خلیفہ المعتصم کی فتوحات: ایمان کا جذبہ اور بغاوت کا انجام
جب پکارنے والی نے کہا: "اے معتصم!"
عباسی خلافت کا وہ زمانہ، ایک ایسا دور تھا جب اسلام کا پرچم دنیا کے ایک وسیع حصے پر لہرا رہا تھا۔ لیکن اس عظیم سلطنت کے کنارے بھی محفوظ نہیں تھے۔ بازنطینی سلطنت، جو صدیوں سے مسلمانوں کی حریف تھی، وقتاً فوقتاً سرحدی علاقوں میں اپنی تباہ کاریوں کا نشانہ بناتی رہتی تھی۔ یہ بات 838ء کی ہے جب بازنطینیوں نے ایک بار پھر اپنی سرکشی کا مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کی کئی چوکیوں اور شہروں کو تباہ و برباد کر دیا۔
انہی حملوں میں سے ایک حملے میں، ایک بدقسمت مسلمان عورت کو بازنطینی فوج نے گرفتار کر لیا۔ قید اور ذلت کی حالت میں، اس نے تمام امیدیں ختم ہوتے دیکھ کر بے اختیار ایک نام پکارا، جو اس وقت کی اسلامی دنیا میں طاقت اور انصاف کی علامت تھا۔ اس نے بلند آواز میں فریاد کی، "اے معتصم! اے امیر المؤمنین، میری مدد کو آؤ!"
یہ ایک ایسی پکار تھی جو ہزاروں میل دور تک پہنچ گئی۔ یہ خبر جب عباسی خلیفہ المعتصم باللہ تک پہنچی، تو اس کے دل میں غیرت کی ایک آگ بھڑک اٹھی۔ کہا جاتا ہے کہ جب اسے اس عورت کی پکار کے بارے میں بتایا گیا تو وہ ایک لمحے کے لیے رک گیا، جیسے اس نے خود یہ آواز سنی ہو۔ اس نے اسی وقت حکم دیا کہ لشکر کی تیاری کی جائے اور اپنے سپاہیوں کو کہا کہ انہیں ایک ایسے میدان میں لے جانا ہے جہاں اس عورت کی پکار کا جواب دیا جا سکے۔
خلیفہ المعتصم نے ایک ایسا عظیم الشان لشکر تیار کیا جس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی۔ اس لشکر میں لاکھوں سپاہی شامل تھے اور ان کے ہتھیاروں اور سامان کا کوئی شمار نہیں تھا۔ یہ لشکر صرف ایک جنگ جیتنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ یہ دنیا کو یہ بتانے کے لیے تھا کہ ایک مسلمان عورت کی پکار پر ایک خلیفہ کیا کر سکتا ہے۔
لشکر نے شام کے راستے سے بازنطینی سلطنت کی جانب کوچ کیا۔ ان کا اصل نشانہ شہر عموریہ تھا، جو بازنطینی شہنشاہ تھیوفیلوس کا آبائی شہر اور سلطنت کا ایک اہم قلعہ تھا۔ راستے میں آنے والے تمام بازنطینی شہروں کو فتح کرتے ہوئے، یہ اسلامی لشکر عموریہ کے دروازوں پر پہنچا۔ عموریہ کی دیواریں ناقابل تسخیر سمجھی جاتی تھیں اور اس میں بازنطینیوں کی ایک بڑی فوج موجود تھی۔
خلیفہ کی قیادت میں، مسلمانوں نے کئی دنوں تک عموریہ کا محاصرہ جاری رکھا۔ تیر، منجنیق، اور آگ کے گولے برسائے گئے۔ لیکن مسلمانوں کا جذبہ بے مثال تھا۔ آخرکار، ایک کمزور جگہ پر دیوار میں شگاف پڑا اور اسلامی لشکر شہر میں داخل ہو گیا۔ ایک خونریز جنگ کے بعد، مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی۔ عموریہ کے قلعے اور شہر کو زمین بوس کر دیا گیا اور اس طرح اس عورت کی پکار کا جواب دیا گیا۔
یہ فتح صرف ایک شہر کی فتح نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا پیغام تھا جس نے بازنطینی سلطنت کی کمر توڑ دی اور مسلمانوں کی عظمت کا سکہ ایک بار پھر دنیا پر بٹھا دیا۔
بابک خرم دین کی سرکشی اور اس کا دردناک انجام
خلیفہ المعتصم کو صرف بیرونی دشمنوں سے ہی نہیں نمٹنا تھا، بلکہ سلطنت کے اندرونی باغیوں نے بھی ان کے لیے چیلنج کھڑے کر رکھے تھے۔ ان میں سب سے بڑا نام ایک ایرانی باغی، بابک خرم دین کا تھا، جس نے کئی سالوں تک عباسیوں کو پریشان کیے رکھا۔ بابک کوئی مسلمان نہیں تھا بلکہ ایک پرانے ایرانی مذہب "خرمیہ" کا پیروکار تھا، جو ایران میں آتش پرستی اور پرانی ساسانی سلطنت کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتا تھا۔
بابک نے آذربائیجان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں کو اپنا مرکز بنا رکھا تھا۔ اس کے ساتھی، جنہیں "خرمیہ" کہا جاتا تھا، پہاڑوں اور درّوں کی بھول بھلیوں سے خوب واقف تھے اور گوریلا جنگی حربوں میں ماہر تھے۔ وہ عباسی فوجوں پر گھات لگا کر حملہ کرتے، شدید نقصان پہنچاتے اور پھر پہاڑوں میں غائب ہو جاتے۔ اس باغی تحریک نے بیس سال سے زیادہ عرصے تک عباسی خلافت کو پریشان کیے رکھا اور کئی عباسی کمانڈر اس کے خلاف ناکام ہو چکے تھے۔
خلیفہ المعتصم نے جب خلافت سنبھالی تو اس نے اس بغاوت کو مکمل طور پر کچلنے کا عزم کیا۔ اس نے اپنی سب سے تجربہ کار اور بہادر فوج کو بابک کے خلاف بھیجا اور قیادت کے لیے حیدر بن کاؤس الأفشین جیسے ماہر جنگی کمانڈر کا انتخاب کیا۔ افشین نے بابک کے گڑھ تک پہنچنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے آہستہ آہستہ پہاڑی راستوں میں اپنی چوکیاں قائم کیں اور بابک کے ٹھکانوں کو چاروں طرف سے گھیرنا شروع کیا۔
ایک طویل اور سخت جدوجہد کے بعد، افشین کی فوجیں بالآخر بابک کے مرکزی قلعے تک پہنچ گئیں اور اسے شکست دے دی۔ بابک کو فرار ہونے کا موقع ملا، لیکن اسے ایک مقامی زمیندار نے دھوکے سے پکڑ لیا اور افشین کے حوالے کر دیا۔ بابک کو زنجیروں میں جکڑ کر بغداد لایا گیا، جہاں اس کا ایک دردناک انجام مقدر تھا۔
خلیفہ المعتصم نے فیصلہ کیا کہ بابک کی موت اس طرح سے ہو کہ وہ دوسروں کے لیے عبرت بن جائے۔ اسے ایک اذیت ناک طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اس کا ایک ایک عضو کاٹ کر اسے لٹکا دیا گیا تاکہ بغاوت کا خیال رکھنے والا ہر شخص اس کا انجام دیکھ سکے۔
یہ فتح بھی خلیفہ المعتصم کی غیر معمولی قیادت اور عزم کا ثبوت تھی۔ اس نے نہ صرف بیرونی دشمنوں کو زیر کیا بلکہ اندرونی بغاوتوں کو بھی کچل ڈالا۔ عموریہ کی فتح اور بابک کی سرکشی کا خاتمہ، دونوں واقعات نے المعتصم کے دور کو عباسی خلافت کی تاریخ میں ایک شاندار باب کے طور پر درج کر دیا۔

0 Comments