ہلاکو خان: بغداد کی تباہی کی کہانی
تاریخ کے اوراق میں ایک ایسا المناک اور ہولناک باب رقم ہے جس نے دنیا کی سب سے بڑی اور شاندار سلطنتوں میں سے ایک، عباسی خلافت، کا چراغ گل کر دیا۔ یہ باب ایک خونخوار جنگجو، چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان، اور عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے بغداد کے آخری حکمران، خلیفہ معتصم باللہ کے درمیان ہونے والے ایک خوفناک تصادم کی کہانی بیان کرتا ہے۔
عروج اور زوال کی ابتدا
بارہویں صدی کے وسط تک بغداد علم، فن اور ثقافت کا ایک عظیم مرکز بن چکا تھا، جسے اسلامی "سنہری دور" کا دل مانا جاتا تھا۔ اس کی لائبریریاں اور علمی ادارے دنیا بھر کے محققین اور دانشوروں کے لیے روشنی کا مینار تھے۔ لیکن اندرونی سازشیں اور فوجی غفلت اس عظیم الشان سلطنت کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہی تھیں۔ اسی دوران، مشرق سے ایک طوفان اٹھا جس کی قیادت ہلاکو خان کر رہا تھا، جس کی فوجیں منگول سلطنت کی توسیع کا جھنڈا لیے آگے بڑھ رہی تھیں۔
ہلاکو خان نے اپنی مہمات کے دوران خلیفہ معتصم باللہ سے مدد مانگی، لیکن خلیفہ نے غرور کے ساتھ اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔ خلیفہ نے اپنے ایک خط میں ہلاکو کو دھمکی بھی دی کہ اس کی فوجیں منگولوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گی۔ یہ جواب ہلاکو خان کے لیے کافی اشتعال انگیز تھا اور اس نے فوری طور پر بغداد کی جانب پیش قدمی کا فیصلہ کیا۔
خلیفہ کی غفلت اور بغداد کا دفاع
بغداد پر حملہ یقینی تھا، لیکن خلیفہ اس خطرے کی شدت کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے وزیر ابن العلقمی نے جان بوجھ کر خلیفہ کو گمراہ کیا اور شہر کی فوجی طاقت کو کمزور کر دیا تھا۔ ایک اور روایت کے مطابق خلیفہ نے بغداد کے دفاع کے لیے لاکھوں سپاہی بھرتی کرنے کی تجویز بھی یہ کہہ کر رد کر دی تھی کہ اس کے خزانے میں اتنی رقم نہیں ہے۔ درحقیقت، خلیفہ اپنی ذاتی عیش و عشرت اور موسیقی کے شوق میں زیادہ مشغول تھا۔ اس نے شہر کی فصیلوں کو مضبوط کرنے پر بھی کوئی توجہ نہیں دی، حالانکہ منگولوں کے حملے کا خطرہ واضح تھا۔
بغداد کا المناک سقوط
جنوری 1258ء کے اوائل میں، ہلاکو خان کی قیادت میں ایک بڑی منگول فوج بغداد کی سرحدوں تک پہنچ گئی۔ انہوں نے شہر کا محاصرہ کیا اور شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ خلیفہ نے مقابلہ کرنے کے لیے 20,000 سپاہیوں کا ایک دستہ بھیجا، لیکن منگولوں نے انہیں بری طرح شکست دی اور پھر دریا کے بند توڑ کر ان کے پیچھے کی زمین کو سیلاب سے بھر دیا، جس سے تمام فوجی پھنس کر تباہ ہو گئے۔
آخرکار، 10 فروری 1258ء کو بغداد کا عظیم الشان شہر منگولوں کے سامنے سرنگوں ہو گیا۔ شہر کے دروازے کھلتے ہی ہلاکو کی افواج اندر داخل ہوئیں اور بغداد کو ایک ہولناک قتل گاہ میں تبدیل کر دیا۔ یہ قتل و غارت کئی دنوں تک جاری رہا اور منگولوں نے لاکھوں بے گناہ شہریوں کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔ خود ہلاکو خان کے اندازے کے مطابق 200,000 سے زیادہ افراد مارے گئے، جبکہ مسلم ذرائع کے مطابق یہ تعداد کہیں زیادہ تھی۔ شہر کے تمام علمی اور ثقافتی خزانے تباہ کر دیے گئے۔ تباہی کا یہ منظر اس قدر عبرت ناک تھا کہ کئی تاریخی ذرائع کے مطابق، تین دن بعد منگولوں کی افواج کو بھی شہر چھوڑنا پڑا کیونکہ گلیوں اور محلوں میں سڑی ہوئی لاشوں کی بدبو ناقابل برداشت ہو چکی تھی۔
خلیفہ کا عبرت ناک انجام
بغداد کے سقوط کے بعد، ہلاکو خان کا سامنا آخری عباسی خلیفہ معتصم باللہ سے ہوا۔ مارکو پولو سمیت کئی مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ ہلاکو خان نے خلیفہ کو اس کے خزانوں کے ساتھ قید کر دیا۔ ہلاکو نے خلیفہ کے سامنے سونے کی طشتریاں رکھیں اور طنزیہ لہجے میں کہا: "اس سونے کو کھاؤ جو تم نے جمع کیا تھا۔" خلیفہ نے بے چارگی سے کہا کہ وہ سونا کیسے کھا سکتا ہے، جس پر ہلاکو نے اس سے پوچھا کہ پھر اس نے یہ سونا سپاہیوں کو دے کر شہر کی حفاظت کیوں نہیں کی۔
خلیفہ کی موت بھی ایک تاریخی عبرت کا نشان ہے۔ منگولوں کا ایک توہم پرستانہ عقیدہ تھا کہ کسی بادشاہ یا شاہی خون کو زمین پر بہانا بد شگونی لاتا ہے۔ اسی عقیدے کے تحت، ہلاکو خان نے معتصم باللہ کو ایک قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں کے پاؤں تلے کچل ڈالا تاکہ اس کا خون زمین پر نہ گرے۔ اس سفاکانہ انجام کے ساتھ، 500 سال پرانی عباسی خلافت کا خاتمہ ہو گیا۔
بغداد کا سقوط صرف ایک شہر کی تباہی نہیں تھا، بلکہ یہ اسلامی دنیا کے "سنہری دور" کا خاتمہ تھا۔ یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ طاقت، اقتدار اور خوشحالی کا اصل سرچشمہ محلوں میں جمع ہونے والا سونا نہیں بلکہ بصیرت مند قیادت اور ایک مضبوط قوم ہوتی ہے جو اپنی اقدار اور دفاع کے لیے ہر قیمت پر تیار رہتی ہے۔
.jpg)




0 Comments