Kayf par Mangolon ka hamla

 کیف پر منگولوں کا حملہ: ایک دل دہلا دینے والی داستان

تیرہویں صدی کا زمانہ تھا جب ایشیا کے وسیع میدانوں سے ایک ایسی طوفانی آندھی اٹھی جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ منگول تھے، جن کی فوجوں کی قیادت چنگیز خان کے پوتے، باتو خان، کر رہے تھے۔ ان کا مقصد یورپ کے دل تک اپنی حکومت قائم کرنا تھا۔ ان کے راستے میں جو بھی شہر آتا، وہ اسے تہس نہس کر دیتے تھے۔ سن ۱۲۴۰ء میں ان کی نظر ایک خوبصورت اور طاقتور شہر پر پڑی، جس کا نام کیف (Kyiv) تھا، جو کہ مشرقی یورپ کا ایک اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز تھا۔



باتو خان نے اپنی فوج کے ایک بڑے حصے کو کیف کی جانب بھیجا۔ جب منگولوں کی فوج کی دھمک سن کر کیف کے باشندوں نے قلعے کے دروازے بند کر دیے، تو منگولوں نے شہر کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ شہر کی دیواریں بہت مضبوط تھیں اور اس کے محافظوں کی کمانڈ ایک بہادر سردار دمیترو کر رہے تھے۔ منگولوں نے شہر پر توپوں اور پتھر پھینکنے والی مشینوں سے حملہ کیا، لیکن کیف کے باشندوں نے بہادری سے مقابلہ کیا۔

کئی ہفتے گزر گئے، لیکن منگولوں کا غصہ کم نہ ہوا۔ انہوں نے شہر کی دیواروں کو توڑنے کے لیے مسلسل حملے کیے۔ شہر کے اندر خوراک اور پانی کی کمی ہونے لگی اور لوگ تھکنے لگے۔ آخر کار، منگولوں نے ایک حکمت عملی اختیار کی۔ انہوں نے قلعے کی ایک کمزور جگہ پر حملہ کیا اور دیوار کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ دیوار کے ٹوٹتے ہی منگول فوج کا ایک سمندر شہر کے اندر داخل ہو گیا۔

اندھا دھند قتل و غارت شروع ہو گئی۔ گلی کوچوں میں خون بہنے لگا، اور عمارتیں جلنے لگیں۔ منگولوں نے کسی پر رحم نہیں کھایا، نہ مردوں پر، نہ عورتوں پر، اور نہ ہی بچوں پر۔ شہر کے خوبصورت اور تاریخی مقامات، جیسے کہ چرچ آف دی ٹیتھز، کو تباہ کر دیا گیا۔ یہ ایک ایسی ہولناک تباہی تھی کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ لوگ جو اپنے گھروں میں چھپے تھے، انہیں بھی ڈھونڈ کر مار دیا گیا۔

جب قتل عام ختم ہوا، تو شہر کی خوبصورتی اور اس کی رونق ختم ہو چکی تھی۔ کیف ایک ویران اور لاشوں سے بھرا ہوا شہر بن گیا تھا۔ ہزاروں لوگ مارے گئے اور شہر کی ساری دولت لوٹ لی گئی۔ دمیترو کو زندہ گرفتار کر لیا گیا، لیکن اس کی بہادری سے متاثر ہو کر باتو خان نے اسے زندگی بخش دی۔

کیف کا زوال صرف ایک شہر کا زوال نہیں تھا، بلکہ یہ اس خطے کے لیے ایک تاریک دور کا آغاز تھا۔ یہ تباہی آنے والے صدیوں تک لوگوں کے ذہنوں میں ایک خوفناک یاد کے طور پر رہی۔ یہ منگولوں کی بے رحمی اور طاقت کی ایک ایسی مثال تھی جس نے یورپ کو بھی خوفزدہ کر دیا۔ کیف پر منگولوں کا قبضہ ایک المناک داستان ہے جو انسانیت کے ایک تاریک باب کو ظاہر کرتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments