رحمدل بطخ اور شریر کوا
اور چڑیا تو پتہ نہیں کہاں کہاں سے مختلف قسم کی چیزیں لے آتی تھیں اس کا گھر بھی دیکھنے کے لائق تھا،طوطے کے گھر ہر ہفتے پارٹی ہوتی تھی سب پرندے وہاں جمع ہو کر خوب ہلہ گلہ کرتے،سب پرندے آپس میں دوست تھے،اور بطخ رانی کی تو کیا ہی بات تھی،جیسی وہ برف کی طرح سفید تھی اسی طرح اس کا گھر تھا،اس کے گھر میں ہر چیز سفید تھی،سفید پھولوں کی سجاوٹ،سفید موتی،رات کو اس کا گھر چاندنی میں اور بھی خوبصورت نظر آتا تھا۔
اصل میں کوا جس گھر میں بھی جاتا وہاں کوئی نہ کوئی چیز خراب کر دیتا تھا اس لئے سب اس سے بچتے تھے،اس ہی لئے اب وہ بطخ کی منتیں کر رہا تھا،اسے پتہ تھا کہ بطخ بہت رحم دل ہے،اچھا آ جاؤ․․․․بطخ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا․․․․․!لیکن میری کوئی چیز خراب نہ کرنا،میرے ڈرائنگ روم کے قالین پر سو جاؤ اور ڈائینگ ٹیبل پر رکھی چیزوں کو ہاتھ نہ لگانا اس پر میں نے کھانے کا سامان رکھا ہے کیونکہ کل میری سالگرہ ہے سب پرندے آئیں گے۔تم فکر نہ کرو پیاری بطخ․․․․!کوے نے کہا،میں کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا۔
اچھا ٹھیک ہے،شب بخیر․․․․اب سو جاؤ․․․․!بطخ نے کہا اور اپنے سونے کے کمرے میں چلی گئی․․․․
صبح جب بطخ کی آنکھ کھلی تو وہ بہت خوش تھی،اس نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھا موسم بہت خوشگوار تھا،گزشتہ روز کی بارش کے بعد سارا باغ نکھرا نکھرا لگ رہا تھا،آج سالگرہ کی تقریب کا بہت مزا آئے گا،سب پرندے گانے گائیں گے اور مزے کے کھانے کھائیں گے،بطخ نے سوچا اور ڈرائنگ روم کی طرف بڑھی تاکہ کوے کو جگائے،لیکن یہ کیا․․․؟کوا سب کچھ کھا کر اور خراب کرنے کے بعد اُڑ چکا تھا․․․․․بطخ بیچاری بہت پریشان ہو گئی کہ اب کیا کرے․․․․؟اس کے مہمان آنے والے تھے،اس کی سالگرہ کا مزا خراب ہو چکا تھا،وہ بیٹھ کر رونے لگی،اتنے میں اس کے مہمان پرندے آ گئے وہ گفٹ بھی لائے تھے اور خوشی سے گانے گا رہے تھے․․․․پیاری بطخ کیک کاٹو تمہارا کیک مزے کا ہوتا ہے،مورنی نے کہا․․․․!لیکن بطخ اُداس بیٹھی تھی،جب پرندوں کو بطخ کی اُداسی کی وجہ معلوم ہوئی تو انہیں کوے پر بہت غصہ آیا اور انہوں نے کوے سے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا کہ آئندہ اسے باغ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
پھر سب پرندوں نے مل کر بطخ کی سالگرہ کی تقریب کا انتظام کیا،مورنی بہت سلیقہ مند تھی،اس نے جلدی سے کیک بنا لیا،طوطا بہت سے امرود لے آیا،چڑیا اور بلبل بھی پھل لے آئے،اس طرح چاٹ بنا لی گئی بطخ نے کیک کاٹا سب پرندوں نے بہت انجوائے کیا۔کھانے کے بعد میوزیکل پروگرام ہو رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی،مور نے جا کر دروازہ کھولا تو کوا زخمی حالت میں کھڑا تھا اس کے پر ٹوٹ چکے تھے وہ رو رہا تھا۔بطخ سے معافی مانگنا چاہتا تھا،اس نے بتایا کہ جب وہ بطخ کی چیزیں کھا کر اُڑا تو اس پر ایک عقاب نے حملہ کر دیا وہ مقابلہ نہیں کر سکا اور نیچے گر گیا جہاں ایک بلی نے پر نوچ لیے،بہت مشکل سے جان بچا کر یہاں تک پہنچا،سچ ہے برائی کا بدلہ ضرور ملتا ہے،بطخ نے کوے کی حالت دیکھ کر سب پرندوں کے مشورے سے اسے معاف کر دیا․․․!

0 Comments