پچھتاوے کی چکی
یہ پاکستان بننے سے پانچ برس قبل کی
بات ہے۔ میری دادی جان کی سہیلی عارفہ گاؤں سے بیاہ کر امرتسر آئی تھیں۔ بدقسمتی
سے انہیں اپنا دولہا پسند نہ آیا کیونکہ ابصار، پہلے ان کی بڑی بہن صادقہ کا شوہر
تھا، جس کا اچانک انتقال ہو گیا۔ وہ اپنی تین برس کی بچی کو خدا کے حوالے کر کے
خالقِ حقیقی سے جا ملی۔اس کی وفات کے بعد والدین نے سوچا کہ ننھی ولایت کا کیا بنے
گا؟ کیونکہ ابصار تو دوسری شادی ضرور کرے گا، اور سوتیلی ماں بچی سے جانے کیا سلوک
کرے؟ یہ سوچ کر انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی عارفہ سے منت سماجت کی تاکہ ان کی معصوم نواسی
ولایت کی صحیح دیکھ بھال ہو سکے۔عارفہ کے لیے یہ رشتہ قبول کرنا انتہائی ناگوار
تھا، مگر والدین کا اصرار بڑھتا گیا، اور بالآخر انہوں نے پندرہ سالہ عارفہ کو
مجبور کر دیا کہ وہ دس برس بڑے اپنے سابقہ بہنوئی کو بطور شوہر قبول کر لے۔
مجبوراً اسے والدین کا کہا ماننا پڑا۔ اس نے بہنوئی سے نکاح تو کر لیا، لیکن بعد
میں اس نے سارا غصہ اپنی معصوم بھانجی ولایت پر نکالا، جس کی وجہ سے وہ ایک
ناپسندیدہ شخص کی بیوی بننے پر مجبور ہوئی تھی۔وہ ولایت پر بہت ظلم توڑتی، ننھی سی
جان سے بڑے بڑے کام کرواتی، اور جب بچی کام نہ کر پاتی تو اسے خوب مارتی۔ عارفہ کا
رویہ بچی کے ساتھ ہمیشہ منفی رہا۔ کوئی دن ایسا نہ گزرتا جب اس عورت نے بچی کو نہ
مارا ہو۔ ولایت ہر وقت سہمی سہمی رہتی۔ سوتیلی ماں کے ڈر سے باپ کو کچھ نہ بتاتی۔
پڑوسی اس کی حالت پر کڑھتے تھے، مگر ان کی کیا مجال کہ ابصار سے کچھ کہتے؟ یوں بھی
وہ شخص نخوت کا مارا، شرابی اور بداخلاق انسان تھا۔ کوئی اس کے منہ لگنا پسند نہیں
کرتا تھا۔عارفہ کے بے پناہ ظلم کی وجہ سے بچی بیمار ہو گئی۔ جب ابصار اور اس کے
خاندان کو پتا چلا تو سبھی فکر مند ہو گئے۔ نانی نے نواسی کا علاج بھی کروایا،
لیکن یہ بچی اپنی مرحومہ ماں کے پاس جانے کو بے تاب تھی، سو چلی گئی۔انہی دنوں
پاکستان بن گیا۔ عارفہ اور اس کے خاندان والے ہجرت کر کے ملتان اور خانیوال آ کر
آباد ہو گئے۔ یہاں عارفہ دو بیٹوں کی ماں بنی، جو بہت خوبصورت تھے۔ یہ بچے ایک روز
کنویں کے پاس کھیلتے ہوئے اس میں ڈوب کر مر گئے۔ دو دن کی تلاش کے بعد کسی نے
کنویں میں ڈول ڈالا، تو معلوم ہوا کہ ان کی لاشیں کنویں میں تیر رہی ہیں، جبکہ گھر
والے انہیں قریبی جگہوں پر ڈھونڈ رہے تھے۔عارفہ کو اس حادثے کا گہرا صدمہ پہنچا۔
وہ کئی روز تک ہوش میں نہ آئی۔ رفتہ رفتہ خدا نے صبر دے دیا، لیکن اس کے بعد وہ
دوبارہ ماں نہ بن پائی۔ اب وہ اولاد کے لیے پریشان رہنے لگی۔ بہت علاج کروایا، مگر
مراد بر نہ آئی۔ان کی بستی میں فائز نامی ایک حکیم رہتا تھا۔ دراصل وہ خاندانی
حکیم تھا۔ اس کے پاس بہت پرانے اور نادر نسخے تھے۔ کسی نے عارفہ کو اس کے بارے میں
بتایا۔ وہ پریشانی میں اس کے پاس گئی۔ فائز نے اسے کچھ دیسی دوائیں دیں۔ اللہ کا
کرم ہوا کہ ان دوائیوں کے کھانے سے عارفہ امید سے ہو گئی۔اس کی جیٹھانیوں کی خواہش
تھی کہ وہ بے اولاد رہے تاکہ جائیداد کا کوئی وارث پیدا نہ ہو۔ تبھی ایک سوچی
سمجھی اسکیم کے تحت انہوں نے عارفہ کے شوہر کے کان بھرے کہ یہ عورت ایک ڈاکٹر کے
پاس جاتی ہے، جس کے ساتھ اس کے تعلقات قائم ہو چکے ہیں، اور اسی کے نتیجے میں وہ
امید سے ہوئی ہے۔ابصار کانوں کا کچا اور بے لحاظ شخص تھا۔ وہ فائز کے کلینک پہنچا
اور اسے گریبان سے پکڑ کر بولا، او ٹوٹکے بتانے والے جعلی حکیم! تم نے میری بیوی
کو کیسی دوا دی ہے کہ وہ خفقان کی مریض ہو گئی ہے؟فائز گھبرا گیا اور بولا، آخر تم
چاہتے کیا ہو؟تب ابصار کمینگی پر اُتر آیا۔ کہنے لگا کہ میں اپنی بیوی کو بیچنا
چاہتا ہوں۔ یہ بے وفا عورت ہے۔ بولو، کیا تم خریدنا چاہتے ہو؟پہلے تو فائز حیرت
زدہ رہ گیا، پھر جب اس نے اندازہ کر لیا کہ یہ کمینہ شخص رقم اینٹھنا چاہتا ہے، تو
وہ راضی ہو گیا اور بولا، ٹھیک ہے، تمہارے مطالبے کے عین مطابق میں کل رقم لے کر
فلاں مقام پر پہنچ جاؤں گا۔اس وقت چار ہزار روپے کی رقم آج کے لاکھوں کے برابر
تھی۔ ابصار رقم کا وعدہ لے کر گھر لوٹ آیا۔
حکیم فائز کی شادی کو ابھی تین ماہ
ہی گزرے تھے، لیکن وہ اس امر کو خدا کی آزمائش سمجھ کر قبول کر چکا تھا۔ اس کی
دلہن سات بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی، جو اپنی بہن سے بہت محبت کرتے تھے۔ اسے اپنے
سالوں کے ردِ عمل کا ڈر تھا، حالانکہ خود اس کے بھی پانچ بھائی تھے جو بہت شریف
انسان تھے۔ تاہم مجبوری ایسی تھی کہ اس نے یہ سودا کر لیا، کیونکہ دو زندگیاں داو
پر لگ چکی تھیں۔ابصار نے دھمکی دی تھی کہ اگر تم عارفہ کو نہیں خریدو گے، تو میں
اسے ختم کر دوں گا، کیونکہ اب یہ میرے لائق نہیں رہی۔ تم ہی اسے رکھو۔ مقررہ وقت
پر وہ بیوی کو لے کر پہنچ گیا۔ عارفہ وہاں حکیم کو دیکھ کر پریشان ہو گئی۔ اسے تو
واقعے کا کچھ علم نہ تھا۔ وہ تو سمجھ رہی تھی کہ شوہر اسے کمانے پھرانے لایا ہے
اور اب ناراضی ختم کرنا چاہتا ہے۔جب فائز سامنے آیا اور رقم کا تھیلا ابصار کے
حوالے کیا، تو عارفہ اور زیادہ گھبرا گئی۔ ابصار نے روپوں کا تھیلا اپنی شال میں
چھپایا اور عارفہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا، تم میری بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ خالہ
کی بیٹی بھی ہو، پھر ملیں گے۔ یہ کہہ کر وہ رخصت ہونے لگا۔ عارفہ گھبرا کر ساتھ
چلنے کو ہوئی، لیکن حکیم فائز نے اس کا بازو پکڑ کر روک لیا اور کہا، دیکھا نہیں؟
میں نے روپے دے کر تمہیں خریدا ہے۔ تمہارا شوہر تمہیں فروخت کر کے جا رہا ہے۔ اب
تم اس کا خیال چھوڑ دو اور چلو میرے ساتھ۔ابصار فوراً نکل گیا۔ عارفہ رونے لگی۔
فائز نے تسلی دی اور کہا، رو مت، میرا خدا جانتا ہے کہ میرا تمہارے ساتھ کوئی برا
تعلق کبھی قائم نہیں ہوا۔ پہلی بار جب تم آئی تھیں، تو اپنی جیٹھانی کے ہمراہ
تھیں۔ میرے سامنے تم نے نقاب نہیں الٹا، نہ ہی میں نے تمہاری شکل تک دیکھی۔ لیکن
تمہارے کمینے فطرت شوہر نے ہم پر الزام لگا دیا۔جب تمہارے شوہر نے مجھ پر الزام
لگا کر تمہیں فروخت کرنے کا کہا تو میں نے یہی جانا کہ اللہ تعالیٰ میری آزمائش
چاہتا ہے۔ میں جان گیا ہوں کہ ابصار ایک بد فطرت مرد ہے۔ ایسے مرد کے دل میں بیوی
کی طرف اگر بے وفائی کا شک بیٹھ جائے تو وہ اپنی ہونے والی اولاد تک کو قبول نہیں
کرتے اور ان کے ساتھ ہمیشہ برا سلوک روا رکھتے ہیں۔لہٰذا اب تمہارے لیے بہتر یہی
ہے کہ میں تمہیں اپنے چچا کے گھر رکھوں گا، تاکہ تم زچگی سے فارغ ہو جاؤ۔ پھر اگر
میری قسمت میں تم سے نکاح لکھا گیا ہے تو یہ مرحلہ بھی شرعی طریقے سے طے کر لوں گا
تاکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں میری پکڑ نہ ہو۔فائز کی باتوں کا عارفہ کے دل پر
بہت اثر ہوا، اور جس قدر صدمہ ابصار کے شک کی وجہ سے اسے جھیلنا پڑا تھا، اس نے
اسے برداشت کرنے کی ہمت کر لی۔ وہ فائز کے ساتھ اس کے چچا کے گاؤں چلی گئی۔ اب
حکیم ہر ہفتے عارفہ کی خیرخبر لینے جاتا، تو پھل، کپڑے اور ضرورت کی چیزیں لے کر
جاتا، اور چپ چاپ بچی کی خیریت معلوم کر کے اپنے گاؤں واپس آ جاتا۔اس معاملے کا
علم فائز کی بیوی اور ان کے گھر والوں کو نہیں تھا، مگر بعض باتیں لاکھ چھپاؤ،
چھپتی نہیں۔ انہی دنوں فائز کے چچا بیمار ہو گئے اور حالت اتنی خراب ہو گئی کہ
انہیں شہر کے اسپتال لے جانا پڑا۔ سب رشتہ دار اسپتال میں جمع ہو گئے۔ان میں سے
ایک شخص، جو چچا کے پڑوس میں رہتا تھا، فائز کی بیوی کے بھائی کے کان میں بھنگ ڈال
گیا کہ حکیم نے ایک عورت چچا کے گھر رکھی ہوئی ہے۔ پتا نہیں بیوی ہے یا کون ہے،
لیکن یہ ہر ہفتے اس سے ملنے آتا ہے اور اس کے لیے پھل فروٹ بھی لے کر جاتا ہے۔
جب فائز کی بیوی کے بھائیوں پر راز
فاش ہوا تو انہوں نے حکیم کو خوب لعن طعن کی اور سچائی کھلنے پر اس کی پٹائی بھی
کر ڈالی۔ بہرحال، چچا تو صحت یاب ہو کر اپنے گھر واپس آ گئے، لیکن فائز اس کے بعد
عارفہ کی خیر خبر لینے نہیں آیا۔ چچا کی زبانی اسے پتا چلا کہ حکیم کو اس کے سالوں
نے خوب مارا ہے اور وہ گھر میں زخموں سے نڈھال پڑا ہے۔چچا نے یہ بھی کہا کہ بیٹی،
مجھے نہیں لگتا کہ فائز تم سے نکاح کر پائے گا۔ اس کے سالے تگڑے ہیں اور خود اس کے
بھائی بھی تمہارے مخالف ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ تم اپنے والدین کے گھر لوٹ جاؤ، وہی تمہارے
لیے تحفظ کا بہترین مقام ہے۔ اگر چاہو تو میں تم کو تمہارے میکے پہنچانے کا
بندوبست کر دیتا ہوں، میں خود تمہارے ہمراہ چلنے کو تیار ہوں۔ یہی باعزت طریقہ ہے،
ورنہ اگر تم کو زیادہ دن اپنے گھر رکھوں تو جان لو کہ میری بھی خیر نہیں۔ فائز کے
سالے برادری کے بڑوں کو لے کر میرے گھر آ جائیں گے، کیونکہ تم فائز کے نکاح میں
نہیں ہو، وہ تمہارے لیے غیر محرم ہے۔بات تو معقول تھی۔ خود عارفہ بھی اب واپس میکے
جانا چاہتی تھی کیونکہ خریدنے والے کی تو درگت بن چکی تھی۔ ادھر یقینا اس کے میکے
والے بھی پریشان تھے کہ وہ کہاں چلی گئی ہے۔ ابصار نے تو یہی مشہور کر دیا تھا کہ
وہ بھاگ گئی ہے۔ ان کو کیا خبر کہ اس بدقماش، مکّار انسان نے ان کی لڑکی کو فروخت
کر دیا ہے۔وہ بزرگ، جو قابلِ بھروسہ تھے، عارفہ کو اپنے ہمراہ لے گئے اور اسے
بحفاظت اس کے میکے پہنچا دیا۔ ادھر جب حکیم فائز صحت یاب ہو گیا تو چچا نے اسے بتا
دیا کہ میں نے عارفہ کو بحفاظت میکے بھجوا دیا ہے، یہاں اس کا رہنا خطرے سے خالی
نہ تھا۔ یہ سن کر وہ فوراً عارفہ کے گاؤں روانہ ہو گیا۔ان دنوں گاؤں میں غسل خانے
نہیں ہوتے تھے۔ مرد، عورتیں، بچے سب نہر میں نہاتے تھے۔ مردوں کے لیے بڑی نہر اور عورتوں
و بچوں کے لیے چھوٹی ندی کا ایک خاص علاقہ مخصوص تھا۔ اُدھر بغیر اطلاع اور بلند
آواز سے خبردار کیے بنا مردوں کا جانا ممنوع تھا۔حکیم فائز جب گاؤں پہنچا تو اُسے
راستے میں ایک عورت ملی۔ اس نے عارفہ کے بارے میں پوچھا۔ عورت، ندی کی طرف سے آ
رہی تھی، بولی کہ وہ ندی پر کپڑے دھو رہی ہے۔ فائز نے بلند آواز سے اپنا نام پکارا
تاکہ وہ سنبھل جائے، پھر ذرا توقف کر کے ندی کی جانب قدم بڑھا دیے۔ڈاکٹر کو اپنی
جانب آتے دیکھ کر عارفہ نے ندی میں ڈبکی لگائی اور پار نکل کر اپنے گھر پہنچ گئی۔
گھر آتے ہی اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ اگر کوئی ادھر آ کر میرا پوچھے تو کہنا
کہ عارفہ یہاں نہیں ہے۔حکیم پتا پوچھتا ہوا دروازے پر پہنچا اور کنڈی بجائی۔ عارفہ
کا بھائی باہر آیا۔ فائز نے بتایا کہ ابصار نامی آدمی نے عارفہ نامی عورت کو چار
ہزار روپے کے عوض مجھے فروخت کیا تھا، جس کی رسید بھی اس نے دی تھی۔ یہ رسید میرے
پاس ہے۔ میں یہ پوچھنے آیا ہوں کہ کیا عارفہ یہاں موجود ہے؟ کیونکہ وہ میری خریدی
ہوئی عورت ہے۔اُن دنوں ایسی خرید و فروخت، مثلاً بیوی پر بدکاری کا الزام لگا کر
اسے فروخت کر دینا، عام بات تھی۔ تاہم فائز کی بات سن کر عارفہ کے دوسرے بھائی بھی
آ گئے اور اس کے گلے پڑ گئے۔ کہنے لگے کہ بغیر پنچایت بلائے، اور ہماری غیر
موجودگی میں، تم نے اکیلے ہی کیسے ہماری بہن کا سودا کر لیا؟ اور کیوں اُسے ابصار
سے خریدا؟ اب بتاؤ، ابصار کہاں ہے؟ تم اکیلے کیسے ہمارے دروازے پر آ گئے؟ ابصار کو
بھی ساتھ لاتے تاکہ وہ ہماری بہن کا جرم ثابت کرتا، تب ہم معاملہ طے کرتے۔اب تم
دفع ہو جاؤ اور دوبارہ یہاں نظر نہ آنا، ورنہ ہم تمہیں پولیس کے حوالے کر دیں
گے۔جب فائز نے یہ دیکھا کہ یہاں تو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں، تو وہ اپنی بدنامی کے
ڈر سے خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔ابصار کو پتا چلا کہ عارفہ واپس آ گئی ہے تو وہ
اُسے لینے سسرال پہنچ گیا اور عارفہ سے بولا، تم سے کہا تھا کہ پھر ملیں گے، تو
چلو، ناراضی ختم کرتے ہیں۔ مجھے بھاوج نے بھڑکا دیا تھا، بات کو رفع دفع کرو۔
جھگڑے میں سوائے خون خرابے کے کچھ نہیں رکھا۔ میں تمہارے بھائیوں کو جرمانہ ادا کر
دیتا ہوں، تمہارے باپ بھائیوں سے اپنی غلطی کی معافی بھی مانگ لوں گا۔عارفہ اس کے
ساتھ جانے پر راضی نہ تھی۔ جب ابصار اس کے والد کے قدموں میں بیٹھ گیا تو بوڑھے
باپ نے بیٹی کو سمجھایا کہ میری بچی، جو ہوا، بھول جا، کیونکہ تو ایک نئی روح کو
جنم دینے والی ہے۔ لوگ کیا کہیں گے اگر تم ابصار کے ساتھ نہ جاؤ گی؟ ایسے معاملات
میں لوگ تماشہ دیکھتے ہیں اور جھوٹ کو بھی سچ بنا دیتے ہیں۔
عارفہ کے خاندان کے افراد کے لیے یہ
ایک نہایت اہم اور معقول بات تھی، جبکہ ابصار اپنی غلطی پر نادم اور شرمندہ تھا۔
وہ غلطی کا ہرجانہ ادا کرنے کی بات بھی کر رہا تھا۔ تب عارفہ کو راضی ہونا پڑا،
ورنہ رشتہ دار پوچھتے کہ اتنے دن کہاں رہی؟ اب تو ابصار سب کے کہنے پر بھی رضامند
تھا کہ وہ برادری والوں کو بتائے گا کہ وہ خود عارفہ کو اپنے رشتہ داروں کے گھر
لاہور علاج کی خاطر چھوڑ آیا تھا۔ اتنا بگڑا ہوا معاملہ عزت بچانے کے نام پر مردوں
نے چٹکیوں میں حل کر دیا، جبکہ غیرت کا جنازہ تو نکل ہی چکا تھا۔تاہم عارفہ نے کہا
کہ بے شک صلح کر لو، مگر میں اب بچے کی ولادت تک میکے سے نہیں جاؤں گی۔ ہاں، بعد
میں ابصار کے گھر چلی جاؤں گی۔ میکے والوں نے کہا کہ ہماری بیٹی کے ساتھ شوہر نے
اتنی زیادتی کی ہے، تو اب ہم اتنا تو بیٹی کا کہا مان لیں۔ چند ماہ ہمارے گھر اور
رہ جانے سے قیامت نہیں آ جائے گی۔ بچے کی پیدائش پر اس کو لانا ہی ہوگا۔ سسرال میں
کون اس کی خدمت کرنے والا ہے؟چار ماہ بعد عارفہ نے ایک بیٹی کو جنم دیا، جس کا نام
تحریم رکھا گیا۔ تحریم کی پیدائش کے بعد عارفہ ابصار کے گھر لوٹ آئی۔ ڈیڑھ سال بعد
اس کے ہاں ایک اور بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام حرمت رکھا گیا۔ابصار کو شراب پینے کی
عادت تھی۔ جب اچھی شراب نہ ملتی، تو سستی لے کر پی لیتا۔ ایک روز وہ بیمار پڑ گیا۔
اسپتال لے جایا گیا، تو پتا چلا کہ اس کے گردے فیل ہو چکے ہیں۔ یوں کچھ دن بعد اس
کا انتقال ہو گیا۔اب عارفہ شوہر کے گھر میں دو چھوٹی بچیوں کے ساتھ بہت پریشان
تھی۔ گھر کے برابر میں کچھ لوگ کلکتہ سے ہجرت کر کے آئے تھے، ان میں ایک سید بیگم
بھی تھیں۔ انہوں نے عارفہ کو پریشان دیکھ کر اپنے دیور کا ذکر کیا، جو دو لڑکیوں
کا باپ اور موٹر مکینک تھا۔ بیوی کچھ عرصہ قبل وفات پا گئی تھی۔سید بیگم نے عارفہ سے
اپنے اس دیور کی تعریف کی اور اس کے ساتھ نکاح کرنے پر راضی کر لیا۔ مشتاق اچھا
انسان تھا۔ اس کے ساتھ سکون سے کچھ عرصہ زندگی بسر کرنا نصیب ہو گیا۔ اس شوہر سے
تین بیٹیاں ہوئیں اور ایک بیٹا۔ بیٹے کی ماں باپ کو بہت خوشی ہوئی، لیکن وہ جوان
ہو کر آوارہ نکلا، جس کے غم میں گھل گھل کر مشتاق میاں ختم ہو گئے۔عارفہ نے جیسے
تیسے جمع پونجی خرچ کر کے بیٹیوں کی شادیاں کر دیں۔ رہ گیا بیٹا، جس کا نام راحت
تھا، مگر وہی ماں کی راحت کا سب سے بڑا دشمن نکلا۔ اس پر عارفہ کا بس نہ چلتا تھا۔
اس نے ماں باپ کی جائیداد دنوں میں اُڑا دی اور عارفہ کو کوڑی کوڑی کا محتاج کر
دیا۔راحت نے شادی بھی اپنی پسند سے کی تھی۔ لڑکی غریب گھرانے سے تھی اور اچھی
عادات کی مالک تھی۔ وہ ساس کا خیال رکھتی تھی، تاہم بیٹے کو ماں کا ذرا بھی خیال
نہ تھا۔ وہ بیوی کو بھی خرچہ نہیں دیتا تھا۔ جب بیمار ہوا، تو نشے کی لت لگا لی۔
اب سارا دن بازاروں میں پھرتا اور نشے کے لیے لوگوں سے بھیک مانگتا۔عارفہ نے کبھی
ایسے برے وقت کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ سانس کی ڈور قائم رکھنے کے لیے اسے محلے
کے گھروں میں کام کرنا پڑا۔ وہ ان دنوں کو یاد کر کے روتی تھی، جب وہ برتن، کپڑے
دھو کر اپنا اور بہو کا پیٹ پالتی تھی۔کام کرتے کرتے اس کے ہاتھ سوج جاتے، کمر میں
درد رہتا اور سردیوں میں پاؤں ٹھنڈے پانی سے فرش دھونے کے باعث پھٹ جاتے۔ تب اسے
اپنی چھوٹی سی سوتیلی بیٹی ولایت یاد آتی، جو بڑے بڑے کام نہ کر سکتی تو روتی
سسکتی تھی اور مار کھاتی تھی۔ اسے بخار ہو جاتا، تب بھی عارفہ کو اس مظلوم پر ترس
نہ آتا تھا۔اب اُسے احساس ہوا کہ ناتواں بدن کام کا اتنا زیادہ بوجھ نہیں سہ سکتے۔
اس نے جس معصوم پر ظلم ڈھائے، آج بڑھاپے میں اُسی ظلم کی سزا مل رہی ہے، اور وہ
ناتوانی کے باوجود سارا دن لوگوں کے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہے، کیونکہ دو
وقت کی روٹی کے لیے یہ سب کرنا ہی پڑتا ہے۔سچ ہے، انسان جو بوتا ہے، وہی کاٹتا ہے۔
اور جب وقت کا دھارا پلٹتا ہے، تو ظلم کرنے والا بھی اس کی تند و تیز لہروں سے بچ
نہیں سکتا۔ بچے بے زبان ہوتے ہیں، ان پر ظلم کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ ضرور حساب
لیتا ہے۔

0 Comments