Novel Firaun-e-Faaris Ka Ibratnaak Anjaam(فرعون فارس کا عبرتناک انجام)

 فرعون فارس کا عبرتناک انجام

سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط پھاڑ کر ان کی گرفتاری کا حکم دینے والے کسری خسرو پرویز کی کہانی

‏*رسول ﷲ ﷺ یہ حکم سُن کر مسکرائے اور قاصد سے فرمایا _____ ’’امیرِ یمن بازان اور کسریٰ سے کہنا کہ اسلام مجھ سے پہلے مدائن پہنچ جائے گا۔‘‘*

‏خسرو پرویز کی فرعونیت کی صرف ایک مثال کافی ہو گی ۔ اُس کے ایک بڑے ہی قابل اور تجربہ کار جرنیل کی بیوی عیسائی تھی ۔ خود خسرو پرویز کی ایک بیوی جس کا نام شیریں تھا ، عیسائی تھی ۔ شیریں کا حُسن بے مثال تھا اور وہ اس قدر چالاک عورت تھی کہ خسرو پرویز جیسے فرعون اور درندے کو انگلیوں پر نچا لیتی تھی۔

خسرو پرویز نے بھرے دربار میں اپنے اس جرنیل کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو چھوڑ دے کیونکہ وہ عیسائی ہے ۔

‏ایک بیوی تو آپ کی بھی عیسائی ہے۔ ____ جرنیل نے خسرو پرویز سے کہا _____ ’’کیا شیریں عیسائی نہیں؟آپ اسے کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟ یہیں اور اسی وقت اس کی کھال اُتار لی جائے‏_____ خسرو پرویز نے حکم دیا۔



جرنیل کو جکڑ کر دربار میں ہی اُس کے کپڑے پھاڑ دیئے گئے اور دربار میں زندہ کھال اُتار کر ہلاک کر دیا گیا ۔

یہاں خسرو پرویز کی شہنشاہیت ، طاقت اور سطوت کی ایک جھلک دکھانا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو دُنیا کا دوسرا خدا نہ کہتا تو کیوں نہ کہتا ۔ فارس کا پایۂِ تخت تو مدائن ہی تھا لیکن مدائن سے ساٹھ میل دور شمال کی طرف خسرو پرویز نے اپنی رہائش کیلئے ایک محل تعمیر کروایا تھا ۔ اگر یہ محل زمانے کی دستبرد سے بچا رہتا تو اس کا شمار عجائباتِ عالم میں ہوتا۔

‏خسرو پرویز نے اس محل کا نام قصرِ دستاگرد رکھا تھا ۔ مولانا ظفر علی خان مرحوم نے دو مؤرخوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس محل کو دیکھ کر جنت الفردوس کا گمان ہوتا تھا ۔ اس کے چاروں طرف دُور دُور تک لہلہاتے سبزہ زار اور مرغزار تھے جن میں چکور ، مور ، شتر مرغ اور ہرن چگتے تھے ۔ یہ وسیع و عریض محل چالیس ہزار ستونوں پر کھڑا تھا ۔ جن پر سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا ۔ محل کے اوپر ایک ہزار برج تھے جو خالص سونے کے بنے ہوئے تھے ۔

قصرِ دستاگرد میں نو سو ساٹھ ہاتھی ، بیس ہزار اونٹ اور چھ ہزار اعلیٰ نسل کے گھوڑے زرق برق کپڑوں سے سجے ہوئے موجود رہتے تھے ۔ محل کے دروازے پر رات دن چھ ہزار زریں کمر سر بازوں کا پہرہ رہتا تھا ۔ محل کے اندر کی فضا مشک و عنبر سے مہکتی رہتی تھی ۔ اس تاجدارِ عجم نے قصرِ دستاگرد میں تین ہزار نوخیز اور انتہائی حسین لڑکیاں رکھی ہوئی تھیں۔

‏کوئی انسان رتبے کے لحاظ سے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو تا جب خسرو پرویز کے دربار میں جاتا تو پہلے سجدہ کرتا پھر آداب بجا لاتا تھا۔

خسرو پرویز خدائی کا دعویٰ نہ کرتا تو کیوں نہ کرتا ۔ لیکن وہ اُس خُدا کے وجود کو تو نہیں مِٹا سکتا تھا جس کے ہاتھ میں ہر انسان کی عزت و ذلت ہے اور جو ہر فرعون کیلئے ایک مُوسیٰ پیدا کر دیا کرتا ہے ۔ اس آتش پرست فرعون کے زوال کی داستان بڑی طویل اور عبرتناک ہے لیکن اس فرعونِ عجم کا ذکر مختصر کرتے ہیں ۔اُس زمانے کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ خسرو پرویز کا جاہ و جلال اور اُس کی جنگی قوت دیکھ کر سب کہتے تھے کہ ساری دُنیا سلطنتِ فارس میں آ جائے گی لیکن حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ خسرو پرویز جنت نظیر قصرِ دستاگرد سے چور دروازے سے بھاگا ۔ اُس کے ساتھ چھ ہزار پہرے دار نہیں تھے ۔ نو سو ساٹھ ہاتھی نہیں تھے ۔بیس ہزار اونٹ اور چھ ہزار گھوڑے نہیں تھے ۔ نہ اُس کے ساتھ تین ہزار حسین لڑکیاں تھیں ۔ اُس کے ساتھ اپنی چہیتی ملکہ شیریں تھی ، اور صرف دو کنیزیں تھیں ۔

اس بے سروسامانی کے عالم میں وہ قصرِ دستاگرد سے نکلا اور ساٹھ میل چل کر مدائن پہنچا تو مخلوقِ خدا اُس کے راستے میں سجدہ ریز ہو گئی ۔ خسرو پرویز کی جان میں جان آئی ۔ اُس کے قصرِ دستاگرد میں قیصرِِرُوم ہرقل پہنچ گیا تھا ۔ خسرو پرویز ایسا دل برداشتہ ہوا کہ فیصلہ کر لیا کہ تختِ فارس سے دستبردار ہو کر اپنے محبوب بیٹے مروازویہ کو تخت پر بٹھائے گا مگر اُسے احساس تک نہ تھا کہ اُس کی حسین ترین اور چہیتی ملکہ شیریں کا بھی ایک جوان بیٹا ہے ۔ وہ یہ بھی بھول گیا تھا کہ شیریں اُس کی زوجیت سے دستبردار ہو جائے گی ۔ تخت و تاج سے دستبردار نہیں ہو گی ۔

‏خسرو پرویز کا فرعونی دماغ بہت کچھ بھول گیا تھا اور یہ سوچ تو اس کے ذہن میں آئی ہی نہیں تھی کہ اس نے ﷲ کے رسول ﷺ کے پیغامِ حق کی توہین کی تھی ۔

شیریں نے اپنے طلسماتی حسن اور عیاری اور زبان کے جادو سے جس طرح خسرو پرویز کو رام کر رکھا تھا ۔ اسی طرح اُس نے اُمرائے سلطنت کو اپنی مٹھی میں لینا شروع کر دیا ۔زر و جواہرات کی اور کمسن حسیناؤں کی اس کے پاس کمی نہیں تھی ۔ اُس کا اپنا حُسن سحر انگیز تھا ۔ اُمراء اور جرنیل مسحُور ہو ہو کر اُس کے جال میں آتے گئے اور وہ ان سب کو اپنے بیٹے کے حق میں اور اپنے خاوند خسرو پرویز کے خلاف کرتی گئی ۔

‏شیریں کے بیٹے کا نام شیرویہ تھا ۔ اُس کا یہی اعزاز کافی تھا کہ وہ ملکہ شیریں کا بیٹا تھا ۔ اُس نے فوج کو اس طرح اپنے ساتھ ملا لیا کہ در پردہ فوج میں یہ خوشخبری پھیلا دی کہ شیرویہ تخت پر بیٹھے گا تو افسروں اور سپاہیوں کی تنخواہیں بڑھ جائیں گی اور مالِ غنیمت میں سے حصہ ملا کرے گا اور کئی اور مراعات بھی دی جائیں گی ۔ عیسائیوں تک یہ خوشخبری پہنچائی گئی کہ انہیں مذہبی آزادی ملے گی اور انہیں درجۂ اول کی شہریت دی جائے گی ۔

خسرو پرویز اس سازش سے بے خبر تھا ۔ اُسے شک تک نہ ہوا کہ شیریں اُس کی آستین کا سانپ بن گئی ہے ۔ خسرو پرویز نے ابھی تخت سے دستبردار ہونے کا اعلان نہیں کیا تھا ۔ ایک روز شیرویہ نے باپ کو حکم دیا کہ وہ تخت سے دستبردار ہو جائے ۔ خسرو پرویز نے حکم دیا کہ اس کے بیٹے شیرویہ کو قتل کر دیا جائے۔ لیکن اس کا حکم ایسا ہی تھا جیسے کسی نے ہوا میں تیر چلایا ہو ۔ اُس نے شیریں کو بلایا اور اُسے بتایا کہ اُس کا بیٹا پاگل ہو گیا ہے ۔ اُسے سنبھالے ۔

‏یہ میرے بس میں نہیں تاجدار! ____ شیریں نے عجیب سے تبسم سے کہا ____ اسے فوج بھی نہیں سنبھال سکتی _____ اُس نے خسرو پرویز کے کان میں کہا _____ اس تخت پر میرا بیٹا بیٹھے گا ۔ جرنیلوں کو حکم دے کر دیکھ لو ، سب میرے بیٹے کے وفادار ہیں۔

خسرو پرویز غصے سے اُٹھا اور جرنیلوں اور اُمراء کو طلب کر کے انہیں شیریں اور شیرویہ کے خلاف بڑے ظالمانہ حکم دیئے ۔ لیکن امراء اور جرنیلوں کا رویہ بالکل سرد رہا ۔ خسرو پرویز پر یہ ہیبت ناک انکشاف ہوا کہ معدودے چند آدمی اُس کے ساتھ ہیں، جو ایک مؤرخ کے الفاظ میں آٹے میں نمک کے برابر تھے ۔ اُسے مشورہ دیا گیا کہ وہ مدائن سے نکل جائے۔

‏میں رومیوں سے صلح کر کے اپنے اس بیٹے کو سرکشی کی سزا دوں گا۔ ____ خسرو پرویز نے کہا _____ شیریں کو فریب کاری کی سزا دوں گا۔

شیرویہ اور شیریں کے کانوں تک یہ الفاظ پہنچے تو شیرویہ محافظ دستے کے گھوڑ سواروں کو ساتھ لے کر اپنے باپ کے پاس گیا ۔ باپ کو کچھ دیر پہلے اطلاع مل گئی کہ اُس کا بیٹا کسی خطرناک ارادے سے اُس کے پاس آ رہا ہے۔ خسرو پرویز بھاگ نکلا لیکن شہر سے نہ نکل سکا ۔ایک غریب سے آدمی کی جھونپڑی میں جا چھپا ۔ رسولِ اکرم ﷺ کو حکم دینے والا اور جنت الفردوس جیسے قصرِ دستاگرد میں رہنے والا اور اپنے آپ کو خدا کہنے والا ایک تنگ و تاریک اور غلیظ جھونپڑی میں اس طرح چُھپا کہ اس کے اوپر بدبو دار چیتھڑے اور گھاس ڈال دی گئی ۔

گھوڑ سوار فوجیوں نے سارے شہر میں گُھوم کر اعلان کر دیا کہ خسرو پرویز جس گھر سے برآمد ہو گا اس گھر کو آگ لگا دی جائے گی اور گھر کے بچے سے بوڑھے تک کو زندہ جلا دیا جائے گا ۔

‏اس حکم کے بعد کس میں اتنی ہمت تھی کہ خسرو پرویز کو اپنے گھر میں چھپائے رکھتا ۔ایک غریب سا آدمی ایک گھوڑ سوار کے پاس آیا اور منہ سے کچھ کہنے کے بجائے اپنی جھونپڑی کی طرف اشارہ کیا۔

‏فوجی جھونپڑی میں گئے اور فارس کے فرعون کو چیتھڑوں اور گھاس کے نیچے سے نکال کر باہر لے آئے اور اسے محل میں لے جا کر شیرویہ کے سامنے جا کھڑا کیا۔ اسے زنجیروں میں باندھ کر میدان میں لے چلو۔‘‘ شیرویہ نے حکم دیا۔’’ اس کے تمام بیٹوں کو پکڑ لاؤ۔ حکم کی تعمیل ہوئی ۔ خسرو پرویز کو زنجیروں میں باندھ کر محل کے قریب ایک میدان میں لے گئے اور اس کے بیٹوں کو ایک ایک کر کے میدان میں لایا جانے لگا ۔ یہ سب شیرویہ کے بھائی تھے جو مختلف بیویوں میں سے تھے ۔ ان کی تعداد شیرویہ کو ملا کر انیس تھی۔ ‏جب تمام بیٹوں کو لا چکے تو شیرویہ نے انہیں گنا ، تعداد اٹھارہ ہونی چاہیے تھی لیکن سترہ تھی ۔ ایک کم ہے _____شیرویہ نے کہا ____ ان میں یزدگرد نہیں ہے ۔ اُسے بھی لاؤ۔

‏بہت سے لوگوں نے محل کا کونہ کونہ دیکھ لیا ۔ شہر میں اعلان کیا گیا کہ یزدگرد اور اس کی ماں کو پناہ دینے والے کے گھر کو آگ لگا کر گھر کے ہر فرد کو زندہ جلا دیا جائے گا لیکن اس ماں بیٹے کا کہیں سراغ نہ ملا ۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ خسرو پرویز کا ایک دوست ساران بھی غائب ہے ۔ اس وقت یزدگرد اپنی ماں کے ساتھ مدائن سے بہت دُور پہنچ چکا تھا ۔ ساران ان کے ساتھ تھا ۔ ساران نے قبل از وقت بھانپ لیا تھا کہ شیرویہ اپنے کسی بھائی کو زندہ نہیں چھوڑے گا ۔ وہ خسرو پرویز کے غائب ہوتے ہی یزدگرد اور اس کی ماں کو غریب سے کسانوں کے بھیس میں شہر سے نکال کر لے گیا تھا۔

ان سب کو ایک ایک کر کے قتل کر دو _____ شیرویہ نے حکم دیا _____ ان کے باپ کے سامنے لے جا کر قتل کرو۔

‏وہ کیا ہولناک منظر ہو گا خسرو پرویز کے ایک بیٹے کو اًس کے سامنے لے جاتے اور تلوار کے ایک ہی وار سے اُس کا سر تن سے جدا کر دیا جاتا ۔

‏ان میں کم سِن بچے بھی تھے ، نو عمر لڑکے اور نوجوان بھی تھے اور ان میں وہ نوجوان مروازویہ بھی تھا جسے خسرو پرویز اپنی جگہ تخت نشین کرنا چاہتا تھا ۔ اُسے وہ اپنا سب سے پیارا بیٹا سمجھتا تھا ۔ بھائیوں میں سب سے بڑا شیرویہ تھا ۔ ان کی مائیں دُور کھڑی چیخ چلّا رہی تھیں ۔ ان میں سے جس کے بیٹے کو آگے لے جاتے تھے ، اُس کی ماں فریادیں کرتی آگے کو دوڑ پڑتی ۔ فوجی اُسے دھکے دیتے اور گھسیٹتے دُور جا پھینکتے ۔

شیریں محل کے دریچے میں کھڑی یہ ساری کارروائی دیکھ رہی تھی ۔ وہ واحد ماں تھی جس کے چہرے پر سُکون اور اطمینان تھا ۔ شیرویہ نے اپنے سترہ بھائیوں کو قتل کرا دیا اور اپنے باپ کے متعلق حکم دیا کہ اُسے قید خانے میں سب سے زیادہ تنگ و تاریک اور گندی کوٹھڑی میں بند کر دیا جائے ۔ خسرو پرویز نے اپنے بیٹے سے اِستدعا کی کہ اسے آزاد کر دیا جائے تو وہ سلطنتِ فارس سے نکل جائے گا لیکن بیٹے کے دل میں رحم پیدا نہ ہو سکا ۔ وہ اپنے تخت پر منڈلانے والے تمام خطرات ختم کر رہا تھا ۔

‏میں تمہیں قید خانے میں زیادہ دن نہیں رہنے دوں گا ____شیرویہ نے باپ سے کہا ____ جلدی رہا کرا دوں گا۔ خسرو پرویز کو قید خانے میں ایک تاریک کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی شیرویہ نے ایک آدمی کو بلایا (تاریخ میں اس آدمی کا نام نہیں لکھا) شیرویہ نے اُسے کہا کہ قید کے پانچویں دن وہ قید خانے میں جا کر خسرو پرویز کو قتل کر دے ۔۔۔۔۔ اب شیرویہ سلطنتِ فارس کا شہنشاہ تھا۔ ‏قید میں خسرو پرویز کی پانچویں شام تھی ۔ وہ تاریک کوٹھڑی میں نیم فاقہ کشی کی حالت میں پڑا تھا ، کوٹھڑی کا دروازہ کھلا ، خُسرو پرویز نے پوچھا کون ہو ؟

‏میں کسریٰ فارس کو رہا کرنے آیا ہوں  ____ اُس آدمی نے کہا ____ اُٹھو اور اس اذیت ناک زندگی سے آزاد ہو جاؤ۔ اور خسرو پرویز خوشی خوشی اُٹھا ، وہ دروازے کی طرف مُڑا ہی تھا کہ اُس آدمی کا خنجر خسرو پرویز کے دل میں اُتر گیا ۔ خنجر باہر نکلا اور ایک بار پھر دل میں اُتر گیا ____ خُسرو پرویز اذیت ناک زندگی سے آزاد ہو گیا ۔ ‏اُس کے بیٹے نے اپنا وعدہ پورا کر دیا تھا ۔

‏شیرویہ خسرو پرویز کا ہی بیٹا تھا اور وہ شیریں جیسی عیار حسینہ کے بطن سے پیدا ہوا تھا ، ناگن کا بیٹا سانپ ہی ہوتا ہے۔ اُسے خسرو پرویز کے قاتل نے اس امید پر بڑی خوشی سے آ کر بتایا کہ وہ اُس کے حکم کی تعمیل کر آیا ہے کہ اُسے انعام ملے گا۔ تُم نے میرے باپ کو قتل کیا ہے _____ شیرویہ نے کہا۔ ہاں ! تاجدارِ فارس! ____ اُس آدمی نے کہا ____ آپ کے حکم کی تعمیل میں ذرا سی بھی تاخیر نہیں ہوئی۔ اپنے باپ کے قتل کا انتقام لینا میرا فرض ہے _____ شیرویہ نے کہا ____ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑ سکتا۔ ‏اور شیرویہ نے تلوار نکال کر اُس آدمی کو قتل کر دیا ۔

متعدد مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خسرو پرویز کے دادا نوشیرواں عادل نے خواب میں دیکھا کہ اُس کے محل کے چودہ کنگرے گر پڑے ہیں ۔ یہ خواب یوں سچ ثابت ہوا کہ شیرویہ کے بعد صرف نو (9) سال کے عرصے میں مدائن کے تخت پر بارہ تاجدار بیٹھے اور قتل ہوئے ۔ یزدگرد چودھواں بادشاہ تھا جسے اب ساران جا کر لے آیا تھا اور پُوران دخت اور رُستم نے اس کی رسمِ تاج پوشی بھی ادا کر دی تھی ۔

 


Post a Comment

0 Comments