Sheikh Chilli aur Doodh Ka Ghada(شیخ چلی اور دودھ کا گھڑا)

 

شیخ چلی اور دودھ کا گھڑا

ایک روز شیخ چلی نے اپنے پڑوسی سے ایک گھڑا دودھ لیا اور اسے اپنے سر پر رکھ کر بازار کی طرف چل دیا۔ وہ بہت خوش تھا اور سوچ رہا تھا کہ آج دودھ بیچ کر وہ بہت سارا منافع کمائے گا۔

راستے میں چلتے چلتے وہ سوچنے لگا: "یہ سارا دودھ بیچ کر میں ایک مرغی خریدوں گا۔ مرغی بہت سارے انڈے دے گی۔ جب انڈوں سے چوزے نکلیں گے، تو میں انہیں بیچ کر دو بکریاں خرید لوں گا۔"



اس کے خیالات میں ایک نئی دنیا آباد ہو چکی تھی۔ "بکریوں سے میں گائے خریدوں گا، اور پھر گائے کو بیچ کر بہت سی بھینسیں لے لوں گا۔"

یہ سوچ کر اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ وہ اپنے آپ کو ایک بڑا تاجر سمجھنے لگا۔ اس کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ جب وہ اتنا امیر ہو جائے گا، تو لوگ اس کی عزت کریں گے اور وہ لوگوں سے اکڑ کر بات کرے گا۔ اس نے اپنے خیالات میں ہی اپنی اکڑ دکھانے کے لیے گردن کو زور سے جھٹکا دیا۔

گردن کے جھٹکتے ہی سر پر رکھا گھڑا نیچے گرا اور ٹوٹ گیا۔ سارا دودھ بہہ گیا۔ شیخ چلی کی آنکھوں کے سامنے اس کی ساری خیالی دولت، مرغیاں، بکریاں، گائے اور بھینسیں سب غائب ہو گئیں۔

وہ اپنی حماقت پر بہت پریشان ہوا اور ٹوٹے ہوئے گھڑے کو دیکھ کر رونے لگا۔ اسے احساس ہوا کہ اس نے خوابوں کی دنیا میں اتنا وقت گزار دیا کہ اصل حقیقت اس سے دور ہو گئی۔


Post a Comment

0 Comments