میری آپ بیتی: تلوار اور قلم کے درمیان
29 اگست، 1187
صحرائے سینا کی بے رحم ریت پر میرے قدموں نے جواب دے دیا تھا۔ پچھلے دو دن اور دو راتوں سے میں بھٹک رہا تھا۔ سورج میری جلد کو جھلسا رہا تھا اور میرا حلق خشک لکڑی کی طرح ہو چکا تھا۔ خوراک اور پانی کی آخری بوند بھی ختم ہو چکی تھی۔ میرے پاس طاقت نہیں بچی تھی کہ میں اپنا لوہے کا بھاری زرہ سنبھال سکوں، سو میں نے اسے وہیں ریت پر اتار پھینکا۔ میرا گھوڑا، جو کئی میل کا سفر میرے ساتھ طے کر چکا تھا، اب مزید آگے نہیں بڑھ سکتا تھا، میں نے اسے پیچھے چھوڑ کر اکیلے ہی موت کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ میں ایک صلیبی نائٹ تھا، مجھے ہر مشکل اور ہر آفت سے نپٹنے کی تربیت دی گئی تھی، لیکن اس صحرا کی حدت نے میری قوت کو بھی جواب دینے پر مجبور کر دیا تھا۔
وہ چہرے جو دشمن نہیں تھے
جب میری نظر دور افق پر پڑی، تو مجھے چند گھڑ سوار اپنی طرف آتے دکھائی دیے۔ میری آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے خوف اور بے یقینی در آئی۔ ان کی پگڑیوں اور ان کے لباس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ شاید یہ عرب ہیں، مشرق وسطیٰ کے حکمران جن کے خلاف ہم ایک مقدس جنگ لڑنے آئے تھے۔ میں نے سوچا کہ اب میری زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا، لیکن جب وہ قریب پہنچے تو میرے دل نے سکون محسوس کیا، وہ عرب نہیں تھے، وہ ترک تھے۔
انہوں نے مجھے بے بسی کی حالت میں دیکھا۔ بجائے اس کے کہ وہ میری جان لیتے، انہوں نے مجھے پانی پلایا اور مجھے اپنے گھوڑے پر بٹھا کر اپنے لیڈر کے کیمپ کی طرف لے گئے۔ ان کا یہ برتاؤ میرے لیے ایک صدمے سے کم نہیں تھا۔ میں، جو اپنے دل میں ان کے لیے نفرت اور دشمنی کے سوا کچھ نہیں رکھتا تھا، ان کی مہربانی اور رحم دلی کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ یہ میری صلاح الدین ایوبی سے پہلی ملاقات تھی۔
یورپ کا جھوٹ اور حقیقت کا سامنا
یورپ میں ہمیں سکھایا گیا تھا کہ صلاح الدین ایوبی ایک وحشی اور ادب آداب سے عاری ایک جنگجو ہے، جو صرف خون بہانا جانتا ہے۔ اس کی تصویر ہمارے ذہنوں میں ایک ظالم اور بے رحم انسان کی تھی۔ لیکن جب میں نے سلطان کو دیکھا، تو میرا یہ گمان بالکل ٹوٹ گیا۔
میں نے سلطان کو ایک انتہائی مہربان اور شفیق انسان پایا۔ اس کا چہرہ وقار اور سکون سے بھرا ہوا تھا اور اس کے ساتھی بھی اسی کی طرح رحم دل تھے۔ ہمارے صلیبی نائٹس، جہاں بھی ہمیں کوئی عرب نظر آیا، ہم نے اسے بے دریغ قتل کیا اور اس پر کوئی رحم نہیں کھایا، لیکن سلطان اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے کیا گیا برتاؤ میرے لیے حیران کن اور غیر متوقع تھا۔ یہ میرے لیے ایک سبق تھا کہ دشمنی اور جنگ صرف ایک نظریہ ہوتا ہے، جبکہ انسانیت اور رحم دلی اس سے بہت بڑی چیز ہے۔
ایک صلیبی نائٹ کی عجیب صورتحال
صلاح الدین ایوبی اس وقت قاہرہ کی طرف جا رہا تھا، جہاں شہر سے کچھ دور فرانسیسی فوج نے اپنا کیمپ لگا رکھا تھا۔ ان کا مقصد قاہرہ پر قبضہ کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سلطان کو اپنے ہی لوگوں، یعنی مصریوں کا اعتماد حاصل کرنا تھا۔ وہ قابل اعتبار نہیں تھے اور کسی بھی وقت سلطان کا ساتھ چھوڑ سکتے تھے۔ سلطان کو نہ صرف فرانسیسیوں کو شکست دے کر مصر کو بچانا تھا بلکہ اپنی قوم کو ایک لڑی میں پرونے کا چیلنج بھی درپیش تھا۔
میرے لیے یہ ایک عجیب اور ناقابلِ یقین صورتحال تھی۔ میں اپنے وطن سے ہزاروں کلومیٹر دور اپنے دشمنوں کی کمپنی میں بیٹھ کر اس جنگ کے منظر کو قلم بند کرنے جا رہا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس سچائی کو دنیا کے سامنے لے کر آؤں گا جو یورپ میں ہم سے چھپائی گئی تھی۔ میں سلطان کی عظمت، اس کی رحم دلی، اور اس کی حکمت کی داستان لکھوں گا جو تاریخ میں محفوظ ہو جائے۔
میرے لیے یہ ملاقات صرف ایک اتفاق نہیں تھی، یہ میری زندگی کا سب سے بڑا سبق تھی۔ میں ایک صلیبی نائٹ تھا، لیکن اب میں انسانیت کا سفیر بن چکا تھا۔ میری قلم اب تلوار کا مقابلہ کرے گی، اور یہ دنیا کو سچائی بتائے گی۔
کیا آپ اس کہانی کے کسی اور پہلو پر روشنی ڈالنا چاہیں گے؟

0 Comments