Sheikh Chilli ne kichri khayi(شیخ چلی نے کچڑی کھائی)

 

  شیخ چلی نے کچڑی کھائی

   چلی شادی کے بعد پہلی بار سرال گئے تھے۔ خوب آؤ بھگت ہوئی۔ طرح طرح کے مزیدار کھانے پکائے جاتے اور شیخ چلی سیر ہو کر کھاتے۔ ایک روز ساس سے کہا: اماں ( مرغن کھانے کھا کھا کر جی بھر گیا۔ آج کوئی سادہ کھانا پکائے ۔ ساس نے کھڑی پکائی۔ شین چلی نے کیچڑی پہلی بار کھائی تھی۔ بہت پسند آئی ۔ اگلے روزانہیں گھر واپس جانا تھا۔ چلتے وقت ساس سے نام پوچھا کہ گھر جا کر بیوی سے پکائیں گے۔ پرانے وقتوں میں آج کی طرح سواریاں افراط نہ تھیں اکثر لوگ دور دراز کا سفر بھی پیدل طے کرتے تھے۔ شیخ چلی کا گھر بھی سرال سے بہت دور تھا مگر پیدل ہی جانا تھا یہ سوچ کر کہ کھانے کا نام بھول نہ جائیں اُنہوں نے رہنا شروع کر دیا: کسی لفظ کو تسلسل کے ساتھ کثرت سے کہا جائے تو تلفظ بدل کر کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے بیخ چلی کے ساتھ بھی یہی ہوا کھچڑی بگڑ کر کھا چڑی ہو گیا۔ وہ کھا چڑی کھا چڑی کی گردان کرتے چلے جارہے تھے کہ ان کا گزر ایک کھیت کے قریب سے ہوا جہاں باجرے کی تیار فصل پر چڑیوں نے بلا بول رکھا تھا اور کھیت کا مالک کسان انہیں ارا اڑا کر بلکان ہوا جارہا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ ایک شخص کھا ی کھا چڑی کہتا چلا آرہا ہے۔ سخت غصہ آیا کہ میں تو چڑیوں کو اڑا اڑا کر پریشان ہو گیا ہوں اور یہ بدبخت انہیں ہش کارادے رہا ہے کہ کھا چڑی کھا چڑی۔ شیخ چلی قریب آپہنچے تھے۔ کسان نے جھپٹ کر ان کی گردن دبوچی اور پٹائی شروع کر دی۔


شیخ چلی اس افتاد سے گھبرا گئے اور چلائے: ارے ارے بھائی کیوں مارتے ہو مجھے ۔ کیا بگاڑا ہے میں نے کسان نے پیٹھ پر ایک زور کا دھپ رسید کرتے ہوئے کہا: اچھا تو اب تیرا قصور بھی بتانا پڑے گا۔ میں صبح سے ان نامراد چڑیوں کو اُڑا اڑا کر مرا جارہا ہوں جو میری مہینوں کی محنت سے تیار فصل برباد کر دینے پر تکی ہوئی ہیں اور تو انہیں ہش کا را دے رہا ہے کھا چڑی کھا جوی ،، شیخ چلی نے کہا بھائی تم غلہ سمجھ ہو۔ میرا تم سے کیا لینا دیا میں تو وہ کہ رہا تھا جو میری ساس نے مجھے بتایا ہے ۔” خلط بتایا ہے تمہاری ساس نے ۔ کسان نے گرج کر کہا۔ تو پھر صحیح کیا ہے تمہیں معلوم ہے تو تم تا دو شاید میں بھول گیا ہوں ۔” صحیح ہے۔ اڑ چڑی کسان نے کہا۔ اب تم کہو گے اڑچڑی از چڑی شیخ چلی گردن ملتے اُڑ چڑی اُڑ چڑی کہتے چل پڑے راستے میں ایک ندی پڑی جہاں رک کر انہوں نے پانی پیا۔ ایک درخت کے سائے میں کچھ دیر ستائے اور پھر جھوم جھوم کے اُڑچڑی اڑ چڑی کہتے چل دیے۔ ان کا گزرا ایک ایسے مقام سے ہوا جہاں ایک شکاری چڑیاں پکڑنے کے لیے پھندے لگائے بیٹھا تھا۔ صبح سے دوپہر اور اب سہ پہر ہونے والی تھی مگر ایک چڑیا بھی نہ چھنسی تھی۔ وہ سخت بیزار تھا۔ اچانک اُس کے کانوں میں ایک آواز آئی۔ چونک کر دیکھا سامنے ایک شخص کچھ کہتا چلا آرہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ قریب آگیا شکاری کو اُس کی آواز اب صاف سنائی دے رہی تھی وہ کہہ رہا تھا ۔ اُڑ چوی ار چڑی سے سخت غصہ آیا۔ آ دیکھا نہ تاؤ قریب پہنچنے والے شیخ چلی کو گریبان سے پکڑ لیا اور دو تین ٹھپٹر رسید کیے۔ تین چلی چلائے



ارے کیا کرتے ہو بھائی چھوڑ و چھوڑ کیوں مارتے ہو خواہ مخواہ مجھے۔” خواہ مخواه شکاری دانت پیس کر غز ایا۔ میں صبح سے پھندے لگائے بیٹھا ہوں ۔ کوئی یا نہیں پھنس رہی۔ اب کچھ امید ہوئی تھی تو و انہیں اڑنے کو کہہ رہا ہے۔” تم کر بھائی یقین کرو اس میں میرا کوئی قصور نہیں مجھے تو کسان نے تایا تھا کہ اڑ چڑی صح ہے اُڑ چڑی ہی کہنا ہے۔ شیخ چلی نے ہلاتے ہوئے بتایا۔ کسان نے کہا ہو یا مزدور نے مگر خبردار جواب تم نے یہ بات کہی ۔ شکاری ڈپٹ کر بولا تم کہو گئے ایک ایک پھندے میں دود و آئیں۔” اب شیخ چلی ایک ایک پھندے میں دو دو آئیں ایک ایک پھندے میں دو دو آئیں۔ کہتے چل دیے۔ کچھ دور ایک قصبہ تھا یہ وہاں پہنچے تو بہت سے لوگوں کو ایک طرف جاتے دیکھا خود بھی پیچھے ہو لیے۔ تھوڑے فاصلے پر ایک بڑے میدان میں سولی گڑی تھی جس کے چاروں طرف بہت بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ یہ سب ایک قاتل کو پھانسی دینے کا انتظام تھا۔ شیخ چلی بھی ایک طرف کھڑے ہو گئے ۔ ایک ایک پھندے میں دود و آئیں کی گردان بھی جاری تھی۔ چند لھے ہوئے تھے کہ پولیس والے مجرم کو لے کر پہنچے ۔ اُن کے پیچھے مجرم کے عزیز رشتہ دار بھی روتے پیتے چلے آرہے تھے۔ شیخ چلی کے سامنے سے گزرے اور انہیں ایک ایک پھندے میں دو دو آئیں کہتے سنا تو مارے غصے کے برا حال ہو گیا۔ دو تین نے جھپٹ کر انہیں پکڑا اور مارنا شروع کر دیا۔ شیخ چلی کی کھیائے: بھائی امیری بات سنو یہ جو میں کہہ رہا ہوں۔ اپنی مرضی سے نہیں کہہ رہا۔ مجھے تو شکاری نے بتایا تھا کہ یہ صح ہے. ہی کہا ہے۔

بکو اس کرتا ہے شکاری ۔ مارنے والوں میں سے ایک شخص نے انہیں لات رسید کرتے ہوئے کہا۔ تو جو صبح ہے تم بتا دو۔ مارتے کیوں ہو۔ شیخ چلی بلبلا کر بولے۔ ہاں اب آیا نہ دماغ ٹھکانے پر دوسرے نے کمر پر دوتر لگاتے ہوئے کہا۔ ن تھے کہنا چاہے اللہ ایسان کسی کونہ دکھائے ۔ شیخ چلی چوٹیں سہلاتے چل دیے۔ اب اُن کی زبان پر اللہ ایسا ن کسی کو نہ دکھائے۔ تھا۔ ابھی زیادہ دور نہ گئے تھے کہ ایک بارات سے سامنا ہو گیا ۔ گھوڑے پر سوار دولہا کے پیچھے بہت سے باراتی بینڈ باجے کی دھن پر نا چھتے گاتے پیسے لگاتے چلے آ رہے تھے۔ شیخ چلی بھی ایک طرف ہو کر تماشا دیکھنے لگے اللہ ایسا دن کسی کو نہ دکھائے۔” کی گردان بھی جاری باراتیوں نے سنا تو انہیں سخت غصہ آیا کہ خوشی کے موقع پر بددعا دے رہا ہے۔ پکڑ کر لگے ارے بھائیوا۔ ارے بھائیو شیخ چلی پڑنے والے جوتوں سے سرکو بچاتے ہوئے چنے ۔ اگر میں نے غلط کہہ دیا تو معاف کر دو۔ میں یہ خود نہیں کہہ رہا۔ پیچھے لوگوں نے بتایا تھا کہ یہ صحیح ہے۔ یہی کہنا ہے ۔ اتنی دیر میں اچھی خاصی مرمت ہو چکی تھی۔ لوگوں کو ان کی حالت پر رحم آگیا اور یہ کہ کر چھوڑ دیا کہ کہو۔ اللہ ایسا دن سب کو دکھائے ۔ شیخ چلی کراہتے ہوئے آگے بڑھ گئے ۔ گھر بھی دور تھا۔ وہ اللہ ایسا دن سب کو دکھائے کہتے چلے جارہے تھے۔ بڑی سڑک سے ہو کر ایک گلی میں پہنچے۔ ایک گھر کے سامنے کچھ کم زدہ لوگ جمع تھے۔ اندر سے رونے اور بین کرنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ یقیناً کسی کی موت ہو گئی تھی۔ شیخ چلی گھر کے سامنے سے اللہ ایسا دن سب کو دکھائے کہتے گزرے تو ان لوگوں کو بہت غصہ




پکڑو اس بدبخت کو ایک بزرگوار نے شیخ کر کہا چند نوجوانوں نے ایک کر شیخ چلی کو پکڑ لیا اور ٹھکائی شروع کر دی۔ شیخ چلی نے دہائی دی. ارے سب مجھے ہی مار رہے ہو۔ جبکہ میں خود تو کچھ نہیں کہہ رہا۔ اُن کو کوئی نہیں مارتا جو مجھے ایسا کہنے کو کہتے ہیں ۔ مگر لوگوں نے ایک نہ سنی اور خوب درگت بنا کر ہی چھوڑا۔ شیخ چلی کچھ دیر کے رہے کہ یہ لوگ بھی انہیں صحیح بات بتائیں گے مگر کسی نے کچھ نہ کہا تو خود بولے: صاحبو! آپ لوگوں سے ہوتا ہی ہیں کہ صحیح کا نام ہے اور میں گھر جا کے اپنی بیوی سے کیا پکواؤں !؟ شیخ چلی کی بات سن کر لوگوں نے حیرت سے نہیں دیکھا۔ پھر ایک نے کہا: جو دل چاہے کہہ دینا۔ شیخ چلی جو دل چاہے کہہ دینا رے گھر پہنچے۔ بیوی اُن کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئی اور ماجرا پوچھنے لگی۔ شیخ چلی بولے: نیک بخت ...! حال وال بعد میں پوچھتی رہنا۔ پہلے جلدی سے جو دل چاہے کہ دینا پکالو۔ بڑی مشکل سے نام یا در کھا ہے۔ کہیں بھول نہ جاؤں ،،

 

Post a Comment

0 Comments