خیالی گھڑا
شیخ چلی کو وہم ہو گیا تھا
کہ اُن کے سر پر مٹی کا گھڑا رکھا ہے۔ اس خیالی گھڑے کو ہر وقت دونوں ہاتھوں سے سنبھالے
اور ٹوٹنے سے بچانے کی فکر میں رہتے تھے۔ کمرے یا گھر کے دروازے سے نکلتے تو بڑی احتیاط
برتے۔ گھٹنوں کو ٹم دے کر آہستہ آہستہ چلتے کہ نہیں گھڑا چوکھٹ سے ٹکرا کر ٹوٹ نہ جائے۔
راستہ چلتے تو پھونک پھونک کر قدم رکھتے کہ سی کا دھکا یا خود نہیں ٹھو کر نہ لگ جائے
اور گھڑا زمین پر آر ہے۔ شیخ چلی کی اس بیماری سے اُن کی اماں بہت ریشان تھیں۔ لاک
جھا تیں کہ کوئی گھر اوڑ نہیں ہےتیرے سرپر گر شیخ چلی نہ مانتے ہے کیوں نہیں۔ بوجھ
سے ہماری گردن ٹوٹی جاتی ہے اور تم کہتی ہو گھڑا سر پر نہیں ہے۔ لتاں اپنی آنکھوں کا
علاج ردا جو انا بڑ گھڑا بھی نہیں دیکھ سکتیں وہ چی اُٹھتے۔ بس کھانا کھاتے اور سوتے
وقت وہ خیالی گھڑا اتار کر قریب رکھ لیتے ۔ ورنہ ہر وقت ہر جگہ سر پر ہی اُٹھائے پھرا
کرتے۔ ایک روز بازار جانے کو گھر سے نکلے کی کا موڑ مڑ کر سڑک پر آئے تھے کہ ایک نوجوان
تانے والا، تا نگا بھگا تا گزرا۔ نکر ہوتے ہوتے بچی تھی۔ شیخ چلی لڑکھڑ گئے اور خیالی
گھڑے کو مضبوطی سے سر پر جاتے ہوئے چلائے: ارے بدبخت ! کیا تیری ساس کی بارات نکی جارہی
ہے کہ دیوانوں کی طرح تانگا بھگائے چلا جا رہا ہے۔ ابھی ہمارا گھڑا گر کر پھوٹ جاتا۔”
تانگے والا تو کیا سنا وہ تو اتنی دیر میں کہیں کا کہیں نکل گیا تھا۔ قریب ہی ایک شریر
لڑ کا کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ حیرت سے بولا: گھڑا کون سا گھڑا پھوٹ جاتا ؟ ۔” شیخ
چلی نے غصے سے لڑکے کو گھورا اور بر اسامنہ بنا کر بولے: یہی جو ہمارے سر پر دھرا ہے
اورکون سا تا بڑا گھڑا دکھائی نہیں دیتا آنکھیں ہیں یا
کا مجھ گیا یہ کوئی پاگل
ہے۔ اُس کے ہونٹوں پر شرارت آمیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس دوران کچھ اور لڑ کے بھی وہاں
آگئے تھے سب شیخ چلی کے پیچھے لگ گئے۔ توڑ دو تور دو اس کا گھڑا توڑ دو وہ نعرے لگاتے
اُن پر پھر پھینکنے لگے۔ شیخ چلی کی حالت دیکھنے والی تھی۔ دونوں ہاتھوں سے خیالی گھڑا
سنبھالے پتھروں سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ گھڑے کے گر جانے کا خوف اُنہیں بھاگئے
بھی نہ دیتا تھا۔ کچھ لوگوں نے ڈانٹ ڈپٹ کر لڑکوں کو بھگایا۔ شیخ چلی بجائے بازار جانے
کے بانیتے کانپتے گھر لوٹ گئے۔ گھڑائر سے اتار کر احتیاط سے ایک طرف رکھا اور نڈھال
سے چار پائی پر گر پڑے۔ اُن کی لماں پریشان ہو کر دوڑی آئیں۔ کیا ہوا میرے بچے ۔ طبیعت
تو ٹھیک ہے تیری ۔ انہوں نے شیخ چلی کی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ ارے اماں
نہ پوچھ کیا ہوا۔ شیخ چلی روپانسی آواز میں بولے ۔ نجانے ساری دنیا ہمارے گھڑے کے پیچھے
کیوں پڑ گئی ہے۔ آج تو اُن شیطان کے چیلوں نے پھوڑ ہی ڈالا تھا اگر کچھ بھلے لوگ اُنہیں
بھگانہ دیتے ۔ اسی وقت شیخ چلی کی خالہ گھر میں داخل ہوئیں۔ شیخ چلی کی حالت دیکھ کر
وہ بھی پریشان ہو گئیں۔ ماجرا سن کر شیخ چلی کی کہاں سے بولیں : اے باجی .. مجھے لگتا
ہے سایہ ہو گیا ہے اس پر کسی مولوی کو دکھاؤ۔ پھر کچھ سوچنے کے بعد کہا ہمارے محلے
میں ایک حکیم جی ہیں بڑے اللہ والے ۔ بہت شفا ہے اُن کے ہاتھ میں روحانی علاج بھی کرتے
ہیں ۔ انہی کے پاس چلو! انگلے روز دونوں بہنوں نے شیخ چلی سے حکیم کے پاس چلنے کو کہا
تو وہ پھیل گئے کہ ہم تو نہیں جائیں گے۔ دونوں بہنوں نے سمجھایا تو بولے: کیوں جائیں
ہم حکیم کے پاس نہ بخار نہ کھائی نہ کچھ اور تم لوگوں کو کوئی بیماری ہے تو تم چلی
جاؤ میں کیوں لے جارہی ہو
دونوں نے بہت مفت سماجت کی
تو بالآخر راضی ہو گئے۔ حکیم صاحب نے پورا حال سُنا ۔ اُن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی
بھی چلی کی ماں سے بولے: تو آپ کے خیال میں آپ کے بیٹے کو وہم ہے کہ اس کے سر پر کوئی
گھڑا کھا ہے؟! جی حکیم جی! اماں نے جواب دیا۔ اور اس وہم سے یہ خود ہی نہیں. ہم سب
بھی بہت پریشان ہیں اور ہماری یہ بہن تو کہتی ہیں کہ اس پر کوئی سایہ ہو گیا ہے۔ اللہ
کے واسطے گر بہن ! حکیم صاحب کی مسکراہٹ گہری ہوگئی ۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ وہم آپ کے
ئے کو نہیں خود آپ کو ہو گیا ہے کہ اس کے سر پر کوئی گھڑا موجود نہیں ہے۔ گھر تو واقعی
رکھا ہوا ہے اس کے سر پر۔” حکیم صاحب کی بات سے شیخ چلی کی اماں اور خالہ پر تو حیرتوں
کے پہاڑ ٹوٹ پڑے مگر شیخ چلی خوشی سے اچھل پڑے اور فور ہی خیالی گھڑے کو دونوں سے ہاتھوں
سے سنبھالتے ہوئے بولے: دیکھا ہم نہ کہتے تھے ہمیں کوئی وہم نہیں ہے۔ تم لوگوں کی بینائی
کمزور ہوگئی ہے۔ اب تو حکیم جی نے بھی کہ دیا بولو اب کیا کہتی ہو!! دونوں بنوں کو
تو جیسے سکتہ ہوگیا تھا۔ ہ کیا کہیں ۔ حکیم صاحب نے تین چلی کو اگلے روز شام کو اکیلے
آنے کو کہا اور جب یہ لوگ چلے گئے تو اپنے ملازمین کو بلا کر کچھ ہدایات دیں۔ انہوں
نے کہا: کل شام سامنے والے نیم کے درخت کے نیچے دو کرسیاں لگا دی جائیں ۔ پھر ایک ملازم
کی ڈیونی لگائی کہ وہ ایک خالی گھڑا لے کر درخت پر بیٹھ جائے اور دوسرے کو ذمہ داری
سونہی کہ وہ ایک ڈنڈالے کر درخت کی آڑ میں کھڑا رہے اور شیخ چلی سے گفتگو کے دوران
جب وہ اشارہ کریں تو دبے پاؤں آکر شیخ چلی کے سر سے کچھ اوپر اس طرح ڈنڈا گھائے گویا
ان کے سر پر دھرے گھڑے کو نشانہ بنایا ہو۔ اسی وقت درخت پر بیٹھا ملازم گھڑا نیچے پھینک
دے۔ الے روز شام کو شیخ چلی مطب پہنچ گئے ۔ حکیم صاحب واحد آدمی تھے جنہوں نے شیخ چلی
کے
سر پر گھڑے کی تصدیق کی تھی
اس لیے وہ حکیم صاحب سے بہت خوش تھے۔ حکیم صاحب انہیں ساتھ لے کر درخت کے نیچے کرسیوں
پر جائیٹھے ۔ باتوں کے دوران اشارہ کرنے پر درخت کی آڑ میں چھے ملازم نے شیخ چلی کے
پیچھے پہنچ کر اُن کے سر کے اوپر ہوا میں ڈنڈا کھایا۔ اسی وقت درخت پر بیٹھے ملازم
نے گھڑا نیچے پھینک دیا جو گرتے ہی لکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ ارے یہ کیا حکیم صاحب نے گھبرا
جانے کی اداکاری کی میرے معزز مہمان کا گھڑا پھوڑ ڈالا۔ ٹھہر تو جا بد معاش. وہ پیچتے
ہوئے کرسی سے اُٹھے مگر ڈنڈے سے وار کرنے والا ملازم اتنی دیر میں نظروں سے او بھل
ہو چکا تھا۔ بھاگ گیا بدبخت ہاتھ جاتا تو کیم صاحب دو چار قدم دوڑنے کے بعد رک کر بڑ
بڑائے اور واپس شیخ چلی کے پاس آئے جو حیران پریشان یہ سارا نظر دیکھ رہے تھے۔ آپ کو
کوئی چوٹ تو نہیں آئی حکیم صاحب نے شیخ چلی کے کاندھے پر ہمدردی سے ہاتھ رکھتے ہوئے
پوچھا۔ دیا۔ ن نہیں ہم بالکل ٹھیک ہیں۔ شیخ چلی نے چون کر جواب نے گر افسوس - آپ کا
گھڑا پھوٹ گیا۔ نجانے کون بدمعاش تھا وہ حکیم صاحب افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا۔ جی ہاں
پپ پا نہیں کون تھا... شیخ چلی نے کہا .. اور ہری سوچ میں ڈوب گئے ۔ پھر ایک ٹھنڈی
سانس بھر کر بولے: چیئے اچھا ہی ہوا ہر وقت سنبھالنا پڑتا تھا۔ جان چھوٹی ۔” حکیم صاحب
مسکراتی نظروں سے انہیں دیکھ رہے تھے۔



0 Comments