی کرنے کے لیے وہاں موجود تھا۔ وہ اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو انسانیت کے نام پر ایک دھبہ تھا، اور اس کا کیمرہ ان تمام المناک لمحات کو قید کر رہا تھا۔

ایک دن، جب وہ صحرا میں قحط زدہ لوگوں کی تصاویر لے رہا تھا، اس کی نظر ایک دل دہلا دینے والے منظر پر پڑی۔ ایک ننھی سی بچی، جو مشکل سے چار یا پانچ سال کی لگ رہی تھی، پیٹ کے بل رینگتی ہوئی آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کے جسم پر شاید ہی کوئی کپڑا تھا، اور اس کی کمر پر زخموں کے نشان تھے۔ لیکن جو چیز اس منظر کو مزید خوفناک بنا رہی تھی، وہ تھا بچی کے پیچھے بیٹھا ایک بڑا گدھ۔

گدھ، جسے موت کا پرندہ بھی کہا جاتا ہے، خاموشی سے بچی کے مرنے کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کی تیز نگاہیں بچی کے ہر حرکت پر تھیں، گویا وہ ایک لقمہ تر کا انتظار کر رہا ہو جو جلد ہی اس کی خوراک بننے والا تھا۔ کیون کارٹر یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے اپنے کیمرے کا لینس ایڈجسٹ کیا اور کئی تصاویر کھینچ لیں۔ اس نے تقریباً 20 منٹ تک اس منظر کو قید کیا، جس کے بعد وہ گدھ وہاں سے اڑ گیا۔

کیون کارٹر نے بعد میں اس تصویر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت ذہنی طور پر شدید دباؤ میں تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس بچی کی مدد کرے، اسے اٹھا کر کیمپ تک لے جائے، لیکن صحافتی اخلاقیات اسے ایسا کرنے سے روک رہی تھیں۔ اس کی دلیل تھی کہ اگر وہ ہر ایسے منظر میں مداخلت کرتا، تو وہ کبھی بھی دنیا کو اصل صورتحال سے آگاہ نہ کر پاتا۔ تاہم، اس کے اندر ایک کشمکش جاری تھی، ایک انسانیت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے درمیان جنگ۔

یہ تصویر 26 مارچ 1993 کو نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گئی۔ اس نے دنیا بھر میں ایک سنسنی پھیلا دی اور سوڈان کے قحط پر بین الاقوامی توجہ مرکوز کی۔ لوگ تصویر دیکھ کر دنگ رہ گئے، انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ انسانیت اس قدر بے بسی کی انتہا کو پہنچ سکتی ہے۔ اس تصویر پر کیون کارٹر کو 1994 میں فوٹوگرافی کے سب سے بڑے اعزاز، پولٹزر انعام سے نوازا گیا۔

لیکن یہ انعام کیون کارٹر کے لیے خوشی نہیں لا سکا۔ بلکہ، یہ اس کے لیے ایک عذاب بن گیا۔ اسے دنیا بھر سے ہزاروں خطوط اور کالز موصول ہوئیں، جن میں لوگ پوچھ رہے تھے کہ "اس بچی کا کیا ہوا؟ کیا کیون نے اسے بچایا؟" صحافتی حلقوں میں اس پر شدید تنقید ہوئی کہ اس نے ایک مرتی ہوئی بچی کی مدد کرنے کے بجائے اس کی تصویر کیوں کھینچی۔ کچھ لوگوں نے اسے "گدھ" کا لقب دے دیا، جو اس بچی کی موت کا انتظار کر رہا تھا۔

یہ تمام تنقید، اس کے اپنے اندر کا احساس جرم، اور جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے دوران دیکھے گئے ہولناک مناظر نے اسے شدید ڈپریشن میں دھکیل دیا۔ وہ راتوں کو سو نہیں پاتا تھا، اسے بچی اور گدھ کا منظر بار بار دکھائی دیتا تھا۔ اس کی روح پر ایک ناقابل برداشت بوجھ تھا۔ بالآخر، 27 جولائی 1994 کو، یعنی پولٹزر انعام جیتنے کے صرف دو ماہ بعد، کیون کارٹر نے اپنی گاڑی میں خودکشی کر لی۔ اس نے ایک نوٹ چھوڑا جس میں اس نے اپنی مایوسی اور زندگی کے بوجھ کا ذکر کیا تھا۔

کیون کارٹر کی کہانی انسانی تاریخ کی ایک المناک داستان ہے، جو ہمیں کئی گہرے سوالات پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے:

کیا ایک صحافی کو صرف واقعات کی عکاسی کرنی چاہیے، یا اسے انسانیت کے نام پر مداخلت بھی کرنی چاہیے؟

کیا ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر ہے، یا اس کی قیمت ایک انسانی جان سے زیادہ ہے؟
کیا دنیا نے اس بچی کی مدد کرنے کے بجائے صرف اس کی تصویر پر واہ واہ کی؟

Post a Comment

0 Comments