Novel Maan Ki Qurbani(ماں کی قربانی)

ماں کی قربانی

گوپال آج بجلی کی سی تیزی سے کام کر رہا تھا۔ وہ اسٹیل کی چھوٹی سی سیڑھی کے بولٹ کھولنے میں مصروف تھا۔ سیڑھی پیراک کے تالاب میں غوطہ خوری والے حصے میں لگی ہوئی تھی، جو نو فٹ گہرا تھا۔ اس وقت زمین سے پانی کی سطح تقریباً سات فٹ اونچی تھی اور اوپر سے دو فٹ نیچے۔ سیڑھی کا اندرونی حصہ پانی سے صاف دکھائی دیتا تھا۔ تالاب کے دوسری طرف ایک سیڑھی اور بھی لگی ہوئی تھی، جسے وہ پہلے ہی نکال کر اسٹور میں رکھ چکا تھا۔وہ بہت ہی کمینہ شخص ہے۔ اس نے ایک لمحے کے لیے نظریں اپنی نوجوان اور نہایت حسین و جمیل پتنی سرگم پر مرکوز کر کے خود کلامی کی۔ تبھی سندر چیز اس کے ہاتھ لگی۔ وہ اسے اپنے باپ کا مال سمجھ کر لے جائے گا، اس لیے میں بیشتر چیزیں جتنا جلد ہو سکے اس کی نظروں کے سامنے سے ہٹانا چاہتا ہوں۔کیا وہ مکان کے اندر گھس نہیں آئے گا؟ مرگم نے فکر مندی سے کہا۔ یہ جو بڑی بڑی کھڑکیاں؟ہاں، گوپال نے اسے بات پوری کرنے نہیں دی۔ کھڑکیوں پر بھروسا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، اب یہ سیڑھی بھی نکل آئے گی۔ایک منٹ گوپال، اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو میں ایک اور غوطہ لگالوں؟ اپنے پیارے دوست اور ساتھی تالاب میں ایک اور غوطہ…نہیں، ابھی نہیں۔ جلدی سے پیکنگ کا کام مکمل کر لو۔ ہمارے لیے لمحہ لمحہ قیمتی ہے۔ یہ سیڑھی فی الحال چھوڑے دیتا ہوں۔ ہمیں جیسے ہی وقت ملے، اپنی خواہش پوری کر لینا۔شاید مجھے اپنی زندگی میں تو کیا، سینے میں بھی ایسا تالاب نصیب نہ ہو۔ سرگم نے افسردگی سے گہرا سانس لیا۔ کیا ہم یہاں سے طویل مدت کے لیے روپوش ہو رہے ہیں، جانی؟میں قطعی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اگر ہم اس کالونی میں لوٹ آتے ہیں، تب بھی اس جگہ نہیں آئیں گے۔اس بات کا مجھے اندازہ ہے۔ اس کے سینے میں سرد سانسوں کا غبار بھر گیا۔ کاش ایسا نہیں ہوتا۔گوپال نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے، اس کا مرمریں ہاتھ تھام لیا اور اُسے سہارا دیتے ہوئے مکان کی طرف چل دیا۔ ان کا مکان پونا کے اطراف میں پھیلی ہوئی سر سبز و شاداب پہاڑیوں میں ایک خطرناک گھاٹی کے قریب، مین روڈ سے دور اندر کی جانب تھا۔ہم جلدی سے پیکنگ کا کام نمٹا لیں، لیکن یہ بات ذہن میں رکھنا کہ ہمیں پانچ بجے سے پہلے ایئرپورٹ پہنچنا ہے۔ اور ہاں، صرف دو بڑے بیگوں میں بے حد ضروری چیزیں رکھ لینا۔ کوئی فالتو چیز لے جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں اپنا دیرینہ ٹائپ رائٹر بھی چھوڑے جا رہا ہوں۔کیا تم مجھے اب بھی نہیں بتاؤ گے کہ معاملہ کیا ہے؟ ہم یہاں سے اس طرح پراسرار انداز سے کیوں فرار ہو رہے ہیں؟ اتنا تو مجھے بھی اندازہ ہو رہا ہے کہ ہم کسی سے ڈر کر بھاگ رہے ہیں۔ آخر وہ ہے کون؟ تمہارے ناشر کا خط، جو کوریئر سروس سے صبح ملا ہے، اس میں کیا لکھا ہے؟ کیا تم اس کا متن نہیں بتلاؤ گے؟ چھپ کیوں رہے ہو؟میریوں کو لکھت پہنچنے سے پہلے کچھ نہیں بتاؤں گا۔ گوپال نے اس کا گال تھپتھپایا۔ ہم یہاں سے جتنی جلدی چلے جائیں، اتنا ہی اچھا ہو گا۔ یہ ہمارے حق میں بہتر ہے۔ ہماری زندگی ان پرندوں جیسی ہے، جو موسم کی تبدیلی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے ہیں۔اس دوران وہ مکان میں داخل ہو گئے۔ سرگم متفکر ہونے کے ساتھ خوف اور تشویش میں بھی مبتلا ہو گئی تھی۔
☆☆☆



سڑک کے دونوں سمتوں میں دو دو فٹ کے اونچے ستون بنے ہوئے تھے۔ ان میں ایک زنجیر بھی جھول رہی تھی، جس کے درمیان ایک بڑا سا قفل لگا ہوا تھا۔ ایک ستون پر ایک تحریر آویزاں تھی:بغیر اجازت داخلہ ممنوع ہے۔ گوپال شرمااسی وقت ایک بڑی گاڑی آ کر رکی۔ گاڑی چلانے والا شخص ادھیڑ عمر، بھاری بھرکم اور دراز قد تھا۔ اس نے دھوپ کا چشمہ پہن رکھا تھا۔ اس نے چشمہ اتار کر گرد و پیش کا جائزہ لیا، جیسے اچھی طرح سے اپنا اطمینان کر لینا چاہتا ہو۔ جب اسے یقین ہو گیا، تو وہ اپنے نوجوان ساتھی سے مخاطب ہوا کہ یہ وہی جگہ ہے نا وشواناتھ، بالآخر ہم نے پروفیسر کو تلاش کر ہی لیا۔نوجوان نے اس کی بات کا جواب دینے سے پہلے سگریٹ کا گہرا کش لیا، پھر بولا کہ حیرت کی بات ہے کہ اتنی دور افتادہ جگہ، کچی سڑک، بلند بالا درختوں کی بھرمار، گھنی جھاڑیاں اور خطرناک گھاٹی کا آخری سرا۔ شاید پروفیسر نے اس جگہ کا انتخاب اس لیے کیا کہ لوگوں سے واسطہ نہ پڑے اور اس کی زندگی سکون سے گزرے۔ کوئی دخل در معقولات نہ ہو۔ادھیڑ عمر شخص نے کہا کہ لیکن اس گھر سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ آج کل خوشحال اور آسودہ حال ہے۔ آسودہ حال لوگ ہی دور افتادہ جگہوں پر رہ کر زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں۔اس نے مزید بتایا کہ اس نے تین برس قبل جرم و سزا کے موضوع پر دو سنسنی خیز ناول لکھے تھے، جنہوں نے پورے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ اب تک ان کے چار ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں، اور ایک فلم ساز نے فلم بنانے کے لیے حقوق بھی خریدے ہیں۔ چند برس قبل اس نے ایک حسین و جمیل لڑکی سے شادی رچائی، جو ماضی میں مس ممبئی قرار پائی تھی۔ وہ اولمپک غوطہ خور ٹیم کی رکن بھی تھی اور اس نے پیراک مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔نوجوان نے کہا کہ مس ممبئی کو لوگ آج تک نہیں بھولے۔ مجھے آج بھی سب کچھ ایسے یاد ہے، جیسے کل کی بات ہو۔ شاید میں اسے برسوں تک نہ بھلا سکوں۔ادھیڑ عمر شخص نے پوچھا کہ کیا اس لیے کہ اس نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا؟ کانسی کے تمغے کی حیثیت ہی کیا ہے؟ لوگ تو گولڈ میڈل جیتنے والوں کو بھی بھول جاتے ہیں۔نوجوان نے سنجیدگی سے جواب دیا کہ نہیں، اس لیے نہیں۔ادھیڑ عمر شخص نے سوال کیا کہ پھر کس لیے؟ کیا کوئی خاص بات یا انفرادیت تھی اس میں؟نوجوان نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ وہ حسین بھی تو بہت تھی۔ یوں تو جواں سال لڑکیاں بڑی پرکشش ہوتی ہیں، لیکن اس میں ایک عجیب کشش تھی۔ وہ اتنی بولڈ تھی کہ مغربی اداکارہ مارلن منرو کو بھی مات دے دیتی تھی۔ اسی لیے تمام فلم ساز اسے اپنی فلم میں کاسٹ کرنا چاہتے تھے۔ امریکہ اور یورپ سے بھی فلموں میں کام کرنے کی لاکھوں ڈالر اور پاؤنڈ کی پیشکشیں ہوئیں، مگر اس نے کبھی اپنی آبرو کا سودا نہیں کیا۔ میں نے اس کی تصویروں کی البم بھی بنا رکھی ہے، جو اکثر دیکھتا رہتا ہوں۔ادھیڑ عمر شخص دل ہی دل میں مسکرایا۔ نوجوان نے بالکل ٹھیک کہا تھا۔ اس غوطہ خور حسینہ کی تصویریں خود اس کے پاس بھی موجود تھیں۔ وہ بھی اکثر اس البم کی ورق گردانی کرتا رہتا تھا۔نوجوان کی بات ختم ہوئی تو ادھیڑ عمر شخص گاڑی سے باہر آیا اور ٹہلتا ہوا زنجیر تک گیا۔ اس نے تالے کا اس طرح معائنہ کیا جیسے اسے کھولنا چاہتا ہو۔ پھر اگلے لمحے اس نے جیب سے ایک چھوٹا سا چاقو نکالا اور کسی ماہر نقب زن کی طرح تالا کھول لیا۔وہ بولا کہ تالے جتنے بڑے ہوتے ہیں، اتنی ہی جلدی کھل بھی جاتے ہیں۔نوجوان کھسک کر اسٹیئرنگ وہیل کی طرف گیا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ ادھیڑ عمر شخص نے زنجیر دوبارہ لگائی، پھر گاڑی میں سوار ہو گیا۔وہ مکان کے قریب پہنچے تو نوجوان کی نظر پیراک کے تالاب پر پڑی اور وہ لمحہ بھر کو ساکت سا رہ گیا۔ وہ بولا کہ کتنا حسین اور شاندار تالاب ہے، میں نے آج تک ایسا تالاب نہیں دیکھا۔ادھیڑ عمر شخص نے کہا کہ اپنی پتنی کی خواہش پوری کرنے کے لیے اس نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اُس نے اپنی بیوی کا سپنا پورا کیا۔ پھر اس نے چاروں سمت نگاہ دوڑاتے ہوئے کہا کہ لوگ خواہ مخواہ کہتے ہیں کہ پونا رہائش کے لیے بہترین جگہ ہے۔وشواناتھ نے بھی اطراف کا جائزہ لیا۔ چند لمحوں بعد اس نے گوپال کی گاڑی کی طرف اشارہ کیا، جس کی ڈِکی کھلی ہوئی تھی اور اس میں ایک سوٹ کیس نظر آ رہا تھا۔ اس نے کہا کہ ہم لوگ بروقت پہنچے ہیں۔انہوں نے اطلاعی گھنٹی بجانے کی ضرورت محسوس نہ کی اور بڑے اطمینان سے بغیر اجازت گھر میں داخل ہو گئے۔
☆☆☆

سرگم نے دوسرا بیگ بند کر کے اس پر تالا لگایا، پھر سامنے والے کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں کہا کہ گوپال، میرا کام پورا ہو گیا ہے۔ اب کوئی کام تو نہیں رہ گیا؟گوپال نے دوسرے کمرے سے جھانک کر اس کی طرف دیکھا، پھر کھڑکی پر نظر ڈالی۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے، ابھی ہمارے پاس ایک گھنٹہ ہے۔ تم چاہو تو دل بھرنے تک تالاب میں غوطے لگا سکتی ہو، پھر چل کر بینک کا کام نمٹائیں گے۔ کیا میں تمہارے لیے چائے یا کافی بنا دوں؟ تم تھکن تو محسوس نہیں کر رہیں؟سرگم نے جواب دیا کہ میں خود فریش لیموں کا جوس بنا کر لاتی ہوں۔ تم تھک گئے ہو گے۔یہ کہہ کر وہ اندرونی کمرے کی طرف چلی گئی۔ قریب ہی مشروبات کی الماری تھی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے اچانک کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔اس نے دیکھا تو سامنے صوفے پر ایک ادھیڑ عمر، موٹا اور بھدا سا شخص ٹانگیں پسارے بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک جام تھا اور قریب ہی تپائی پر بیئر کی بوتل کھلی رکھی تھی۔ وہ ایک گھونٹ پینے کے بعد بولا کہ ہیلو، مسز گوپال، کیا آپ میرا ساتھ دینا پسند کریں گی؟تم… تم کون ہو؟ سرگم کی آنکھیں خوف و دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس کے سارے جسم میں سرد لہر سی اتر گئی۔ تم بغیر اجازت چوروں کی طرح اندر کیسے گھس آئے؟میں ان تکلفات کا عادی نہیں ہوں۔ میرا نام بھوپت ہے۔ آپ کے پاس تو مشروبات کا بہت عمدہ اور نفیس ذخیرہ موجود ہے۔تم ابھی اور اسی وقت یہاں سے دفع ہو جاؤ، ورنہ میں پولیس کو بلاتی ہوں۔ سرگم نے اپنی بدحواسی پر قابو پاتے ہوئے کہا۔دو، کیا واقعی؟ وہ ایک بھونڈا سا قہقہہ مار کر ہنسا۔ میرا خیال ہے کہ آپ ایسا ہرگز نہیں کریں گی۔اچھا، تو تم دیکھنا چاہتے ہو؟ سرگم قریب رکھے ہوئے فون کی طرف بڑھی۔اس نے ریسیور اٹھایا ہی تھا کہ ایک مضبوط بازو نے اسے دبوچ لیا۔ خوف کے مارے اس کی چیخ گولے کی طرح اس کے حلق میں پھنس گئی۔ اسے اندازہ ہو گیا کہ اس شخص کی طاقت کے آگے کسی بھی قسم کی مزاحمت بے سود ہوگی۔ اس نے کسمساتے ہوئے ریسیور رکھ دیا۔ اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔یہ بازو ایک خوش شکل جوان مرد کا تھا، جو کارنس پر رکھی تصویر کو دیکھ رہا تھا۔ سرگم کے مرمریں جسم پر پیراک کا لباس تھا۔ اُسے اُن کی موجودگی کا احساس ہی نہیں ہوا تھا۔ گھر میں چونکہ صرف دونوں میاں بیوی رہتے تھے اور کسی کی آمد و رفت نہیں تھی، اس لیے وہ لباس کا زیادہ خیال نہیں رکھتی تھی۔دیوی جی… مس ممبئی! یہ تم ہم سے خوف کیوں کھا رہی ہو؟ تمہارے پوسٹ کارڈ اور ریلیئن پوسٹرز ہم بھولے نہیں ہیں۔ واقعی تم سیکڑوں میں نہیں، لاکھوں میں حسن و شباب کی دیوی ہو۔اچھا، تم کیا چاہتے ہو؟ وہ درمیان میں ہی تیزی سے بولی۔ وہ قریب رکھے دوسرے ٹیلی فون کی طرف کھڑی تھی۔ایک بات عرض کروں، چینی گڑیا؟ وشواناتھ نے کہا۔ واقعی تمہارا حسن لاجواب ہے۔ پروفیسر کی خوش ذوقی کی داد نہ دینا یقیناً زیادتی ہوگی۔انہیں چھوڑ دو، وشواناتھ۔ بھوپت نے کہا۔ ہمیں اپنی حسین میزبان سے بدسلوکی نہیں کرنی چاہیے۔ تحمل سے کام لو، جلدبازی کی ضرورت نہیں ہے۔ٹھیک کہتے ہو، وشواناتھ معنی خیز لہجے میں بولا۔ راہ و رسم اور تعلقات بڑھانے کے لیے بہت وقت پڑا ہے۔اس نے فوراً سرگم کو آزاد کر دیا تھا۔ پتا نہیں تم لوگ کیا چاہتے ہو؟ سرگم نے اپنی آواز کے ارتعاش کو سنبھال کر کہا۔ لیکن اتنا یاد رکھو کہ جو لوگ دوسروں کے گھروں میں اس طرح دندناتے ہوئے لٹیروں کی طرح گھس آتے ہیں، اس علاقے کی پولیس اُن کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتی۔آپ کی معلومات یقیناً بہت وسیع ہیں۔ بھوپت مسکراتے ہوئے بولا۔ لیکن مجھے اس معاملے میں شبہ ہے کہ آپ پولیس کی مداخلت پسند کریں گی۔ ویسے ہماری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ کیا خیال ہے پروفیسر؟سرگم نے اک دم سے پلٹ کر دیکھا۔ اس کے عقب میں گوپال کھڑا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر سرگم کے سہما ہوا سر اپنے ہاتھوں میں لیا، پھر سمجھانے کے انداز میں کہا کہ ہاں، درمیان میں پولیس کو نہ لاؤ۔ یہ سچ کہہ رہا ہے۔تم… ان لوگوں کو جانتے ہو؟ سرگم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔میں صرف بھوپت لال کو جانتا ہوں۔ ایک زمانے میں ہم ساتھ رہتے تھے۔دیکھا آپ نے، مسز گوپال؟ ہم دونوں ایک دوسرے کے پرانے شناسا ہیں۔ بات دراصل یہ ہے…بھوپت، تم خاموش رہو۔ میں خود ہی سب کچھ بتا دیتا ہوں۔ وہ تیزی سے بات کاٹ کر بولا۔تمہاری مرضی۔ بھوپت نے بے پروائی سے شانے اچکائے۔ عورتیں ویسے بھی بہت عقل مند ہوتی ہیں، یہ خود سمجھ جائیں گی۔کیا بات ہے، گوپال؟ سرگم کے لہجے میں تشویش تھی۔ اس کا چہرہ زرد ہو رہا تھا۔دیکھو سرگم، میں کولکتہ پہنچ کر سب کچھ بتانے والا تھا۔ یہی سبب تھا کہ تم سے ہمیشہ کھل کر گفتگو سے اجتناب کیا۔ بھوپت اور میں مدراس کی ایک جیل میں ساتھ رہتے تھے۔ پھر میں موقع پا کر وہاں سے فرار ہو گیا۔ یہ آٹھ برس پہلے کی بات ہے۔مس ممبئی، تمہارے پتی کو یہ سب کچھ تمہیں بتانے کا اس لیے بھی موقع نہیں ملا ہوگا کہ اسے تمہارے حسن کی کشش سے نکلنے کا ہوش ہی نہیں ہوگا۔ وشواناتھ نے چوٹ کی۔مسز گوپال، زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اور اس کی بکواس پر دھیان نہ دو۔ بھوپت نے اس کا زرد چہرہ دیکھتے ہوئے دلاسہ دیا۔ تمہارے پتی کا جیل جانا کوئی مجرمانہ واقعہ نہیں تھا۔مجھے بہت دکھ اور افسوس ہے سرگم، میں شرمندہ ہوں کہ تمہیں حقائق کا علم ان حالات میں ہوا۔ گوپال نے اس کا نرم و نازک ہاتھ محبت بھرے انداز میں دباتے ہوئے کہا۔ وہ پہلی بار اس کی بڑی بڑی نشیلی آنکھوں میں آنسوؤں کے موتی دیکھ رہا تھا۔کوئی بات نہیں، میرے من کے دیوتا، سرگم نے آنسو پیتے ہوئے کہا۔ میں تمہیں اچھی طرح جانتی ہوں کہ تم نے کبھی بھی کسی انسان کی جان نہیں لی ہوگی۔شکریہ سرگم، تم بہت پیاری ہو۔ گوپال نے کہا، پھر بھوپت سے مخاطب ہوا۔ تم یہاں کیسے پہنچے؟بھوپت نے جواب دینے سے پہلے اپنا گلاس دوبارہ بھرا، پھر ہاتھ بلند کرتے ہوئے بولا، اتفاق سے مجھے تمہاری بعض باتیں یاد تھیں۔ ان میں وہ باتیں بھی شامل تھیں، جو تم مجھے سنایا کرتے تھے۔ انہی باتوں کی جستجو نے مجھے تمہاری تلاش پر اکسایا۔ جب میں ضمانت پر رہا ہوا، تو میں نے وشواناتھ سے رابطہ کیا۔ لیکن ہم تلاش بسیار کے باوجود مشہور و معروف ناول نگار کو تلاش نہ کر سکے۔ پبلشرز نے بھی معذوری ظاہر کی۔ تمہاری نہ کوئی تصویر تھی، نہ ہی کوئی پتہ۔ ایک بالکل پراسرار شخصیت… بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اسرار محض پبلسٹی کے لیے قائم کیا گیا ہے، کہ اس نام کے کسی مصنف کا وجود ہی نہیں ہے۔ لیکن پیارے گوپال، بھلا میں تمہیں کیسے بھلا سکتا ہوں؟بھوپت نے گلاس خالی کر کے میز پر رکھ دیا۔ میں نے وشواناتھ کو تمہارے ناشر کی خوبصورت سیکریٹری کے پاس بھیج دیا۔ وشواناتھ عورتوں سے معاملات طے کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ اس نے سیکریٹری سے تمہارا اصل نام اور پتہ معلوم کر لیا۔ ہم نے ایک گاڑی پکڑی اور تمہاری خدمت میں حاضر ہو گئے۔ ہمیں یہ دیکھ کر واقعی خوشی ہوئی کہ تمہارے حالات خاصے بدل چکے ہیں۔میرے ناشر نے مجھے مطلع کر دیا تھا کہ اس کی سیکریٹری ایک نوجوان مرد کو میرے بارے میں بتا چکی ہے۔ گوپال نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ خیر، یہ بتاؤ کہ تم نے یہاں آنے کی زحمت کیوں کی؟ تم یہاں کیا کرنے آئے ہو؟ کیا پیسے کی ضرورت تمہیں یہاں لے آئی ہے؟دو پیسے؟ بھوپت نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔ وشواناتھ، جو پیانو کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس کی گفتگو توجہ سے سن رہا تھا۔ اس نے بے ڈھنگے پن سے پیانو کے کی بورڈ پر ہاتھ مارا، جس سے ایک بے ہنگم آہنگ فضا میں گونج اٹھا۔وہ پیسے؟ بھوپت سنجیدہ ہو کر کہنے لگا، وہ تو ہم دونوں کافی بنا سکتے ہیں۔ فی الوقت مسئلہ کچھ اور ہے۔ وشواناتھ کو گرمی برداشت نہیں ہوتی اور میں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہم دونوں فی الحال کسی پوشیدہ اور خاموش جگہ قیام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ تمہاری کوٹھی میں کافی جگہ ہے۔نہیں! سرگم فوراً بولی۔ اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ اس بات کے پیچھے کون سا جذبہ کار فرما ہے۔ یہ بھیڑیے رہائش کے بہانے انہیں بلیک میل کر کے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ وہ تلخی سے بولی، ہم لوگ باہر جا رہے ہیں۔جا نہیں رہے، جا رہے تھے۔ بھوپت نے تصحیح کی۔ تم لوگوں کا پروگرام تھا کہ ہماری آمد سے پہلے ہی کہیں غائب ہو جاتے۔ ٹھیک ہے، تمہارا منصوبہ دھر لیا گیا۔گوپال نے بادل نخواستہ اثبات میں سر ہلایا، پھر وہ سرگم سے مخاطب ہوا۔ آج ناشر کا خط آیا تو مجھے یقین ہو گیا تھا کہ کسی نے ضرور میرا نام اور پتہ ڈھونڈ نکالا ہے، اس لیے میں نے یہاں سے فوراً نکلنے کا پروگرام بنایا تھا۔یہاں بہت اچھا اور سہانا وقت گزرے گا۔ بھوپت نے پہلے تو سرگم کو گھورا، پھر گوپال کی طرف متوجہ ہو کر بولا۔ ہم دونوں بیٹھے ہوئے وقت کی سہانی اور رنگین یادوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ دوسری طرف وشواناتھ کی رفاقت سے سرفراز ہوں گے۔ یہ بہت اچھا پیانو نواز ہے۔ وہ فلمی دنیا میں ایک بڑے موسیقار رام چندر کے ساتھ برسوں رہا ہے۔ وہ فلموں میں پس پردہ پیانو بجاتا تھا۔ اس کی سندر دھنوں پر رقاصائیں تھرکتی اور لہراتی تھیں، دلوں کو مسحور کر دیتی تھیں۔ وہ تمہاری پتنی کو فرصت کے لمحات میں پیانو بجانا سکھائے گا۔ اس نے اپنی فلمی دنیا کا آغاز ایکشن فلموں سے کیا تھا، لیکن جب اس پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ ممبئی میں قتل کر کے اس سے زیادہ دولت کمائی جا سکتی ہے، تو اس نے اپنی لائن بدل لی۔سرگم خاموشی سے سنتی رہی۔ اس کے سارے بدن میں سنسنی دوڑ گئی تھی۔ وہ اپنی اس ہیجانی کیفیت کو چھپانے سے قاصر تھی۔بھوپت ٹھیک کہتا ہے، وشواناتھ نے سرگم کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے پستول کی لبلبی دبانے کی اداکاری کی۔ میں بڑی آسانی سے لوگوں کو اس طرح ہٹا دیتا ہوں، جیسے وہ راستے کا کوئی پتھر ہوں۔ صرف ایک ٹھوکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یوں گولی کبھی آنکھ میں، کبھی ناک، پیشانی، حلق میں یا پھر سیدھی سینے کے پار ہو جاتی ہے۔ میرا نشانہ کبھی خطا نہیں گیا اور کوئی مائی کا لال آج تک مجھے گرفتار نہیں کر سکا۔ میں نے نہ صرف قانون کی دھجیاں بکھیریں بلکہ پولیس کی آنکھوں میں ہر واردات کے بعد دھول جھونکی۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے اب تک کتنے قتل کیے ہیں۔پچھلی بار معاملہ کچھ زیادہ سنگین ہو گیا تھا، پھر بھی وشواناتھ گرفتار ہونے سے بال بال بچ گیا۔ وہ ہمیشہ ایسے ہی بچتا اور قتل کرتا رہا۔ اس نے بعض قتل اتنے خفیہ طریقے سے کیے کہ ان لاشوں کا آج تک کوئی سراغ نہ ملا۔میں نے آج تک اتنے شاندار تالاب میں پیراکِی نہیں کی، وشواناتھ نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔ ہمیں آپ کا وہ ہوش رُبا رقص یاد ہے، جب آپ نے مس ممبئی کا تاج پہنا تھا۔ ہم سارا راستہ اسی رقص کی باتیں کرتے آئے ہیں۔ ہماری آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمیں وہ رقص دکھا دیں۔گوپال کو بھی وہ سب کچھ یاد آ گیا۔ سرگم کے اُس رقص نے واقعی لوگوں کو دیوانہ کر دیا تھا۔ اس نے بھی وہ رقص دیکھا تھا۔
☆☆☆

سرگم سے اس کی شادی ایک حادثاتی واقعے کا نتیجہ تھی۔ مس ممبئی منتخب ہونے کے کچھ دن بعد، کچھ جرائم پیشہ افراد نے اسے اغوا کر لیا تھا۔ پروفیسر گوپال نے یہ واردات اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔ اس کے پاس تیزاب سے بھری ایک اسپرے بوتل موجود تھی۔سرگم کو جن بد معاشوں نے جس مکان میں قید کر رکھا تھا، گوپال وہاں پہنچا اور ان پر تیزاب کا اسپرے کر دیا۔ سرگم کی عزت بچا کر بہ حفاظت اسے وہاں سے نکال لایا۔ اس واقعے میں وہ تمام بد معاش تیزاب سے جھلس کر معذور ہو گئے تھے۔ سرگم، گوپال کے اس جرأت مندانہ عمل سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اُس نے اس سے شادی کر لی۔گوپال نے فی الوقت انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا کہ سرگم کا رقص کسی بھی وقت دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ وہ یہاں کئی دنوں کے لیے ٹھہرنے والے ہیں۔ ان دونوں نے سوچا کہ گوپال ٹھیک کہہ رہا ہے۔ وہ اپنی حیرت اور سارے ارمان پورے کر لیں گے۔ شکار آخر کہاں جائے گا!اس وقت ہم دونوں کو سخت گرمی لگ رہی ہے، کیونکہ اس کڑی دھوپ میں ہم بہت دور سے آ رہے ہیں۔ تمہارے اس خوبصورت تالاب میں دو چار ڈبکیاں ہمیں تازہ دم کر دیں گی۔ ہمارے میزبان بھی ساتھ تیرنے کی تیاری کر لیں، بھوپت نے کہا۔گوپال نے کوئی جواب نہیں دیا تو بھوپت نے دوبارہ کہا، گوپال! ہمیں دو نیکریں درکار ہیں۔وہ دوسرے کمرے میں ہیں، گوپال نے سامنے والے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ٹھیک ہے، ہم دونوں لباس تبدیل کر کے آتے ہیں۔ چلو وشواناتھ! اس دوران صاحب خانہ کو اپنی پتنی سے صلاح مشورہ کرنے کے لیے کچھ وقت بھی مل جائے گا۔پھر دونوں سامنے والے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیتے ہیں۔ گوپال نے کچھ کہنے کے لیے جیسے ہی منہ کھولا، سرگم نے بات کاٹ کر کہا، باہر چل کر بات کرتے ہیں۔پھر وہ دونوں قریب پڑی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ اس دوران تالاب میں پانی کی سطح کچھ اور نیچے جا چکی تھی۔سرگم، ایشور جانتا ہے کہ میں خود کو بالکل محفوظ تصور کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب میں نے اپنی جان پر کھیل کر تمہاری آبرو اور جان بچائی، تو تم نے مجھ سے شادی کر لی۔ ورنہ میں کبھی بھی تمہیں اس الجھن میں نہ پھنسا تا۔ اب ایک ہی صورت باقی رہ گئی ہے۔ میں تو یہاں رہنے پر مجبور ہوں، تم میری گاڑی لے کر چلی جاؤ۔ کہیں بھی جاؤ، مجھ سے طلاق لے کر ہمیشہ کے لیے مجھے بھول جاؤ۔اس سے پہلے کہ تم میرے مستقبل کا کوئی فیصلہ کرتے، کم از کم مجھے پوری حقیقت سے آگاہ تو کر دیتے؟ سرگم نے سرد مہری سے کہا۔یہ کوئی خوش گوار کہانی نہیں ہے۔ میں نے بہت برے ماحول میں آنکھ کھولی تھی، اور لڑکپن ہی سے چھوٹے موٹے جرائم میں ملوث ہو گیا تھا۔ بیس برس کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی جیل کی ہوا کھا چکا تھا۔ قید کے دوران جانے کیسے مطالعے کا شوق پیدا ہوا۔ میں نے یکے بعد دیگرے کئی مشہور تصانیف پڑھ ڈالیں، لیکن جیسے ہی آزاد فضا میں سانس لی، پھر سے جرائم میں ملوث ہو گیا۔اس کے بعد وہ واقعہ پیش آیا جس کا تذکرہ بھوپت نے کیا۔ اس نے صحیح کہا تھا کہ میں اوباش قسم کے لڑکوں کے ساتھ گاڑی میں گھوم رہا تھا۔ اس قتل میں میرا کوئی ہاتھ نہیں تھا، لیکن میرے بدنام ماضی کی وجہ سے مجھ پر الزام آیا اور مجھے بیس برس قید کی سزا سنا دی گئی۔جیل میں دوبارہ مطالعہ کی طرف مائل ہوا اور رفتہ رفتہ اپنے ساتھیوں کی زندگی کے بارے میں افسانے اور کہانیاں لکھنے لگا۔ مجھے جیل کے کتب خانے میں نائب نگران بنا دیا گیا اور پروفیسر کا لقب ملا۔ پھر ایک دن، جب ڈاکٹروں کا ایک وفد جیل کا دورہ کر رہا تھا، میں بڑی آسانی سے فرار ہو گیا۔ یوں سمجھو، قسمت نے میرا ساتھ دیا، اور میں کسی کی نظر میں آئے بغیر باہر نکل آیا۔سرگم ساکت بیٹھی، اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔پھر میں بنگلور آ گیا تاکہ سکون و اطمینان سے کہانیاں لکھ سکوں۔وہاں کا موسم، ماحول اور لوگ بڑے بااخلاق اور مہذب تھے۔ مجھے ایک کرائے کا کمرہ مل گیا، اور میں اطمینان سے لکھنے لگا۔ میری کہانیاں مقبول ہو گئیں، لیکن مجھے شہرت کی خواہش نہیں تھی۔ میں دانستہ پبلسٹی سے دور رہا اور لوگوں سے ملنے سے اجتناب کرتا رہا۔جب میں تم سے ملا، تو مجھے یقین تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ میرے چہرے میں اتنی تبدیلی آ چکی ہو گی کہ پہچاننا مشکل ہو گا۔ تم نے اپنی کزن کے کہنے پر ممبئی آ کر حسن کے مقابلے میں حصہ لیا تھا، اور اتفاق سے ان دنوں میں بھی کسی کام سے ممبئی آیا ہوا تھا۔اور اب…میں بھوپت کے رحم و کرم پر ہوں۔ میں جیل میں ڈال دیا جاؤں گا۔ پولیس کو صرف ایک ٹیلی فون کی دیر ہے، لیکن سرگم! تم مجبور نہیں ہو۔ تمہارے پیروں میں مجبوری کی بیڑیاں نہیں پڑی ہیں، اس لیے میں کہتا ہوں کہ تم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور کہیں چلی جاؤ۔تمہیں چھوڑ دوں؟ گوپال، تم مجھے کس قسم کی عورت سمجھتے ہو؟ سرگم اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی۔ بھلا میں تمہیں چھوڑ کر جاؤں گی؟ تم اس کا تصور کر سکتے ہو؟وہ کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا، پھر اس نے تشکر آمیز نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ سرگم کی آنکھوں میں اسے اعتماد اور محبت کی جھلک دکھائی دی۔بہت بہت شکریہ میری جان، میری زندگی میں تمہارا جتنا بھی شکریہ ادا کروں، کم ہےلیکن اب ہم کیا کریں گے؟ سرگم نے کہا۔ اگر تم نے یہاں قیام کیا، تو مجھے خدشہ ہے کہ ضرور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے گا۔ مجھے وشواناتھ سے خوف آ رہا ہے۔سرگم، بہتر یہ ہے کہ تم پہلی فرصت میں پولیس سے رابطہ کرو۔ میرے پاس اچھا خاصا پیسہ ہے، میں قابل سے قابل وکیلوں کی خدمات حاصل کر سکتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ میں خود کو بے گناہ ثابت کر سکتا ہوں یا کم از کم حکام کی ہمدردیاں حاصل کر سکتا ہوں۔نہیں، میں تمہیں ایسا کرنے نہیں دوں گی۔ اگر کسی وجہ سے ہم مقدمہ ہار گئے، تو میں پولیس کو ہرگز اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ تمہیں مجھ سے چھین کر لے جائے۔ میں یہ خطرہ مول نہیں لوں گی، بالکل بھی نہیں۔اس دوران وشواناتھ اور بھوپت نیکر پہنے باہر آئے۔ وشواناتھ تالاب کے پاس آ کر زور سے چلّایا۔اس میں اتنا کم پانی کیوں ہے؟ کیا تم لوگ اسے خالی رکھتے ہو؟ہم اسے خالی کر رہے تھے، گوپال نے جواب دیا۔ اب جلدی سے اسے دوبارہ بھرو، تمہارے گھر معزز مہمان آئے ہوئے ہیں۔ اس کا لہجہ تحکمانہ تھا۔گوپال نے بحث و تکرار کرنے کے بجائے آگے بڑھ کر پانی خارج کرنے والا والو بند کر کے دوسرا کھول دیا، جس سے پانی آ رہا تھا۔کیا بھوپت نے تمہیں میرے بارے میں نہیں بتایا کہ میں پیانو نواز ہوں؟ وشواناتھ نے سرگم کو والہانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ اب تم مجھے پیراکی اور غوطہ خوری کے بارے میں بتاؤ۔ تمہیں یقیناً غوطہ لگانے اور قلابازی کھانے میں بڑی مہارت ہو گی۔ تم نے جو کانسی کا تمغہ اولمپک میں حاصل کیا، اس کے بارے میں مجھے بھوپت بتا چکا ہے۔ پھر بولا، تالاب میں پانی کچھ اور بھرنے دو۔پانی کافی ہے، میں لباس بدل کر آتی ہوں۔ سرگم اپنا سراپا سمیٹ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ وشواناتھ اسے مکان کے اندر جاتا ہوا دل چسپی سے دیکھتا رہا۔کیا تم نے اپنی پتنی کو اپنی زندگی کے تاریک پہلو سے آگاہ کر دیا؟ بھوپت نے معنی خیز انداز سے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ہاں، میں نے اس سے کوئی بات نہیں چھپائی۔ گوپال نے سر ہلایا۔پھر تو تم اس کی نظروں میں گر گئے ہو گے۔ بھوپت بولا۔اسے اس بات سے بڑی خوشی ہوئی کہ میں نے اسے اعتماد میں لے کر سب کچھ بتا دیا۔ اس کی نظروں میں میری حقیقت اور بھی بڑھ گئی۔حیرت کی بات ہے۔اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ وہ ایک روایتی عورت ہے۔ تم جانتے ہو کہ یہاں کی عورتیں اپنے پتی کو برائیوں سمیت قبول کر لیتی ہیں۔تمہاری پتنی نہ صرف بہت حسین اور پرکشش ہے بلکہ لاکھوں میں ایک ہے۔ بھوپت تعریفی لہجے میں کہنے لگا۔ ایک بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اس قدر حسین عورت نے تم میں ایسی کیا خاص بات، خوبی اور انفرادیت محسوس کی؟ نہ تم تصوراتی محبوب کی طرح ہو اور نہ دولت مند۔آخر تم کیا چاہتے ہو بھوپت؟ گوپال نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔ اگر تم یہاں صرف روپوش رہنے کی غرض سے آئے ہو، تو تمہارے قیام کی مدت کتنی ہو گی؟ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دیکھا جائے گا، سوچا جائے گا۔ ہم کم از کم اتنی مدت ضرور رہیں گے کہ یہاں نئے لوگوں سے تعلقات قائم کر لیں۔ خیر، تمہاری بیوی سے آزاد میل جول، بے تکلفی اور تیرنے میں تم رکاوٹ ہرگز نہیں بنو گے۔بھوپت معنی خیز لہجے میں بولا۔بلیک میلنگ؟ گویا میں تمہارے رحم و کرم پر ہوں؟ تم میری مجبوری سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔گوپال نے درشت لہجے میں کہا۔تم چاہتے ہو کہ یہ کمینہ میری پتنی کو کھلونا بنائے۔ میں تمہارا یہ گھناؤنا اور شرمناک منصوبہ پورا ہونے نہیں دوں گا۔ میں پولیس کے پاس جا رہا ہوں۔بھوپت نے ہاتھ بڑھا کر گوپال کی کلائی پکڑی، پھر اس کا ہاتھ مروڑ کر پیٹھ پیچھے کر دیا اور بولا،وشواناتھ! اس کی مزاج پرسی کرنا، یہ حد سے زیادہ بڑھ رہا ہے۔وشواناتھ نے آگے بڑھ کر گوپال کے جبڑوں پر دو طوفانی گھونسے لگا دیے۔ وہ تکلیف سے دہرا ہو گیا۔ بھوپت نے اپنی گرفت ڈھیلی کی تو وہ دھڑام سے فرش پر گر پڑا۔گوپال! سرگم لپک کر اپنے شوہر کے پاس پہنچی، پھر وشواناتھ کی طرف دیکھ کر تیز لہجے میں بولی،تم نے اچھا نہیں کیا۔شریمتی جی! یہ صرف ایک چھوٹا سا سبق تھا۔وشواناتھ نے کہا۔حیرت ہے، یہ اتنی جلدی ناک آؤٹ ہو گیا۔ آپ چلتا نہ کریں، یہ بہت جلد ہوش میں آجائے گا۔تمہارا نادان پیتے بار بار پولیس کا ذکر چھیڑ رہا تھا۔بھوپت بولا،اسے ہوش آجائے تو سمجھا دینا کہ اگر یہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا، تو تمہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف اٹھانی پڑے گی اور یہ ہم نہیں چاہتے۔اور یقین کرو کہ مجھے تم جیسی حسینہ کو تکلیف پہنچاتے ہوئے بے حد تکلیف ہو گی۔وشواناتھ نے مسکراتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری،پروفیسر کو چھوڑو، یہاں آؤ، میرے قریب غوطہ خوری کی تربیت کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ اس کے بعد میں تمہیں ایک دلچسپ کھیل سکھاؤں گا۔گوپال کا سانس اب بحال ہو گیا تھا، تاہم اب بھی اس پر بے ہوشی طاری تھی۔سرگم جا کر ڈرائنگ بورڈ پر کھڑی ہو گئی۔ اس نے اپنا شاخ گل جیسا بدن ایک مخصوص زاویے تک موڑ کر ہوا میں قلابازی کھائی اور تیر کی طرح پانی کی سطح سے ٹکراتی ہوئی تالاب کے اندر چلی گئی۔تھوڑی دیر بعد وہ سطح پر آ گئی۔دیکھا تم نے؟ اس نے وشواناتھ سے کہا کہ پورے چھ فٹ پانی ہے، اس میں آسانی سے غوطہ لگایا جا سکتا ہے۔ بس ذرا احتیاط اور ہوشیاری سے کام لینا ہوگا۔تم مجھے بچہ نہ سمجھو، جو کام تم کر سکتی ہو، وہ میں بھی کر سکتا ہوں۔ یہ کہہ کر وشواناتھ نے چھلانگ لگائی اور تیزی سے تیرتا ہوا سرگم کے قریب آ گیا۔ بھوپت لال، تم بھی آ جاؤ۔ اچھا! میرا خیال ہے کہ پروفیسر کی بے ہوشی ختم ہونے میں بہت وقت ہے۔ یہ کہہ کر وہ بھی پانی میں اتر آیا اور بچوں کی طرح اچھل کودنے لگا۔ اب میں تمہیں ایک اور کرتب دکھاتی ہوں۔ سرگم مچھلی کی طرح تیرتی ہوئی تالاب کی سیڑھی کے پاس چلی گئی۔بہت خوب، تمہاری کیا بات ہے۔ وشواناتھ نے ہنس کر کہا کہ اب کون سا کرتب دکھاؤ گی؟سرگم جھکی، جلدی سے اوپر کے دو نٹ نکال کر سیڑھی باہر کھینچ لی اور تالہ لگا دیا۔ اب سے ہٹ کر بولی کہ اب تم لوگ مجھے یہ بتاؤ کہ اس سیڑھی کے بغیر تالاب سے باہر کیسے نکلا جا سکتا ہے؟ تمہارے پیر تالاب کے فرش پر ٹک سکتے ہیں اور نہ ہی ہاتھ اوپر پہنچ سکتے ہیں۔ارے! اس نے سیڑھی نکال لی۔ بھوپت نے گھبرا کر کہا، وشواناتھ، اب ہم باہر کیسے نکلیں گے؟ وہ صرف تفریح لے رہی ہے، دیکھو، میں باہر نکل کر بتاتا ہوں۔ وشواناتھ تیر کر دیوار تک پہنچا اور اچھل کر تالاب کا کنارا پکڑنے کی کوشش کی، مگر وہ صرف انگلیاں وہاں ٹکا سکا۔ اس کا پورا جسم پانی میں جھول رہا تھا۔ سرگم نے قریب پڑا ہتھوڑا اٹھایا اور اس کی انگلیوں پر ضرب لگا دی۔ وشواناتھ تکلیف سے بلبلا کر رہ گیا۔ بند کرو یہ مذاق، وہ چلایا، اگر میں باہر آگیا تو تمہارا جو انجام ہوگا، تم تصور بھی نہیں کر سکتیں۔واقعی سرگم نے جھک کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے، تم کو شش کر کے باہر آؤ تاکہ تمہاری حرارت اور ارمان پورے ہو سکیں۔ میں دیکھتی ہوں کہ تمہاری یہ خواہش کیسے پوری ہوتی ہے۔ پھر اس نے آگے بڑھ کر پانی کا نل بند کر دیا اور کہا کہ میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔ اگر تم باہر آگئے تو میں تمہیں اپنا استاد مان لوں گی۔وشواناتھ اور بھوپت کی آنکھیں دہشت سے پھیل رہی تھیں۔ میرا دم گھٹ رہا ہے، جلدی کوئی ترکیب کرو۔دو بےوقوف اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ کر پانی کی سطح پر بہنے کی کوشش کرو، ہاتھ پیر چلانے کی کیا ضرورت ہے؟ وشواناتھ یہ کہہ کر تیرتا ہوا تالاب کے دوسرے کنارے تک پہنچا اور دو تین مرتبہ چکر لگانے کے بعد دوبارہ تالاب کا کنارہ پکڑنے میں کامیاب ہو گیا۔ ابھی وہ اپنا جسم اونچا کرنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ سرگم ٹہلتی ہوئی وہاں پہنچ گئی۔وشواناتھ! یہ دوسرا سبق۔ اس نے ایک بار پھر ہتھوڑے کی بھرپور ضرب اس کی انگلیوں پر ماری۔وشواناتھ گالیاں بکتا، دھمکیاں دیتا ہوا پانی میں گر گیا، پھر ہمت کر کے دوسرے کنارے پر پہنچا، جہاں سرگم اس کے استقبال کے لیے پہلے ہی منتظر تھی۔وشواناتھ نے اوپر آنے کی کوشش کی تو اُس نے جھک کر کہا کہ تم نے میرے پتی کو کافی تکلیف پہنچائی ہے اور اس کے علاوہ بھی نہ جانے کتنے لوگوں کو اذیتیں دی ہوں گی، کتنے ہلاک کیے ہوں گے، کتنی لڑکیاں تمہاری درندگی کا نشانہ بنی ہوں گی، لیکن آج سے پہلے تمہیں کسی نے تکلیف نہیں دی ہو گی۔ کیوں وشواناتھ! میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا؟یہ بد معاشی اور شرارت تمہیں راس نہیں آئے گی۔ وشواناتھ غرایا کہ کسی وقت بھی کوئی شخص یہاں آسکتا ہے۔یہاں اجازت کے بغیر کوئی شخص اندر نہیں آسکتا۔ ہم آبادی سے کٹے ہوئے ہیں۔تم لوگ یہاں میری اور میرے پتی کی خوشیاں چھیننے اور وقت گزاری کے رنگین سپنے لیے آئے تھے، لیکن اپنے ہی جال میں پھنس گئے۔ میں تم پر ترس کھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ وشواناتھ بہت سنجیدہ ہے اور اس سے کہیں زیادہ خطرناک بھی۔ مسز گوپال یقین کیجئے کہ ہم دونوں نے آپ کے ساتھ مذاق کیا تھا۔ بھگوان کے لیے ہمیں یہاں سے نکال دیجئے۔ میں و چن دیتا ہوں کہ ہم سیدھے اپنی راہ لیں گے اور کبھی بھی پروفیسر کو تنگ نہیں کریں گے۔ اس نے منافقت سے سرگم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی، جبکہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ تم کمینے! مرگم نے بڑی نفرت اور حقارت سے کہا، تمہاری نیت اور ارادے یہاں مستقل رہنے اور مجھے کٹھ پتلی بنانے کے تھے۔ میں نے تمہاری دلی خواہش کے احترام میں فیصلہ کیا ہے کہ کیوں نہ تمہارا اس تالاب میں مستقل ٹھکانہ بنا دیا جائے؟ بھوپت! تم اس کنارے سے باہر نکلنے کی کوشش کرو، میں دوسرے کنارے پر جاتا ہوں، وشواناتھ نے کہا، یہ ڈائن ہم دونوں کو بیک وقت روک نہیں سکتی؟ اتنی جلدی ہمت نہ ہارو وشواناتھ! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ سرگم نے طنزاً کہا، تم دونوں بہت دلیر ہو، تمہارے نزدیک دوسرے انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ خصوصاً تم عورتوں کو کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے، لیکن یہ بات مت بھولو کہ تمام عورتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ میں اپنے حق اور اپنی آبرو کی حفاظت کے لیے لڑنے والی عورت ہوں۔ مرگم ایک ہی سانس میں بہت کچھ کہہ گئی، تم یہ کیوں بھول رہی ہو کہ پولیس بھی پروفیسر کی تلاش میں سرگرم ہے؟ وشواناتھ درشت لہجے میں ہوا، تمہارے لیے ہماری لاشیں ٹھکانے لگانا مشکل ہو جائے گا۔ مجھے تمہارے خیال سے اختلاف ہے۔ جب تم دونوں بے جان ہو جاؤ گے تو تمہاری گاڑی کو لاشوں سمیت یہاں سے چالیس میل دور لے جا کر اس کے بریک فیل کر کے کسی گہری کھائی میں دھکیل دیں گے۔ بھوپت نے کہا تھا نا کہ اتنی لاشوں کا دنیا والوں کو پتا نہ چل سکا تو اسی طرح تمہاری لاشوں کا بھی کسی کو سراغ نہ مل سکے گا۔ اگر مل بھی گئیں تو میرے پتی سے اس کا تعلق جوڑا نہ جا سکے گا۔ وشواناتھ اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہو رہا۔ بھگوان کے لیے جلدی سے کچھ کرو۔ کیا تم بھگوان سے واقف ہو؟ سرگم نے تمسخر سے پوچھا، یہ کون ہیں اور کہاں رہتے ہیں؟ ایک ترکیب میری سمجھ میں آئی ہے، وشواناتھ نے کہا، میرا چھ فٹ ہے۔ تم میرے کندھے پر کھڑے ہو کر آسانی سے تالاب سے نکل سکتے ہو۔ یہ سن کر بھوپت کے چہرے پر امید کی لہر دوڑ گئی۔ وشواناتھ! تم تالاب کے کنارے تھوڑی دیر کے لیے سانس روک کر بیٹھ جاؤ، میں تم پر سوار ہو جاؤں گا، پھر تم کھڑے ہو جانا۔ میں تمہیں باہر گھسیٹ لوں گا۔ بھوپت! سوچ لو کہ تمہاری کھوپڑی کا کیا حشر ہوگا؟ سرگم نے دھمکی کے انداز میں اپنا ہتھوڑا فضاء میں لہراتے ہوئے کہا، اس کو مت کرو۔ بھوپت نے تڑختے لہجے میں اسے ڈانٹا، مجھے ایک بار اوپر تو آ جانے دو، پھر دیکھنا کہ میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں۔ سرگم ہتھوڑا ایک طرف پھینک کر فوراً ایربی گیراج کی طرف دوڑی اور وہاں سے پائپ اٹھا لائی اور اسے بڑے نل سے لگا کر پانی کا والو کھول دیا۔بھوپت وشواناتھ کے کاندھے پر اپنا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جیسے ہی اس کا سر تالاب کے کنارے سے بلند ہوا، سرگم نے پائپ کا رخ اس کی آنکھوں کی طرف کر دیا۔ پانی کی تیز دھار سے بھوپت بوکھلا گیا اور زور سے پانی میں جا گرا۔ اب وہ بری طرح گھبرا گیا تھا۔ اس کے منہ اور ناک میں پانی بھر رہا تھا۔ وہ کھانستا ہوا وشواناتھ کا سہارا لینے کے لیے تگ و دو کرنے لگا، جبکہ وشواناتھ صورت حال سمجھ نہ سکا تھا۔ بھوپت نے اُس کی گردن پکڑ لی، وہ اس کا وزن سہار نہ سکا اور وہ خود بھی پانی میں گر گیا۔بے وقوف، مجھے چھوڑو، ورنہ ہم دونوں ڈوب مر جائیں گے، وشواناتھ دقت سے چلایا۔ وہ بار بار اپنا سر پانی سے اونچا رکھنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر بھوپت کی گرفت اتنی سخت تھی کہ وہ آخری بار سطح پر آئے اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پانی کی تہہ میں اتر گئے۔
☆☆☆

گوپال نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھولیں تو سرگم ایک کر اس کے پاس پہنچی۔ گوپال جذباتی ہو کر اس پر جھکا۔ گوپال پلکیں پیٹتا رہا اور مسکرانے کی کوشش کی، تم خیریت سے تو ہو سرگم؟ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ تمہارا کیا حال ہے؟ اس نے لمحہ بھر توقف کرکے کہا، مجھے ابھی تک چکر آرہے ہیں، مجھے سہارا دو۔ گوپال نے کھڑے ہونے کی کوشش کی اور سرگم کے سہارے کھڑے ہونے کے بعد چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔ تالاب کی سطح پر سکون تھا، چند ایک چھوٹے چھوٹے بلبلے بن کر اٹھ رہے تھے۔ وہ دونوں کہاں ہیں سرگم؟ گوپال نے ہر انسان ہو کر پوچھا۔ اس نے اپنی پتنی کے چہرے پر ناتواں نگاہ ڈالی، انہوں نے تم پر تو تشدد نہیں کیا؟ نہیں، سرگم نے مضبوطی سے اس کا بازو تھاما۔ نہیں گوپال! میں نے اپنی آبرو پر آنچ آنے نہیں دی۔ پر وہ کہاں ہیں؟ گوپال نے اسے تھامتے ہوئے پوچھا۔ ہم نے ان سے نجات حاصل کر لی ہے۔ میں نے انہیں کڑی سزا دی ہے۔ انہوں نے تیرنے کی خواہش کی تھی۔ اس وقت میرے دل نے مجھے اپنے منصوبے کی کامیابی کا یقین دلایا تھا۔ وہ ہمارے سورگ کو نرک بنانے آئے تھے۔ میں نے انہیں اس بات کی اجازت نہیں دی، تمہیں مجھ سے کوئی چھین نہیں سکتا۔ وہ گوپال کے سینے سے لگی سکیاں بھرنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد وہ دونوں لاشیں ٹھکانے لگانے میں مصروف تھے۔

 

Post a Comment

0 Comments