برطانوی راج میں لاہور کی سڑکیں اور عمارتیں
لاہور کی نئی بنیادیں
1849ء میں جب انگریزوں نے سکھوں سے تختِ لاہور چھینا، تو انہوں نے شہر کو اپنے طرز پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1857ء کی بغاوت کے بعد ان کے عزائم مزید پختہ ہو گئے اور انہوں نے فصیل کے باہر ایک نئے اور جدید لاہور کی بنیادیں ڈالیں تاکہ شہر کو عسکری اور انتظامی اعتبار سے کنٹرول کیا جا سکے۔ اس نئے لاہور کی سب سے اہم شریان تقریباً سات کلومیٹر لمبی مال روڈ تھی جس کی بنیاد 1851ء میں رکھی گئی تھی۔ اس کا نقشہ اور تعمیر کا ذمہ دار سول انجینئر لیفٹیننٹ کرنل نیپئر تھا، جسے بعد میں اس کے کام کے اعتراف میں سر رابرٹ نیپئر کا خطاب دیا گیا۔ اسی روڈ پر گورنر ہاؤس بھی بنایا گیا اور اس کے دائیں بائیں کئی اہم سڑکیں نکالی گئیں جو پورے نئے شہر کو آپس میں ملاتی تھیں۔ لاہور ریلوے سٹیشن 1859ء میں قائم ہوا اور اسے بھی سڑکوں کے ذریعے مال روڈ سے جوڑا گیا۔
تاریخی سڑکیں اور ان کے معمار
نئے لاہور کی ہر سڑک کسی نہ کسی اہم برطانوی شخصیت کے نام پر تھی۔ چیف کورٹ آف پنجاب (اب لاہور ہائیکورٹ) کے پہلو میں فین روڈ ہے، جو سر ہنری فین کے نام سے منسوب ہے، جو برٹش ہندوستان میں آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والا ایک طاقتور کمانڈر ان چیف تھا۔ ہائیکورٹ کے عقب میں ایک چھوٹی سڑک اب بھی ٹرنر روڈ کہلاتی ہے جو الوین ٹرنر کے نام سے منسوب ہے، جو برٹش دور کا ایک نامور وکیل اور جج تھا۔
مال روڈ پر ریگل چوک کے قریب بائیں ہاتھ ہالز روڈ آتی ہے۔ اس کا نام دراصل چار بڑے ہالز کی وجہ سے پڑا جو یہاں نمائشوں اور عوامی اجتماعات کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ ہال ختم ہوکر کمرشل عمارتوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور آج یہ الیکٹرانکس کی بڑی مارکیٹ ہے۔ ہالز روڈ کے ساتھ ہی بیڈن روڈ ہے، جسے سر سیسل بیڈن کے نام پر رکھا گیا جو بنگال کا لیفٹیننٹ گورنر تھا۔ اس نے 1857ء کی بغاوت کو دبانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
چیئرنگ کراس جو اب فیصل چوک ہے، لندن میں واقع اسی نام کے چوک کی طرز پر بنایا گیا تھا اور اس کا نام بھی یہی رکھا گیا تھا۔ یہاں برطانوی سلطنت کی طاقت کی علامت کے طور پر ملکہ وکٹوریہ کا ایک بڑا مجسمہ نصب تھا جو آج موجود نہیں۔ اس کے سامنے قرطبہ چوک جانے والی سڑک بظاہر اسی مجسمے کی مناسبت سے کوئنز روڈ کہلاتی تھی، جہاں برطانوی افسران اور امراء کی رہائش گاہیں تھیں۔
مال روڈ سے ایک اور اہم سڑک میکلوڈ روڈ ہے، جو سر ڈونلڈ فرائل میکلوڈ کے نام سے منسوب کی گئی۔ میکلوڈ نے لاہور میں کافی ترقیاتی کام کیے، جن میں اورینٹل کالج کی بنیاد ڈالنا بھی شامل ہے۔ اس کا بڑا کتب خانہ اس کی موت کے بعد پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری کا حصہ بنا۔ لاہور ریلوے سٹیشن کی تعمیر میں بھی اس کا اہم حصہ تھا۔
نظام کی علامتیں
میکلوڈ روڈ پر جہاں لاہور ہوٹل ہے، ایک سڑک نکلسن روڈ اس سے پھوٹتی ہے جو قلعہ گجر سنگھ کی طرف سے ایمپریس روڈ جاتی ہے۔ نکلسن روڈ کو جون نکلسن کے نام سے منسوب کیا گیا، جو ایسٹ انڈیا کمپنی کا ایک سخت گیر اور آئرش فوجی افسر تھا۔ نکلسن 1857ء کی بغاوت میں دہلی میں مارا گیا تھا۔ اس کے نام سے سڑک کا نام رکھنا بغاوت کو کچلنے میں اس کے کردار کا اعتراف تھا۔ ایمپریس روڈ خود ملکہ وکٹوریہ کے نام سے منسوب تھی اور یہ شملہ پہاڑی سے ریلوے سٹیشن کو جانے والی اہم سڑک تھی۔ اسی پر ریلوے ہیڈ کوارٹرز بھی قائم کیے گئے تھے۔
ایجرٹن روڈ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر رابرٹ ایجرٹن کے نام پر تھی اور اسی روڈ پر واقع فلیٹیز ہوٹل ایک اطالوی تاجر انڈریا فلیٹی نے 1880ء میں قائم کیا تھا۔ یہ ہوٹل برطانوی افسروں اور امراء کے لیے ایک اہم مرکز بن گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح سمیت عالمی شخصیات جیسے مارلن برانڈو اور ایوا گارڈنر بھی یہاں مقیم رہے۔
ڈیوس روڈ شملہ پہاڑی سے اپر مال روڈ کو ملاتی ہے اور یہ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر رابرٹ ہنری ڈیوس کے نام پر تھی جو 1871ء میں گورنر پنجاب تھا۔ وہ ویلز سے تعلق رکھتا تھا اور اس نے لاہور چڑیا گھر اور میو سکول آف آرٹس (موجودہ این سی اے) کا ادارہ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
میو ہسپتال بھی ایک اور اہم شخصیت سر لارڈ میو کے نام سے منسوب ہے، جو 1869ء سے 1872ء تک ہندوستان کا وائسرائے یعنی گورنر جنرل رہا۔ لارڈ میو کا اصل نام رچرڈ ساؤتھ ویل بورک تھا اور وہ آئرلینڈ کی میو ریاست کا چھٹا ایرل تھا۔ اس کا عہدہ اور زندگی انڈیمان کے دورے پر وہاں سزا کاٹنے والے ایک آفریدی پٹھان کے ہاتھوں اس کے قتل کے ساتھ ختم ہوئی۔
لاہور کی دیگر سڑکیں بھی اسی طرح اہم برطانوی افسران کے نام پر تھیں، جیسے فوجی افسر چیمبرلین کے نام پر بنی سڑک جو مسجد مائی لاڈو کو سرکلر روڈ سے ملاتی ہے، ڈپٹی کمشنر برانڈرتھ کے نام پر برانڈرتھ روڈ، لیفٹیننٹ گورنر پنجاب سر رابرٹ منٹگمری کے نام پر منٹگمری روڈ، کمشنر لاہور کے نام پر کوپر روڈ جہاں خواتین کا کالج اب بھی موجود ہے، اور چیف کمشنر پنجاب سر جون لارنس کے نام پر بنی سڑک جو ریگل چوک سے چائنہ چوک کو ملاتی ہے اور جس پر لارنس گارڈن بھی موجود ہے۔ یہ تمام سڑکیں برطانوی راج کی طاقت اور اثر و رسوخ کی زندہ مثالیں ہیں۔

0 Comments