1886 کا وہ واقعہ جب ٹیلی فون کی ایجاد نے برصغیر میں "جادو" کا گمان پیدا کر کے لوگوں کا ایمان ہلا دیا تھا: علم کی روشنی اور جہالت کا اندھیرا
1886 جب ٹیلی فون کی ایجاد نے برصغیر کے لوگوں کا ایمان ہلا دیا تھا۔
یہ بات سننے میں قصہ لگتی ہے، مگر یہ وہ دور تھا جب 1886 میں برصغیر پر انگریزوں کی حکومت تھی۔ اس زمانے
میں لوگوں کے لیے سائنس، مشینیں اور برقی آلات کسی خواب یا جادو سے کم نہ تھے۔ گاؤں گاؤں انگریزوں کی خبریں پھیلتی تھیں کہ وہ ایسی طاقت رکھتے ہیں جو انسانوں سے ماورا ہے۔
انہی دنوں ایک انگریز افسر برصغیر کے ایک بڑے سردار سے ملنے آیا۔ سردار بہادر، عزتدار اور سمجھدار شخص تھا، مگر اسے بھی اس نئی دنیا کا اندازہ نہ تھا۔ جب کوئی شخص اس انگریز افسر سے ملنے جاتا، تو دروازے پر بیٹھا ایک گارڈ اُس شخص کا نام، اس کا علاقہ، اس کا پیشہ، اور آنے کا مقصد پوچھتا۔ وہ شخص جیسے ہی اندر جاتا،
پیچھے سے انگریز گارڈ ٹیلی فون (جو اُس وقت ایک نایاب اور نیا آلہ تھا) پر اپنے افسر کو ساری تفصیل بتا دیتا۔
اب جب وہ شخص انگریز کے سامنے پہنچتا، تو انگریز مسکراتے ہوئے اُس کا نام لیتا، اُس کے گاؤں کا ذکر کرتا، حتیٰ کہ اُس کے باپ دادا تک کا حوالہ دیتا۔ لوگ حیران رہ جاتے کہ یہ انگریز تو ہمیں دیکھنے سے پہلے ہی سب کچھ جانتا ہے!
لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا ہوئے، کسی نے کہا یہ انگریز غیب جانتا ہے، کسی نے کہا اس کے پاس شیطان کی طاقت ہے، اور کچھ تو خوف سے اُس کے قریب بھی نہ گئے۔
یوں 1886 کے اس واقعے نے برصغیر کے لوگوں کے ایمان کو ہلا کر رکھ دیا — صرف اس لیے کہ وہ “علم” سے ناواقف تھے۔
جسے آج ہم فون کال کہتے ہیں، اُس وقت کے لوگ اسے جادو، یا کوئی ماورائی طاقت سمجھ بیٹھے۔
یہ واقعہ ہمیں ایک بڑا سبق دیتا ہے کہ جب انسان علم سے دور ہو، تو حقیقت بھی اسے وہم لگتی ہے۔
اور جب علم قریب آ جائے، تو وہی “جادو” سائنس بن جاتا ہے، اور خوف کی جگہ فہم لے لیتا ہے۔
علم ہمیشہ روشنی ہے — اور جہالت وہ اندھیری رات، جس میں ہر چراغ جادو لگتا ہے۔
اسی لیے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:
"علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔"
"گود سے لے کر گور تک علم حاصل کرتے رہو۔"
یہی وہ روشنی ہے جو انسان کو اندھیرے سے نکال کر سمجھ، عقل اور یقین کے راستے پر لے جاتی ہے۔
0 Comments