نااتفاقی کا انجام
یہ سنتے ہی بی لومڑی نے کہا”لعنت ہو تمہاری سمجھ پر۔تم ایسے خوبصورت پرندے ہو کر دن بھر اوروں کے لئے کیوں مصیبت جھیلتے ہو؟دیکھو وہ دونوں تو چین سے گھر بیٹھے رہتے ہیں اور تم یوں مارے مارے پھرتے ہو۔ان سے اتنا بھی نہیں ہوتا کہ باری باری کام کریں۔
ایک دن چوہا لکڑیاں لائے۔
دوسرے دن مکھی اور تیسرے دن تم“۔یہ کہہ کر لومڑی تو چلی گئی۔مگر اتفاق سے بنے بنائے گھر میں نفاق کا بیج بو گئی۔چڑا بے وقوف ایسا بگڑا کہ اس نے شام کو لکڑیاں لا کر ایک طرف پھینک دیں اور خود منہ پھلا کر ایک کونے میں پڑا رہا۔چوہے اور مکھی نے کھانا پکایا۔جب دسترخوان بچھا تو چڑے کو کھانے پر بلایا گیا۔چڑے نے کہا“نہیں․․․․میں نہیں کھاتا۔مجھ سے یہ روز روز کا دھندا نہیں ہوتا۔میری جان مفت کی نہیں ہے کہ میں اکیلا ہی باہر کے سارے کام کروں اور تم دونوں چین سے بیٹھے رہو“۔
بڑی تُو تُو میں میں کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ کل سے چوہا لکڑیاں لائے گا مکھی کھانا پکائے گی اور چڑا پانی بھرے گا۔صبح ہوئی تو مکھی کھانا پکانے کے لئے گھر رہی چڑا پانی بھرنے گیا اور چوہے میاں لکڑیاں لینے چلے گئے۔مگر ابھی چوہے میاں دس قدم بھی نہیں چلے تھے کہ ایک بلی نے انہیں دبوچ لیا۔چڑے میاں پانی بھرنے گئے تو اُن کا پاؤں پھسلا اور وہ کنویں میں جا گرے۔اُدھر مکھی نے بچی کھجی لکڑیاں چولہے میں رکھ کر آگ جلائی تو ایک چنگاری اُڑ کر اس پر پڑی اور وہ بھی جل مری اور یوں ان کی بے اتفاقی سے بسا بسایا گھر تباہ ہو گیا

0 Comments