From Betrayal to Regret: The Bond of Family


رشتوں کی بے حسی اور پچھتاوا



 💔 گیارہ سال اپنے بھائی کی فیسیں بھرتا رہا۔ پھر ایک دن جب مجھے اُس کی ضرورت پڑی، اُس نے مجھے بلاک کر دیا۔ 🕯️😓🥹


میرے ابو جب فوت ہوئے، اُس دن گھر میں سب سے زیادہ خاموش “میں“ تھا۔







لوگ سمجھ رہے تھے شاید مجھے صدمہ کم لگا ہے۔


مگر سچ یہ تھا کہ اُس دن میرے اندر لڑکپن مر گیا تھا۔ 💔


میرا نام سلمان ہے۔


میں فیصل آباد کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔


ابو سرکاری اسکول میں استاد تھے۔ 📚


تنخواہ زیادہ نہیں تھی، مگر عزت بہت تھی۔


پھر ایک شام اسکول سے واپس آتے ہوئے اُنہیں دل کا دورہ پڑا… اور ہمارے گھر کی دیواروں کا رنگ بدل گیا۔ 🥀


امی کی آنکھوں کے نیچے مستقل سیاہ حلقے آ گئے۔


رشتہ دار تین دن افسوس کرتے رہے، پھر مشورے دینے لگے۔


“لڑکا بڑا ہو گیا ہے، اب ذمہ داری سنبھالے۔”


وہ “لڑکا” میں تھا۔


میں اُس وقت انٹرمیڈیٹ میں تھا۔


میرا چھوٹا بھائی، حسان، صرف سات سال کا تھا۔ 👦


اُسے ابھی تک پوری طرح سمجھ بھی نہیں آئی تھی کہ ابو واپس کیوں نہیں آ رہے۔


پہلے سال میرا یونیورسٹی میں داخلہ رہ گیا۔


فیس نہیں تھی۔


میں نے سوچا اگلے سال دیکھ لوں گا۔


پھر اگلا سال کبھی آیا ہی نہیں۔ 🖤


صبح میں ایک موبائل شاپ پر کام کرتا۔


شام کو بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا۔


رات کو آن لائن کپڑے بیچتا۔


زندگی اُس دور میں دنوں میں نہیں، بلوں میں گزرتی تھی۔


بجلی کا بل۔

گھر کا کرایہ۔

امی کی دوائی۔

اور حسان کی اسکول فیس۔


بس یہی میری دنیا تھی۔ 💔


حسان بہت ذہین تھا۔


جب وہ پہلی بار بورڈ میں پوزیشن لے کر آیا تو پورا محلہ مبارک دینے آیا۔ 🎉


امی روتے ہوئے بار بار کہہ رہی تھیں:


“تمہارے ابو ہوتے تو آج بہت خوش ہوتے…”


اور میں دروازے کے پاس کھڑا لوگوں کے جوتے سیدھے کر رہا تھا۔


عجیب بات ہے…


قربانی دینے والے اکثر تصویروں میں نہیں آتے۔ 🥀


پھر حسان یونیورسٹی چلا گیا۔


میں نے اُس کے لیے اپنا موٹر سائیکل بیچ دیا تاکہ وہ لاہور کے اچھے ادارے میں داخلہ لے سکے۔ 🏍️


اُسے کبھی احساس بھی نہ ہونے دیا کہ گھر کیسے چل رہا ہے۔


وہ جب فون کرتا، میں ہمیشہ یہی کہتا:


“بس پڑھائی پر دھیان دو۔ باقی میں دیکھ لوں گا۔”


اور واقعی…


میں سب دیکھ لیتا تھا۔


اپنی تھکن نہیں دیکھی۔

اپنی عمر نہیں دیکھی۔

اپنے خواب نہیں دیکھے۔ 💔


پھر ایک دن حسان کو بیرونِ ملک اسکالرشپ مل گئی۔ ✈️


پورا خاندان خوش تھا۔


محلے والے کہتے:


“ماشاءاللہ، اب تو گھر کے دن پھر جائیں گے۔”


میں بھی یہی سوچتا تھا۔


ایئرپورٹ پر اُس نے مجھے گلے لگا کر کہا:


“بھائی… آپ نے جو میرے لیے کیا ہے نا، میں کبھی نہیں بھولوں گا۔”


قسم سے…


بعض جملے انسان پوری زندگی سچ سمجھ کر جیتا رہتا ہے۔ 🥹


پانچ سال بعد حسان واپس آیا۔


اچھی نوکری۔

بڑی گاڑی۔ 🚘

انگریزی لہجہ۔

مہنگی گھڑی۔ ⌚


امی اُس کے لیے پسند کے کھانے بناتیں۔


رشتہ دار اُس کے گرد بیٹھتے۔


اور میں اب بھی وہی تھا۔


موبائل شاپ سے نکل کر ایک چھوٹے دفتر میں اکاؤنٹس کا کام کرنے والا آدمی۔


فرق صرف اتنا تھا کہ اب میرے بالوں میں سفیدی آنا شروع ہو گئی تھی۔ 🖤


پھر پچھلے سال میری کمپنی بند ہو گئی۔


تنخواہ رک گئی۔


کرایہ چڑھ گیا۔


اور پہلی بار زندگی میں مجھے کسی سہارے کی ضرورت پڑی۔


صرف چند مہینوں کے لیے۔ 😔


میں نے بہت دیر تک حسان کو فون نہیں کیا۔


عجیب شرمندگی ہوتی ہے اُس انسان سے مدد مانگنے میں… جسے آپ نے ہمیشہ بچایا ہو۔


آخر ایک رات ہمت کی۔


فون ملایا۔


اُس نے کافی دیر بعد اٹھایا۔


“جی بھائی؟”


آواز میں وہ گرمی نہیں تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔


میں نے ہنسنے کی کوشش کی۔


“یار تھوڑا مسئلہ چل رہا ہے…”


پھر آہستہ آہستہ اُسے سب بتایا۔


کافی دیر خاموشی رہی۔


پھر اُس نے ایک لمبی سانس لی۔


“بھائی… ایک بات بولوں؟ برا نہ ماننا۔”


میں خاموش رہا۔


وہ بولا:


“آپ کو اپنی زندگی بہتر پلان کرنی چاہیے تھی۔”


مجھے لگا شاید مذاق کر رہا ہے۔


مگر پھر وہ ہنسا اور بولا:


“ہر وقت emotional decisions لینے سے یہی ہوتا ہے۔”


میرا گلا خشک ہو گیا۔


“Emotional decisions…؟”


“بھائی، آپ نے جو کیا اپنی مرضی سے کیا۔ اب ہر چیز کا بوجھ مجھ پر تو نہیں ڈال سکتے نا۔”


“بوجھ…” 💔


یہ لفظ سیدھا میرے سینے میں لگا۔


میں نے بہت آہستہ پوچھا:


“میں نے کبھی تمہیں بوجھ لگنے دیا؟”


وہ خاموش رہا۔


پھر بولا:


“Please guilt trip مت کریں۔ میری بھی اپنی life ہے۔”


اُس لمحے مجھے پہلی بار احساس ہوا…


کچھ لوگ آپ کی قربانیوں کے ساتھ بڑے تو ہو جاتے ہیں، مگر اُن کی قیمت کبھی نہیں سمجھتے۔ 🥀


فون بند ہونے کے بعد میں کافی دیر بیٹھا رہا۔


امی کچن میں تھیں۔


وہ پوچھ رہی تھیں:


“حسان کیا کہہ رہا تھا؟”


میں نے جھوٹ بول دیا۔


“بس… دعا کر رہا تھا میرے لیے۔”


اُس رات میں بہت رویا۔


اتنا کہ سینے میں درد ہونے لگا۔ 😢


مگر اصل درد تین دن بعد ہوا۔


جب میں نے دوبارہ فون کیا…


اور نمبر بلاک تھا۔


بلاک۔ 📵


جیسے میں کوئی اجنبی تھا۔


جیسے میری آواز اُس کی نئی زندگی کے لیے شرمندگی ہو۔


امی نے جب سنا تو کئی گھنٹے خاموش بیٹھی رہیں۔


پھر آہستہ سے بولیں:


“میں نے ایک بیٹا پالنے میں غلطی کی ہے… یا دوسرے کو قربانی سکھانے میں۔”


وقت گزرتا گیا۔


میں نے چھوٹی موٹی نوکریاں کر کے زندگی دوبارہ سنبھال لی۔


آہستہ آہستہ۔


ٹوٹے ہوئے انسان ہمیشہ مر نہیں جاتے…


کبھی کبھی بس خاموش ہو جاتے ہیں۔ 🖤


پھر ایک دن رات کو دروازہ بجا۔ 🚪


میں نے کھولا۔


سامنے حسان کھڑا تھا۔


پہچان میں نہیں آ رہا تھا۔


آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے۔


بکھرے بال۔


اور ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ۔


میں کچھ بولتا، اُس سے پہلے وہ میرے قدموں میں بیٹھ گیا۔


“بھائی… مجھے معاف کر دیں…” 😭


میرا دل نہیں پگھلا۔


صرف حیران ہوا۔


پھر پتا چلا…


جس کمپنی میں وہ کام کرتا تھا، وہاں فراڈ کیس نکلا۔


نوکری گئی۔

دوست گئے۔

رشتے گئے۔


اور جب اُس نے اُن لوگوں کو فون کیا جن کے لیے اُس نے ہمیں بھلایا تھا…


کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ 💔


وہ روتے ہوئے بولا:


“بھائی… میں بہت اکیلا ہو گیا ہوں…”


میں کافی دیر اُسے دیکھتا رہا۔


پھر مجھے اچانک ابو یاد آ گئے۔


اگر وہ زندہ ہوتے تو شاید یہی کہتے:


“خاندان وہ جگہ ہے جہاں انسان گرنے کے بعد واپس آ سکے۔” 🕯️


میں نے حسان کو اٹھایا۔


گلے لگایا نہیں۔


بس دروازے سے ہٹ گیا۔


“اندر آ جاؤ…”


وہ اندر آیا تو امی جائے نماز پر بیٹھی تھیں۔


حسان اُن کے قدموں میں گر کر رونے لگا۔


امی نے اُس کے سر پر ہاتھ رکھا اور صرف ایک جملہ کہا:


“بیٹا… ماں باپ اور بڑے بھائی درختوں کی طرح ہوتے ہیں۔

جب تک سایہ ملتا رہتا ہے، انسان اُن کی قیمت نہیں سمجھتا۔” 🌳


آج حسان پھر ہمارے ساتھ رہتا ہے۔


وہ اب بھی ہر رات سونے سے پہلے میرے کمرے کے دروازے پر ضرور رکتا ہے۔


اور عجیب بات ہے…


اب اُس کی سب سے بڑی کوشش مجھے پیسے دینا نہیں ہوتی۔


مجھے سننا ہوتی ہے۔ ❤️


کیونکہ اُسے آخرکار سمجھ آ گیا ہے…


انسان روٹی کی کمی سے کم، اپنوں کی بےحسی سے زیادہ ٹوٹتا ہے۔ 🥀🕯️

Post a Comment

0 Comments