مغرور بادشاہ کا انجام
”حضور!السلام علیکم!آپ کا یہ ادنیٰ غلام آپ کی خدمت میں آداب عرض کرتا ہے۔“اس نے جھک کر بادشاہ سلامت کو سلام پیش کیا اور بلند آواز میں بولا۔”ہاں تو برہان الدین!میں کہہ رہا تھا․․․․“بادشاہ سلامت نے ایک نظر اس کی طرف دیکھ کر ہاتھ کے اشارے سے اس کے سلام کا جواب دیا اور پھر دائیں پہلو میں بیٹھے اپنے وزیر یا تدبیر برہان الدین کی طرف متوجہ ہو گیا۔
بادشاہ سلامت کی اس بے رخی پر اسے حیرت و تعجب کا ایک زور دار جھٹکا لگا۔
”بادشاہ سلامت اس وقت مصروف ہیں۔شاید اس لئے توجہ نہیں کی“اس نے سوچا اور دربار کے ایک کونے میں کھڑا ہو گیا۔بادشاہ سلامت اپنے وزیر سے کافی دیر تک گفتگو کرتے رہے۔وہ بے چین اور منتظر نگاہوں سے بادشاہ سلامت کی طرف دیکھ رہا تھا۔
”کہ شاید بعد میں وہ اس کی طرف متوجہ ہوں“ اُس نے سوچا۔
”کوئی اور فریادی تو باقی نہیں ہے؟“بادشاہ سلامت وزیر سے گفتگو مکمل کر چکے تو سوالیہ نظروں سے دروازے پر کھڑے منادی کی طرف دیکھا۔
”نہیں حضور!․․․․“منادی نے عرض کیا۔
”ٹھیک ہے!دربار برخواست کیا جاتا ہے“بادشاہ سلامت کی بارعب آواز دربار میں گونجی۔تمام درباری دروازے کا رخ کرنے لگے۔
”اوہ․․․․!تو یہ بات تھی۔
حضور!مجھ سے اکیلے میں ملاقات کرنا چاہتے تھے۔“اس نے دل ہی دل میں سوچا اور وہ دروازے سے گزرتے ہوئے درباریوں کو دیکھتا رہا۔یہاں تک کہ تمام دربار خالی ہو گیا۔بادشاہ سلامت اپنے تخت سے اٹھے اور دروازے کی طرف بڑھے ان کے ساتھ وزیر یا تدبیر اور خدام بھی تھے۔وہ بھی دروازے کے پاس ہی کھڑا تھا۔بادشاہ سلامت نے گزرتے ہوئے آنکھ اٹھا کر بھی اس کی طرف نہیں دیکھا اور باہر نکل گئے۔
وہ ہکا بکا انہیں جاتے دیکھتا رہا۔اسے ان سے کم از کم یہ امید نہ تھی۔جب تک بادشاہ سلامت نظروں سے اوجھل نہ ہو گئے اس نے ان سے نظریں نہ ہٹائیں پھر وہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے دروازے کی طرف بڑھا۔مارے غم و غصے کے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔باہر اس کا گھوڑا بندھا ہوا تھا۔وہ گھوڑے پر سوار ہوا اور اس کو ایڑ لگا دی۔کچھ ہی دیر بعد اس کا گھوڑا ہوا سے باتیں کر رہا تھا۔
وہ اپنے ملک یونان کا شاہی طبیب تھا۔اس کا نام حکیم داؤد تھا۔وہ بہت ہی قابل اور ذہین آدمی تھا۔یونان کے بادشاہ سلامت سمیت ہر آدمی اسے بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔تقریباً ایک سال قبل اچانک اس کے پڑوسی ملک کا بادشاہ گھوڑے سے گر پڑا جس سے اس کی گردن کے مہرے سرک گئے اور بادشاہ اپنی گردن ہلانے سے قاصر ہو گیا۔اس کی گردن اکڑ کر رہ گئی تھی۔
اس کے ملک کے شاہی طبیبوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بادشاہ کی گردن کے مہرے واپس اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں مگر وہ ناکام رہے۔بادشاہ بے حد تکلیف میں تھا۔اکڑی ہوئی گردن کے ساتھ اس کے لئے ایک ایک لمحہ گزارنا بھاری ہو رہا تھا۔ان دنوں یہ یونانی حکیم داؤد اس پڑوسی ملک میں اپنے ایک دوست حکیم کو ملنے آیا ہوا تھا۔اس کو بادشاہ سلامت کی بیماری کی خبر ملی تو وہ دربار میں حاضر ہوا۔
”حضور!دہکتے ہوئے انگارے منگوائیے․․․․“اس نے عرض کیا۔
بادشاہ سلامت نے ایک خادم کو ہاتھ سے اشارہ کیا کچھ ہی دیر بعد وہ خادم دہکتے ہوئے انگارے لیے حاضر ہو گیا۔حکیم داؤد نے اپنے تھیلے سے چند بیج نکالے اور انگاروں پر ڈال دیئے۔چند لمحوں بعد بیج جلنے لگے۔اور دھواں اُٹھنا شروع ہوا۔
”حضور!جلدی سے ایک زور دار سانس لیجئے․․․․․!“اس نے چلا کر کہا بادشاہ سلامت نے جیسے ہی زور دار سانس لیا۔
دھواں ناک میں داخل ہونے کی وجہ سے بادشاہ سلامت کو ایک زور دار چھینک آئی۔اور مہرے اپنی جگہ واپس آگئے۔
”آہا․․․․میری گردن ٹھیک ہو گئی․․․․․“بادشاہ سلامت نے جیسے ہی اپنی گردن ہلائی مارے خوشی کے وہ چلا اُٹھے۔
”مانگ اے پردیسی طبیب!کیا مانگتا ہے․․․․․؟“بادشاہ سلامت نے پُرجوش لہجے میں پوچھا۔
”حضور!خدا کا دیا ہوا اس غلام کے پاس سب کچھ ہے۔آپ ہمارے ملک یونان کے بادشاہ کے دوست ہیں بادشاہ یونان اس
خادم کو دوست رکھتے ہیں۔اور دوست کا دوست بھی دوست ہوتا ہے۔
”احسان․․․!یہ تھیلی پڑوسی ملک کے بادشاہ کو دے آؤ۔اسے میرا سلام کہنا۔اور کہنا کہ یونانی حکیم داؤد کی طرف سے یہ قبول فرمائیے۔“اس نے اپنے وفادار غلام کو وہ تھیلی تھماتے ہوئے کہا تھا۔غلام تھیلی لے کر اس بادشاہ سلامت کی خدمت میں پہنچا۔
”حضور!ہمارے ملک یونان کے مایہ ناز شاہی حکیم داؤد نے یہ نذرانہ آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے۔
”السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ!
حضور کا اقبال بلند ہو!
عالی جاہ․․․․!یہ چند بے حد قیمتی بیج ہیں جو میں نے برسوں کی محنت و تلاش کے بعد حاصل کئے ہیں۔آپ دہکتے ہوئے انگاروں پر ان کو جلا کر ان کی دھونی لیجئے۔
والسلام حکیم داؤد یونانی
بادشاہ سلامت نے حیرت و تعجب سے ان بیجوں کی طرف دیکھا۔وہ بالکل ایسے ہی بیج تھے۔جیسے اس حکیم نے ان کی گردن کا علاج کرتے ہوئے استعمال کیے تھے۔
بادشاہ سلامت نے دہکتے ہوئے انگارے منگوائے اور بیج ان پر ڈال دیئے۔جیسے ہی بادشاہ نے دھونی لینے کے لئے اپنی ناک آگے کی اسے ایک زور دار چھینک آئی۔
”اس گستاخ غلام کو پکڑ لو!اور جاؤ!اس کے گستاخ آقا حکیم داؤد یونانی کو ہمارے حضور بیڑیوں میں جکڑ کر حاضر کرو․․․․․آ․․․․ہ․․․․․!“بادشاہ کراہ کر رہ گیا۔کیونکہ گرج دار آواز میں سپاہیوں کو حکم دیتے ہوئے اس نے اپنی گردن کو ذرا سی حرکت دی تھی۔
بادشاہ سلامت کا حکم پاتے ہی سپاہی حکیم کو گرفتار کرنے کے لئے ملک یونان کی طرف دوڑے۔حکیم کے مطب پر الو بول رہے تھے۔جب کہ حکیم کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔سپاہی نے ملک یونان کا کونا کونا چھان مارا لیکن حکیم کہیں نہ ملا۔سپاہی مایوس واپس لوٹ آئے۔یوں اس مغرور بادشاہ کو اپنے غرور و تکبر کی سزا مل گئی۔اب وہ پچھتا رہا تھا۔
”کاش․․․․!میں تکبر میں آکر اپنے محسن حکیم داؤد سے بے رخی نہ برتتا۔اور احسان کا بدلہ احسان سے دیتا۔کاش․․․․․․
یہ غلام دوستوں سے معاوضہ نہیں لیتا․․․․․آداب․․․․!“اتنا کہہ کر وہ دربار سے رخصت ہو گیا۔بادشاہ سمیت تمام درباری حیرت و تعجب کا بت بنے اسے تک رہے تھے۔وہ اپنے ملک یونان واپس آ گیا۔آج ایک سال بعد اس کا پھر اس پڑوسی ملک میں آنا ہوا تھا۔اسے ایک جڑی بوٹی کی تلاش تھی۔اور وہ جڑی بوٹی صرف اس ملک کے جنگلات میں پائی جاتی تھی۔
اپنی مطلوبہ جڑی بوٹی تلاش کرنے کے بعد اس کے ذہن میں خیال آیا۔چلو!لگے ہاتھوں بادشاہ سلامت سے ہی مل لیتے ہیں۔ذرا حال و احوال جان لیتے ہیں۔وہ بڑے ہی اشتیاق سے دربار میں حاضر ہوا تھا۔لیکن اس مغرور بادشاہ نے اس سے جو بے رخی کا برتاؤ کیا تھا۔اس سے اس کا دل ٹوٹ گیا تھا۔اسے بادشاہ سلامت سے کم از کم اس سلوک کی امید نہ تھی۔
بادشاہ نے اس کے احسان کا بدلہ بہت ہی برے طریقے سے دیا تھا۔
اس کے ذہن میں آندھیاں سی چل رہی تھیں۔نظر انداز کیا جانا بہت ہی تکلیف دہ ہوتا ہے۔دل و دماغ میں آتش فشاں سے پھٹنے لگتے ہیں۔وہ بھی اسی تکلیف سے گزر رہا تھا۔اسے پتہ ہی نہ چلا کب اس کا سفر تمام ہوا اور وہ اپنے ملک پہنچ گیا۔اس نے اس مغرور بادشاہ کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔گھر جاتے ہی وہ اپنے مخصوص کمرے میں گھس گیا۔جس میں بیٹھ کر وہ دوائیاں بنایا کرتا تھا۔
کافی دیر کے بعد وہ کمرے سے نکلا تو اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سے تھیلی تھی۔
“غلام نے تھیلی بادشاہ سلامت کو دیتے ہوئے کہا۔بادشاہ نے تھیلی کھولی تو اس میں چند بیج اور ساتھ ہی ایک خط تھا۔اس میں لکھا ہوا تھا۔
انشاء اللہ!آپ کو حیرت انگیز فائدہ ہو گا۔“
اور اس کی گردن کے مہرے اپنی جگہ سے سرک گئے۔اب اس کی گردن اکڑ کر رہ گئی۔یہ سب کچھ اس قدر آناً فاناً ہوا کہ سب دنگ رہ گئے۔

0 Comments