عقل مند گدھا اور لالچی مالک
ایک گاؤں میں بشیر نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ وہ بہت لالچی اور تھوڑا سا سست بھی تھا۔ اس کے پاس ایک گدھا تھا جس کا نام “بادشاہ” تھا۔ گاؤں والے کہتے تھے کہ گدھا تو سیدھا سادہ ہے، مگر مالک خود پورا الٹا ہے۔
بشیر ہر روز اپنے گدھے پر اتنا سامان لاد دیتا کہ بیچارہ گدھا چلتے چلتے ہانپنے لگتا۔ مگر بشیر کہتا:
“ارے! گدھا ہے، کوئی مہمان تھوڑی ہے!”
ایک دن بشیر نے سوچا:
“اگر میں ایک دن میں دو چکر لگانے کے بجائے چار چکر لگاؤں تو زیادہ پیسے کماؤں گا!”
اس نے گدھے پر پہلے سے دگنا سامان لاد دیا۔ گدھا بمشکل چل رہا تھا۔ راستے میں ایک بوڑھا شخص ملا۔ اس نے کہا:
“بھائی! جانور پر رحم کرو۔ زیادہ لالچ اچھی چیز نہیں۔”
بشیر ہنس کر بولا:
“بابا جی! آپ اپنا کام کریں، میرا گدھا مضبوط ہے!”
گدھا دل ہی دل میں سوچ رہا تھا:
“مالک مضبوط نہیں، بے عقل ہے!”
چلتے چلتے وہ ایک چھوٹے پل پر پہنچے۔ گدھا پہلے ہی تھکا ہوا تھا۔ اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور سارا سامان ندی میں جا گرا۔
بشیر زور زور سے چیخنے لگا:
“ہائے میری محنت! ہائے میرا سامان!”
گدھا ایک طرف کھڑا سکون سے گھاس کھانے لگا، جیسے کہہ رہا ہو:
“اب ذرا سکون آیا!”
بشیر نے غصے میں گدھے کو ڈانٹا:
“نالائق! سب کچھ ڈبو دیا!”
اتنے میں وہی بوڑھا شخص دوبارہ وہاں آگیا۔ اس نے مسکرا کر کہا:
“بیٹا! قصور گدھے کا نہیں، تمہارے لالچ کا ہے۔ اگر تھوڑا کم بوجھ ڈالتے تو آج سارا سامان بچ جاتا۔”
بشیر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس دن کے بعد اس نے کبھی گدھے پر زیادہ وزن نہیں لادا۔ اب وہ گدھے کو وقت پر کھانا بھی دیتا اور آرام بھی کرواتا۔
چند دن بعد گاؤں والے حیران تھے کہ بشیر پہلے سے زیادہ کما رہا ہے۔
ایک شخص نے پوچھا:
“یہ کیسے ہوا؟”
بشیر ہنس کر بولا:
“جب میں نے لالچ کم کیا، نقصان بھی کم ہوگیا!”
یہ سن کر سب ہنس پڑے، حتیٰ کہ گدھے نے بھی ایسی آواز نکالی جیسے وہ بھی مذاق سمجھ گیا ہو۔
سبق:
لالچ انسان کو نقصان پہنچاتا ہے، جبکہ نرمی، عقل اور اعتدال ہمیشہ فائدہ دیتے ہیں۔

0 Comments