شہزادے کی بہن
شہزادہ عثمان اپنے دوستوں کے ساتھ شکار پر جانے کے لیے تیاری کر رہا تھا- اس نے شہزادوں والی پوشاک اتار کر شکاری لباس زیب تن کیا، چمچماتا تیز دھار کا دو دھاری خنجر کمر میں اڑسا، تیروں سے بھرے ترکش کا جائزہ لیتے ہوۓ کمان اٹھائی اور کمرے سے نکلنے ہی والا تھا کہ دروازے پر پڑا پردہ ہٹا اور اس کی چھوٹی بہن شہزادی ثریا کمرے میں داخل ہوئی- شہزادہ عثمان کے بڑھتے ہوۓ قدم رک گئے- وہ شہزادی ثریا کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا- "کیا بات ہے ثریا؟"
شہزادی ثریا ٹھنک کر بولی- "بھیا آج تو میں بھی آپ کے ساتھ شکار پر چلوں گی- آپ تو ً ہر روز شکار کرنے جنگل جاتے ہیں-"
شہزادہ ہنس پڑا ، ہنستے ہوۓ بولا- "تم کہاں جنگلوں میں بھاگ دوڑ کرتی پھرو گی، بے کار میں ہلکان ہوجاؤ گی- امی حضور کے پاس جاؤ- ان کے پاس بیٹھ کر ان سے کوئی اچھی سی کہانی سن لو-"
شہزادی ثریا نے مایوسی سے سے گردن ہلاتے ہوۓ کہا- "امی حضور دن میں کہانی نہیں سناتیں، کہتی ہیں کہ دن میں کہانی سنانے سے ماموں جان راستہ بھول جاتے ہیں- میں تو آپ کے ساتھ ہی چلوں گی اور آپ کو ہرن مار کر دکھاؤں گی-"
"جیسے میں تمہیں ساتھ لے ہی جاؤں گا- کبھی لڑکیاں بھی شکار کھیلنے گئی ہیں جو میں تمہیں ساتھ لے جاؤں اور پھر میرے ساتھ میرے دوست بھی تو ہوں گے، وہ دل میں کیا کہیں گے کہ شہزادہ عثمان کی چھوٹی بہن گڑیوں سے کھیلنے کی بجاے شکار کھیلتی ہے-" شہزادہ عثمان نے قدرے جھنجلاتے ہوۓ کہا-
"میں تو آپ کے ساتھ ضرور جاؤں گی-" شہزادی ثریا نے سر ہلا کر کہا- شہزادہ عثمان اسے گھورنے لگا- یکایک شہزادی ثریا کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی-
شہزادہ عثمان گھبرا گیا- وہ اسے چپ کرانا ہی چاہتا تھا کہ بادشاہ ملکہ کے ساتھ اندر داخل ہوا- شہزادی ثریا کو روتے دیکھا تو ملکہ نے آگے بڑھ کر پوچھا- "ثریا بیٹی- کیا بات ہے؟ تم رو کیوں رہی ہو؟"
شہزادی ثریا نے کوئی جواب نہیں دیا- بادشاہ شہزادہ عثمان کو دیکھتے ہوۓ بولا- "اس نالائق نے کچھ کہا ہوگا ہماری بیٹی کو، کیوں بھئی ثریا کیا بات ہے؟"
"بات مجھ سے سنئے"- نالایق کا خطاب پا کر شہزادہ عثمان کچھ جھینپ کر بولا- "فرماتی ہیں میں بھی شکار پر چلوں گی- بہت شوق ہے نا جنگل گھومنے کا جیسے وہاں لڈو ملتے ہیں- اگر شیر کو دور ہی سے دیکھ لیا تو گھگی بندھ جائے گی-"
"جی ہاں- اور جیسے آپ تو شیر کو دیکھ کر مارے خوشی کے بغلیں بجانے لگیں گے-" بادشاہ نے اسے گھورتے ہوۓ کہا- "ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ تم سیر سپاٹے اور شکار میں اپنا وقت کیوں برباد کرتے پھرتے ہو- ہم بوڑھے ہونے لگے ہیں- سر کے بال تیزی سے سفید ہو رہے ہیں، اوپر کا ایک اور نیچے کے دو دانت ہلنے لگے ہیں، آخر ہم کب تک اس ملک کی باگ ڈور سنبھالے رکھیں گے- ہم نے تمہیں اس لیے تو پال پوس کر جواں نہیں کیا تھا کہ تم حکومت کے کاموں میں ہمارا بٹانے کی بجائے جنگلوں میں ڈنڈے بجاتے پھرو -"
بادشاہ کی ڈانت ڈپٹ سن کر شہزادہ عثمان نے سر جھکالیا، اس کی بے چارگی کو محسوس کر کے ملکہ بولی- "اس بالشت بھر کی لڑکی کی وجہ سے آپ میرے بیٹے کے پیچھے پڑ گئے ہیں-" پھر اس نے شہزادہ عثمان سے کہا- "بیٹے تم جاؤ، مہمان خانے میں تمھارے دوست تمہارا انتظار کر رہے ہیں، شہزادوں کا تو یہی کام ہے کہ گھومیں پھریں اور شکار کھیلیں-"
شہزادہ عثمان سر جھکا کر تیزی سے باہر نکل گیا- بادشاہ نے کہا- "اس لڑکے کو بگاڑنے میں سب سے زیادہ تمہارا ہاتھ ہے، ہمارا کیا ہے، اتنی عمر کٹ گئی ہے، بقیہ بھی گزر جائے گی- وہ خود ہی پچھتائے گا اور تم بھی سر پکڑ کر رو گی-"
پھر بھی آپ کو ڈانت ڈپٹ میں کچھ تو خیال رکھنا ہی چاہئیے- جوان لڑکا ہے اس کا ذہن باغی بھی ہوسکتا ہے اور پھر یہ عمر تو ایسی ہی ہوتی ہے کہ انسان ذمہ داریوں کو قبول کرنے سے گھبراتا ہے- اس کی شادی ہوجائے گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا-" ملکہ نے بادشاہ کو سمجھاتے ہوۓ کہا-
"تم ایک ماں ہو کر سوچتی ہو اور ہم باپ بن کر- ہم سچ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں شاہی دستور کا پاس نہ ہوتا تو ہم عثمان کی حرکتوں پر اسے روزانہ صبح بستر سے اٹھ کر اور رات کو سونے سے پہلے بلا ناغہ مار لگاتے، مگر ہماری بدقسمتی اور عثمان کی خوش قسمتی ہے کہ دستور میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ شہزادوں کی پٹائی نہیں لگائی جا سکتی چاہے مارنے والا ان کا باپ ہی کیوں نہ ہو-"
"اگر آپ کی سختیوں کا یہ ہی عالم رہا تو مجھے یقین ہے کہ عثمان محل چھوڑ کر کہیں چلا جائے گا- اس دن مجھ سے کہہ رہا تھا جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے ابّا حضور نے کبھی مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کی-" ملکہ نے خشک لہجے میں کہا-
"اچھا تو اس نالائق کو ہمارا منہ بھی ٹیڑھا لگتا ہے- آ لینے دو آج اسے-" بادشاہ گرم ہو کر بولا- "ہم اچھی طرح اس کی خبر لیں گے- سمجھ کیا رکھا ہے اس نے ہمیں-"
شہزادی ثریا نے اب رونا بند کر دیا تھا اور خاموشی سے ان کی گفتگو سن رہی تھی- بادشاہ کی بات سنکر ملکہ نے بڑے غصے سے کہا- "اگر آپ کو عثمان سے اتنی ہی نفرت ہے تو میں آج ہی اس سے کہہ دوں گی کہ وہ یہاں سے چلا جائے- اس روز کی دانتا کل کل سے تو نجات مل جائے گی-" یہ کہتے ہوۓ ملکہ کی آواز بھرا گئی اور اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے- بادشاہ چند لمحے تک تو ملکہ کو دیکھتا رہا پھر نرمی سے بولا- "پیاری ملکہ ہم اس گدھے کے دشمن تو نہیں ہیں- وہ لاپرواہ طبیعت کا لڑکا ہے- ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہماری ڈانٹ ڈپٹ سے سبق حاصل کرے، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے، ہم اتنی بڑی حکومت اسے سونپنا چاہتے ہیں، تلوار اور خنجر چلانا مشکل بات نہیں مگر حکومت چلانا یقیناً مشکل بات ہے- اب تم ہی بتاؤ ہم یہ سب کچھ اس کے حق میں برا کر رہے ہیں یا بھلا؟"
ملکہ نے جھٹ آنسو پونچھ لیے اور مسکراتے ہوۓ بولی- "یہ سب کچھ آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا تھا- عثمان شکار سے لوٹ کر آے گا تو میں بھی اسے سمجھاؤں گی- میری بات وہ ہمیشہ مان جاتا ہے-"
ملکہ کی بات سن کر بادشاہ بھی مسکرانے لگا- اسے یقین تھا کہ اب شہزادہ عثمان ضرور حکومت کے کاموں میں دلچسپی لینے لگے گا- ملکہ بھی مسکرا رہی تھی اور بادشاہ بھی- مگر شہزادی ثریا منہ بناے کھڑی تھی- اسے اس بات کا بے حد ملال تھا کہ شہزادہ عثمان اسے اپنے ساتھ جنگل شکار کھیلنے کے لیے نہیں لے گیا تھا-
جنگل میں شہزادہ عثمان کے دوستوں کے قہقہے گونج رہے تھے- وہ لوگ دوپہر کے کھانے سے فارغ ہو کر اب دریا کے شفاف پانی میں نہا رہے تھے- وہ ایک دوسرے پر پانی کے چھینٹے اڑاتے اور پھر زور زور سے قہقہے لگانے لگتے-
شہزادہ عثمان کنارے پر بیٹھا ان کی حرکتوں سے لطف اندوز ہور رہا تھا- جی تو اس کا بھی چاہ رہا تھا کہ خود بھی دریا میں کود کر خوب مزے سے نہاے مگر ملکہ نے اسے تنبیہہ کر رکھی تھی کہ وہ دریا وغیرہ میں کبھی بھی نہانے کی کوشش نہ کرے کیوں کیونکہ ایسے مواقع پر دوستوں کی شرارتوں کے سبب جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں-
وہ لوگ شکار سے اکتا گئے تھے- دوپہر کے کھانے کے بعد وہ لوگ دریا کے کنارے آن بیٹھے تھے- پھر تجویز یہ ٹھہری کہ نہایا جائے- شہزادہ عثمان نے اس تجویز کی مخالفت کی اور اپنے دوستوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ حمام سے بہتر نہانے کی کوئی اور جگہ نہیں ہوتی کیونکہ وہاں ڈوبنے کا کوئی خطرہ بھی نہیں ہوتا ہے- خدانخواستہ وہاں پر پاؤں بھی پھسل جائے تو انسان کہیں جاتا نہیں ہے، وہیں فرش پر پڑا رہتا ہے، مگر دریا میں پاؤں پھسل جائے تو پھر انسان اس کی تہہ میں ہی جا کر رکتا ہے- مگر شہزادہ عثمان کی باتوں کو اس کے دوستوں نے ہنسی میں اڑا دیا اور پھر وہ سب کے سب دریا میں کود گئے- شہزادہ عثمان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ کنارے پر بیٹھ کر انھیں تکتا رہے-
تھوڑی دیر بعد اس کے دوست تیرتے ہوۓ دور نکل گئے اور شہزادہ عثمان وہاں پر تنہا رہ گیا- اس کی سوچ کا دھارا یکایک اپنے محل کی طرف مڑ گیا- اسے اپنے باپ کی باتیں ایک ایک کر کے یاد آنے لگیں- اس نے جب ان باتوں پر ٹھنڈے دل سے غور کیا تو اسے محسوس ہوا کہ وہ غلطی پر تھا- ماں باپ اپنے بچوں کی پرورش اس لیے کرتے ہیں کہ جب وہ بوڑھے ہو جائیں تو ان کی اولاد ان کا سہارا بنے- شہزادہ عثمان کو خود سے شرم آنے لگی- وہ بائیس سال کا ہوچکا تھا- اگر وہ چاہتا تو حکومت کے انتظامی معاملات میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹا سکتا تھا- اس کے باپ نے صحیح معنوں میں اپنی رعایا کی خدمت کی تھی- رعایا کی بھلائی اور بہتری کی خاطر نہ اس نے دن دیکھا تھا نہ رات، مسلسل کام کی زیادتی یقیناً صحت پر برا اثر ڈالتی ہے- اس کا باپ وقت سے پہلے ہی بوڑھا ہونے لگا تھا- شہزادہ عثمان نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اب یہاں سے سیدھا گھر جائے گا- سب سے پہلے اپنے باپ سے اپنے گزشتہ رویے اور لا پرواہیوں کی معافی مانگے گا اور پھر دل و جان سے حکومت کے کاموں میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹائے گا- ابھی وہ اپنی انہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک اس کی نظر سامنے والی جھاڑیوں پر پڑی- وہ چونک پڑا- جھاڑیوں میں سے ایک خرگوش نکلا تھا- وہ جسامت میں تو عام خرگوشوں ہی جتنا تھا مگر اس کے جسم پر سات رنگ کی دھاریاں پڑی تھیں اور گھپے دار دم بے حد خوبصورت تھی- اس خرگوش کی آنکھیں سبز تھیں اور وہ بے حد خوبصورت دکھائی دے رہا تھا-
شہزادہ عثمان کی نظروں میں اس کی چھوٹی بہن شہزادی ثریا کا چہرہ گھوم گیا- اسے احساس تھا کی وہ اس سے بے حد ناراض ہوگی کیونکہ وہ اسے اپنے ساتھ جنگل نہیں لایا تھا- شہزادہ عثمان نے سوچا کہ اگر وہ اس عجیب و غریب خرگوش کو پکڑ کر محل لے جائے اور اسے ثریا کو دے دے تو اس کی ناراضگی ختم ہو سکتی ہے- یہ سوچ کر وہ اٹھا اور بڑی احتیاط سے خرگوش کی طرف بڑھنے لگا- خرگوش نے اسے اپنی طرف آتے دیکھ لیا تھا- اس لیے وہ شہزادہ عثمان کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی بھاگ گیا اور کچھ دور جا کر پھر رک گیا- شہزادہ عثمان چاہتا تو تیر کی مدد سے اسے زخمی کر کے بھی پکڑ سکتا تھا- مگر وہ اتنے خوبصورت خرگوش کو صیحح سلامت ہی پکڑنا چاہتا تھا-
وہ خرگوش بے حد چالاک تھا- جب وہ یہ دیکھتا کہ شہزادہ اس کے قریب آن پہنچا ہے تو زقند بھر کر اپنے اور شہزادہ عثمان کے درمیان پھر فاصلہ پیدا کرلیتا- آخر یہ بھاگ دوڑ کافی دیر تک جاری رہی- خرگوش تو ہاتھ آیا نہیں مگر شام ضرور سر پر آگئی- اس عجیب و غریب خرگوش کے پیچھے بھاگتے ہوۓ شہزادہ عثمان کو وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا تھا- اب جو اس نے دیکھا کہ رات ہونے والی ہے تو وہ بے حد گھبرایا- خرگوش کے پیچھے بھاگتے بھاگتے وہ کافی دور نکل آیا تھا اور چونکہ اس کا دھیان خرگوش پکڑنے میں ہی لگا ہوا تھا، اسلئے وہ راستے کا بھی خیال نہیں رکھ سکا تھا- وہ یہ سوچ سوچ کر پریشان ہونے لگا کہ اب وہ محل کس طرح پہنچے گا- اس کی گمشدگی سے اس کے دوست یقیناً گھبرا گئے ہونگے- غرض کہ یہ ہی کچھ سوچتے سوچتے وہ آگے بڑھا- رنگین دھاریدار خرگوش جانے کہاں جھاڑیوں میں روپوش ہوگیا تھا اور شہزادہ عثمان اس گھڑی کو کوس رہا تھا جب اس کی نظر اس منحوس خرگوش پر پڑی تھی اور اسے پکڑنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا ہوئی تھی-
بھاگ دوڑ کرنے کی وجہ سے اب اسے بھوک کا بھی احساس ہونے لگا تھا- وہ بے بسی سے اپنے چاروں طرف دیکھنے لگا- اور پھر اچانک ہی اس کی نظریں ایک جگہ پر ٹہر گئیں- درختوں کے جھنڈ میں اسے ایک نہایت عالیشان محل کی جھلک نظر آئ تھی- وہ محل کی طرف جانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ اچانک ایک درخت کے پیچھے سے وہ ہی دھاری دار خرگوش برامد ہوا اور شہزادہ عثمان کے پاس آکر بولا- "جناب شہزادے صاحب میری مالکن حسن آرا آپ کو یاد فرما رہی ہیں-"
شہزادہ عثمان خرگوش کو دیکھتے ہی آگ بگولا ہوگیا تھا مگر اسے انسانوں کی طرح گفتگو کرتا دیکھ کر اس کا غصّہ حیرت میں تبدیل ہوگیا- اس نے حیرانی سے پوچھا- "میں تو تمہیں ایک بدمعاش خرگوش سمجھ رہا تھا کیونکہ تم ہی مجھے اس مصبیت میں پھنسانے کے ذمہ دار ہو مگر اب تمہیں انسانوں کی طرح بولتا دیکھ کر بے حد حیران ہوں- یہ کیا ماجرا ہے، میں تمہیں کیا سمجھوں؟"
"آپ مجھے کچھ بھی سمجھیں میری صحت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا- میں اپنی بات پھر دوہراتا ہوں کہ آپ کو حسن آرا یاد فرما رہی ہیں- میرے پیچھے پیچھے چلے آئیے-"
شہزادہ سمجھ گیا کہ یہ سب جادو کا چکّر ہے- یہ خرگوش ضرور کوئی انسان ہے اور کسی جادوگر نے اسے خرگوش بنا دیا ہے اور حسن آرا یقیناً کوئی حسین سی شہزادی ہوگی جو جادوگر کی قید میں ہوگی- اس نے کسی سے سن رکھا تھا کہ جادوگر انسانوں کے سر میں جادو کی کیل گاڑ کر انھیں جانور اور پرندے بنا دیتے ہیں- اس نے آگے بڑھ کر جھپٹ کر خرگوش کو پکڑ لیا اور اس کے سر کو ٹٹول کر جادو کی کیل ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگا- خرگوش پہلے تو شہزادہ عثمان کی اس حرکت پر سٹپٹایا پھر برا مان کر بولا- "آپ ہزار کوشش کرلیں میرے سر میں آپ کو ایک جوں بھی نہیں ملے گی"- اس کی بات سن کر شہزادہ عثمان جھلا گیا- غصے میں بھر کر بولا- "تم سخت نامعقول خرگوش ہو-"
پھر اس نے خرگوش کو چھوڑ دیا اور بڑبڑاتے ہوۓ اس کے پیچھے چل دیا- محل کے نزدیک پہنچا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں- محل بہت خوبصورت تھا- اس کی دیواروں سے روشنی کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں- وہ دونوں جیسے ہی صدر دوازے سے گزرے، شہزادہ عثمان پر پھولوں کی بارش ہونے لگی- شہزادہ عثمان بے حد حیران تھا- تھوڑی دیر بعد خرگوش اسے ایک کمرے میں لے آیا- کمرہ قیمتی سامان سے آراستہ تھا اور وہاں پر ایک بہت ہی موٹی اور بد صورت عورت بیٹھی ہوئی تھی- شہزادہ عثمان کو دیکھ کر وہ خوشی سے کِھل اْٹھی-
"آؤ شہزادے عثمان- خوش آمدید-" اس موٹی اور بد صورت عورت نے کہا-
"ارے تم تو میرا نام بھی جانتی ہو شہزادی حسن آرا کی خادمہ-" شہزادہ عثمان نے حیرت سے کہا- اس کی بات سن کر وہ عورت ناگواری سے بولی- "کیسی شہزادی اور کہاں کی خادمہ- حسن آرا تو میرا ہی نام ہے- میں نے ہی یہ عجیب و غریب خرگوش تمہارے پاس بھیجا تھا تاکہ تم اس کے پیچھے پیچھے میرے محل تک آجاؤ-"
شہزادہ عثمان شرمسار سا ہو کر بولا- "معاف کرنا خالہ مجھے غلط فہمی ہو گئی تھی-"
حسن آرا بھنا کر بولی- "یہ تم نے خالہ والا کی کیا رٹ لگا رکھی ہے- میں نے تمہیں اس لیے یہاں بلایا ہے تاکہ تم سے شادی کر سکوں-"
"شادی؟" شہزادہ عثمان نے چلّا کر کہا- " بھلا تم نے یہ کیسے سمجھ لیا تھا کہ میں تم جیسی منحوس شکل کی جادوگرنی سے شادی کرنے پر راضی ہو جاؤں گا؟"
"تمہارا تو باپ بھی راضی ہوگا-" موٹی اور بدصورت جادوگرنی حسن آرا غصے سے دھاڑ کر بولی- اس کی آنکھیں شعلے برسانے لگی تھیں- کیونکہ شہزادہ عثمان کی باتوں نے اسے سخت ناراض کر دیا تھا-
"ہاں یہ ٹھیک ہے، ابّا حضور شائد راضی ہو جائیں جا کر انھیں یہاں بھیج دیتا ہوں-" شہزادہ عثمان نے بڑے اطمینان سے کہا اور دروازے کی طرف بڑھا- جادوگرنی نے جلدی سے کوئی جادو پڑھ کر اس کی طرف پھونک ماری اور شہزادہ عثمان آدھا پتھر کا بن گیا-
حسن آرا جادوگرنی قہقہہ لگا کر بولی- "تم اس وقت تک پتھر کے بنے رہو گے جب تک مجھ سے شادی پر رضامند نہ ہو جاؤ- میں نے اپنی بڑی بہن سے کہا تھا کہ میں دنیا کے سب سے زیادہ خوبصورت شہزادے سے شادی کر کے دکھاؤں گی، میری بہن شکل و صورت میں میں مجھ سے کچھ بہتر ہے اور وہ ہر وقت میرا مذاق اڑاتی رہتی ہے- میں تم سے شادی کرکے اسے نیچا دکھانے کی کوشش کروں گی- میں نے بڑی مشکلوں سے تمہارا پتہ لگایا تھا مگر اب تم ہی کہتے ہو کہ تم مجھ سے شادی نہیں کرسکتے-"
شہزادہ عثمان نفرت بھرے لہجے میں بولا- "دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے مگر میں اپنی بات پر اڑا رہونگا-"
"میں بھی دیکھوں گی کہ تم میں یہ دم خم کب تک باقی رہے گا- دو ہی دن بعد تم میرے سامنے گڑگڑانے لگو گے-" حسن آرا جادوگرنی ہنس کر بولی اور کمرے سے چلی گئی-
خرگوش ابھی تک کمرے میں موجود تھا- اسے دیکھ کر شہزادہ عثمان نے غصے سے کہا- "تم سے بڑا گدھا آج تک میری نظروں سے نہیں گزرا ہے- تم نے ہی مجھے اس مصیبت میں پھنسایا ہے-"
خرگوش کی آنکھوں میں آنسو آگئے- اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا- "شہزادہ عثمان تم نے مجھے گدھا کہہ کر مجھے میرا ماضی یاد دلا دیا ہے-"
"اچھا تو کیا تم پہلے گدھے تھے؟" شہزادہ عثمان نے حیرت سے پلکیں جھپکا کر کہا-
"خیر یہ بات تو نہیں ہے، سچ مچ کا گدھا تو الله کسی دشمن کو بھی نہ بنا ے- بات دراصل یہ ہے کہ آج سے دو ماہ پہلے میں ایک لڑکا ہی تھا- میری ماں کا انتقال بچپن ہی میں ہو گیا تھا- میرے ابّا کی شہر میں دوائیوں کی دوکان تھی- روزانہ سینکڑوں مریض ان کے پاس دوائی لینے کی غرض سے آتے تھے- میں اپنے ابّا کا ہاتھ بٹانے کے لیے دکان پر ہی بیٹھتا تھا- میں نسخہ دیکھ کر دوائیاں بنانا بھی سیکھ گیا تھا- ایک روز میرے ہاتھوں سے ایک شیشے کا مرتبان جس میں غالباً سیب کا مربہ تھا، چھوٹ کر زمین پر گر پڑا اور ٹوٹ گیا- والد صاحب قریب ہی بیٹھے تھے- پہلے تو مجھے خشمگیں نظروں سے دیکھا اور پھر نہایت سخت لہجے میں بولے- "گدھا کہیں کا-"
گدھے کے بارے میں میری رائے شروع ہی سے اچھی نہیں ہے- لہٰذا ابّا جان کے منہ سے اپنے لیے گدھے کا لفظ سن کر میرا دل غم سے اور آنکھیں آنسووں سے بھر گئیں- میں اسی وقت دکان سےاٹھا اور سسکیاں بھرتے ہوۓ ایک طرف کو چل دیا- چلتے چلتے اس جنگل میں پہنچ گیا- بھوک کے مارے میرا دم نکلا جا رہا تھا- قریب تھا کہ میں چکرا کر گر پڑتا کہ میری نظر اس محل پر پڑی- میرے بے جان قدموں میں جانے کہاں سے اتنی طاقت آ گئی کہ میں اس محل کی طرف تیزی سے بھاگنے لگا- وہیں میری ملاقات اس جادوگرنی سے ہوگئی- قصہ مختصر یہ کہ مجھے حسن آرا جادوگرنی نے کھانا دیا- مگر یہ بہت مکّار عورت ہے- کھانے کے بعد اس نے مجھے سلا دیا- صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں خرگوش بنا بستر پر انگڑائیاں لے رہا تھا- وہ دن اور آج کا دن میں اب اسی جادوگرنی کے پاس رہ رہا ہوں- میں ہر وقت اس کی خدمت میں لگا رہتا ہوں تاکہ وہ خوش ہو کر مجھے پھر سے لڑکا بنا دے-"
اپنی کہانی سنا کر خرگوش خاموش ہوگیا- شہزادہ عثمان کچھ سوچنے لگا- پھر اس نے کہا- "اب کوئی ایسی تجویز نکالو کہ اس جادوگرنی کے چنگل سے نجات ملے-"
"میں تو اس حرافہ پر بہت سارے حربے آزما چکا ہوں- چونکہ مجھے تمام جڑی بوٹیوں سے واقفیت ہے، میں نے جنگل سے زہریلی سے زہریلی جڑی بوٹیاں مختلف کھانوں میں ملا کر اسے کھلا دی ہیں مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا-"
"یہ تو خیر میں نے بھی بچپن میں کہانیوں میں سنا تھا کہ جادوگر اور جادوگرنیاں اپنی جان کسی چیز میں بند کر کے رکھتی ہیں، تاکہ انھیں کوئی مار نہ سکے- تم ہی اس کا پتہ چلاؤ کہ اس کی جان کس چیز میں بند ہے-" شہزادہ عثمان خرگوش سے بولا-
"میں نے تو بہت کوشش کر ڈالی ہیں مگر سواے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں لگا-" خرگوش نے بڑی اداسی سے کہا- شہزادہ عثمان کا چہرہ بجھ سا گیا- "تو کیا پھر ہم ساری زندگی اس منحوس جادوگرنی کے پاس گزار دیں گے؟" اس نے کہا-
"میں تو خود تمھاری طرح بے بس ہوں-" خرگوش نے بے چارگی سے جواب دیا-
"میرے اچانک غائب ہوجانے سے محل میں کہرام مچ گیا ہوگا- میری امی حضور اور ابّا حضور کو کیا پتہ کہ میں یہاں کس مصیبت میں گرفتار ہوں- ابّا حضور تو خیر یہ ہی سمجھ رہے ہوں گے کہ میں کہیں گھومنے پھرنے نکل گیا ہوں اس لیے وہ پریشان کم اور ناراض زیادہ ہو رہے ہونگے مگر میری امی حضور کا دل بہت چھوٹا ہے- انھیں تو ہول پر ہول آ رہے ہوں گے- اور میری چھوٹی بہن ثریا نے تو رو رو کر آنکھیں سجا لی ہونگی- حالانکہ وہ مجھ سے روٹھ گئی تھی مگر میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے کس قدر محبّت کرتی ہے-"
"میں تمھاری اتنی مدد تو کرسکتا ہوں کہ محل جا کر اس حادثے کی خبر تمھارے گھر والوں کو دے دوں-" خرگوش جو کہ اصل میں ایک لڑکا تھا اور جس کا نام فرید تھا، شہزادہ عثمان سے بولا-
شہزادہ عثمان کے چہرے پر سوچ کی لکیریں ابھر آئیں- اس نے تھوڑی دیر بعد کہا- "نہیں بھئی یہ مناسب نہیں ہوگا کہ میری اس مصیبت کا حال میری امی حضور اور ابّا حضور کو پتہ چلے- تم اتنی مہربانی کرو کہ یہ سب واقعات میری بہن ثریا کو بتا دو- اس سے یہ بھی کہہ دینا کہ وہ میرے دوست احسن کے پاس جائے اور اسے میری مدد کے لیے آمادہ کرے-"
فرید نے اپنا ننھا منا سر ہلا کر اس بات پر رضامندی کا اظہار کر دیا- تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ان کے کانوں میں جادوگرنی کے قدموں کی چاپ سنائ دی- خرگوش فرید بھاگ کر مسہری کے نیچے گھس کر سوتا بن گیا تاکہ حسن آرا جادوگرنی ان پر شک نہ کر سکے کہ وہ اس کے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں-
حسن آرا جادوگرنی کمرے میں داخل ہوئی، اس نے کمرے میں ادھر ادھر نظر دوڑائی- خرگوش فرید کی تھوڑی سی دم نظر آ رہی تھی- جادوگرنی نے اس کی دم پکڑ کر اسے باہر گھسیٹ لیا اور اس سے بولی- "بس- تم نے بہت عیش کر لیے- میری بڑی بہن جو کہ پرستان میں رہائش پذیر ہے- کل اس کے چھوٹے بچے کی سالگرہ منائی جا رہی ہے- میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تم جیسا عجیب و غریب خرگوش اپنے بھانجے کو تحفے میں دوں- میری بہن کی خادمہ مجھے سالگرہ کی دعوت دینے آئ ہے"-
یہ کہہ کر حسن آرا جادوگرنی نے فرید کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا اور کمرے سے باہر نکل گئی- فرید کے یوں یکا یک جانے سے شہزادہ عثمان پریشان ہو گیا- اب ساری زندگی کسی کو پتا نہیں چل سکتا تھا کہ وہ کہاں ہے-
"آپ تو بہت امیر معلوم دیتی ہیں- سر کھجانے کے لیے کوئی ملازمہ کیوں نہیں رکھ لیتیں؟" حسینہ پری نے کہا-
"میری بہن بھی بہت بے وقوف ہے- اس نے کیسی کوڑھ مغز خادمہ کا انتخاب کیا ہے جو محاوروں تک کے مفہوم سے نا واقف ہے-" حسن آرا نے منہ بنا کر کہا-
حسینہ پری کچھ شرمندہ سی ہوگئی تھی- اس نے مزید کچھ اور نہیں کہا اور چپ چاپ مڑ کر باہر کی جانب چل دی- جادوگرنی کے محل سے باہر نکلتے ہی اس کے خوبصورت پروں نے حرکت کی اور پھر وہ فضا میں بلند ہوتی چلی گئی- اس نے فرید کو دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور اس کا رخ پرستان کی طرف تھا-
حسینہ پری تھوڑی ہی دور گئی تھی کہ اچانک اس کے سر میں شدید درد ہونے لگا- وہ دو بارہ زمین پر اتر آئ اور دونوں ہاتھوں سے سر کو دبا کر کرا ہنے لگی-
"اچھی پری کیا بات ہے؟" فرید نے ہمددری سے پوچھا-
اس کو بولتا دیکھ کر حسینہ پری اپنا درد بھول گئی اور حیرت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی- اس کو حیرت زدہ پا کر فرید نے اس کو اپنی کہانی سنائی-
حسینہ پری بولی- "یہ حسن آرا جادوگرنی تو بہت خراب عورت ہے- بے گناہ لوگوں کو خواہ مخواہ تنگ کرتی ہے- اس کی بڑی بہن جس کے چھوٹے بچے کی میں خادمہ ہوں بے حد مہربان اور خوش اخلاق عورت ہے- یہ ہی وجہ ہے کہ وہ آج پرستان میں مزے سے رہ رہی ہے اور اس کی شادی وہاں کے ایک مشہور تاجر سے ہوگئی ہے اور وہ اپنے بچے اور شوہر کے ساتھ نہایت خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے-"
باتوں کے دوران حسینہ پری کو سر کا درد کچھ زیادہ محسوس نہیں ہو رہا تھا مگر جب وہ دونوں خاموش ہوۓ تو وہ دوبارہ سر میں تکلیف محسوس کرنے لگی- اس نے فرید سے کہا- "میں تو اس سر درد کی وجہ سے عاجز آ گئی ہوں- میں نے اس کے لیے ہزارہا علاج کر ڈالے ہیں مگر اس مرض سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکی ہوں- یہ یکا یک اٹھتا ہے اور گھنٹوں رہتا ہے-"
فرید اس پر بولا- "میرے ابّا طبیب ہیں- پورے شہر میں ان جیسا کوئی دوسرا طبیب نہیں ملے گا- ان کے پاس اس مرض کی دوا ہے- اگر میں اپنی اصلی شکل میں ہوتا تو ضرور آپ کی مدد کرتا-"
حسینہ پری مایوسی سے بولی- "تمہیں تو حسن آرا جادوگرنی ہی اپنی اصلی شکل میں لا سکتی ہے-"
فرید نے کہا- "میرے خیال میں آپ یہیں کچھ دیر تک بیٹھ کر آرام کریں- میں شہزادہ عثمان کی چھوٹی بہن ثریا کو سب کچھ بتا کر آ جاتا ہوں- وہ یہ سب باتیں شہزادے عثمان کے دوست احسن کو بتا دے گی اور شہزادہ عثمان کا یہ دوست چونکہ بہت بہادر ہے اس لیے وہ ضرور اس جادوگرنی کو ٹھکانے لگا دے گا- جب جادوگرنی مر جائے گی تو پھر شہزادہ عثمان اور میں دونوں ٹھیک ہو جائیں گے- پھر میں اپنے گھر جا کر آپ کو وہ دوائی جو پانچ سو تین قیمتی جڑی بوٹیوں سے تیار ہوئی ہے اور جس کا نام گل گورو سیاہ ہے لا کر دے دونگا- اس کی ایک ہی خوراک آپ کے سر درد کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گی-"
حسینہ پری اس تجویز پر کھل اٹھی- وہ اپنے اس اچانک رونما ہونے والے مرض کے ہاتھوں سخت پریشان تھی اور ہر قیمت پر اس کا علاج چاہتی تھی- فرید کی باتیں سن کر اسے یقین ہو چلا تھا کہ گل گورو سیاہ سے اسے ضرور افاقہ ہوگا- اس نے فرید کو شہزادی سے ملنے کے لیے جانے کی اجازت دے دی اور خود درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی- اس کے سر درد میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا-
فرید پھدکتا ہوا اور دوڑتا ہوا محل کی جانب چل دیا- ہر طرف تاریکی پھیل چکی تھی مگر فرید کو جنگل کے راستوں سے کافی واقفیت ہو گئی تھی- اس لیے اسے راستہ طے کرنے میں کوئی دشواری محسوں نہیں ہورہی تھی- اپنی تیز رفتاری کی بنا پر وہ جلد ہی شہزادہ عثمان کے محل میں پہنچ گیا-
وہاں پر شہزادے کی گمشدگی کی وجہ سے سب پریشان تھے- فرید سب کی نظروں سے بچتا بچاتا شہزادی ثریا کے کمرے میں گھس گیا- شہزادی ثریا اپنے بھائی کی جدائی کی وجہ سے اپنی مسہری پر پڑی آنسو بہا رہی تھی- فرید اچک کر مسہری پر چڑھ گیا- شہزادی ثریا کی نظر جب اس پر پڑی تو وہ چونک کر سیدھی بیٹھ گئی اور رونا دھونا بھول کر حیرت سے فرید کو گھورنے لگی- اسے اپنے کمرے میں ایک خرگوش کی موجودگی پر سخت حیرانی تھی- اور پھر خرگوش بھی ایسا کہ جس کے جسم پر رنگین دھاریاں تھیں اور اس کی آنکھیں سبز تھیں اور گھپے دار دم بہت خوبصورت تھی-
فرید نے زیادہ وقت برباد کرنا مناسب نہ سمجھا اور مختصرا ً اپنا تعارف کرانے کے بعد شہزادہ عثمان پر جو کچھ بیت رہی تھی اس کے گوش گزار کر دیا- تمام داستان سن لینے کے بعد شہزادی ثریا پریشانی سے بولی- "مگر عثمان بھیا نے اپنے جس دوست سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے وہ تو دوسرے شہر گئے ہوۓ ہیں، ان کی واپسی پتہ نہیں کب ہوگی-"
"پھر اب کیا کیا جائے؟" فرید نے بے چینی سے پوچھا-
"میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں- میں ضرور اپنے بھیا کو اس جادوگرنی سے چھڑا کر لاؤں گی-" شہزادی ثریا نے پر یقین لہجے میں کہا-
فرید کو امید تو نہیں تھی کہ دس بارہ سال کی یہ شہزادی حسن آرا جادوگرنی کو ٹھکانے لگا سکتی ہے- اس نے شہزادی ثریا کو اس امر سے باز رکھنے کی بہت کوشش کی، عجیب عجیب شکلیں بنا کر شہزادی ثریا کو بتانے کی کوشش بھی کی کہ حسن آرا کتنی خوفناک ہے مگر شہزادی اپنی ضد پر اڑی رہی- لہٰذا مجبور ہو کر فرید بھی چپ ہوگیا-
وہ دونوں چھپ کر محل سے نکلے- شہزادی ثریا نے اصطبل سے ایک گھوڑا بھی کھول لیا تھا- چونکہ تمام غلام اور دوسرے لوگ شہزادہ عثمان کی گمشدگی سے پریشان تھے اور ادھر ادھر پھر رہے تھے، اسلئے ان میں سے کوئی بھی شہزادی ثریا کو نہ دیکھ سکا- فرید کو پری کا سر درد یاد آگیا- اس نے سوچا کہ بہتر یہ ہوگا کہ شہزادی کو اپنے باپ کے پاس بھیج کر یہ دوائی منگوا لے- یہ سوچ کر اس نے شہزادی کو اپنے گھر بھیج دیا تاکہ وہ وہاں سے گل گورو سیاہ کی چند خوراکیں اس کے باپ سے لے آئے- جب شہزادی ثریا دوائی لے آئ تو فرید اسے ساتھ لے کر جنگل کے اس حصے میں آیا جہاں پر حسینہ پری بیٹھی تھی- اس کے سر کے درد نے شدّت اختیار کر لی تھی اور حسینہ پری کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تھے-
شہزادی ثریا نے اسے جلدی سے گل گورو سیاہ کی ایک خوراک دی جس کو کھاتے ہی حسینہ پری کا سر درد کافور ہوگیا اور وہ مسکرانے لگی- پھر اس نے فرید اور شہزادی ثریا کا باری باری شکریہ ادا کیا اور بولی- "فرید تم نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے لہٰذا اب میرا بھی فرض ہے کہ میں تمھاری مدد کروں- میں ایک ایسی بات جانتی ہوں کہ جس سے تمھاری اور شہزادہ عثمان کی مشکل حل ہو سکتی ہے-"
"جلدی سے بتائیے وہ بات-" فرید نے بے تابی سے کہا-
"میں عرصے سے حسن آرا جادوگرنی کی بہن کے گھر ملازمہ ہوں- ایک روز میں دسترخوان چن رہی تھی- حسن آرا جادوگرنی اور اس کی بڑی بہن یعنی میری مالکن بھی وہیں موجود تھی- حسن آرا جادوگرنی کو ڈینگیں مارنے اور اپنی بڑائی جتانے کا بہت شوق ہے- وہ اپنی بہن سے کہنے لگی کہ میں ہمیشہ زندہ رہوں گی- کیوں کہ میں نے اپنی جان اپنے گلے کے ہار میں پروئے ہوۓ ایک موتی میں بند کر دی ہے- اس نے یہ بات بہت آہستگی سے کہی تھی مگر میں نے اس کو سن لیا تھا- اب تم کسی طرح اس ہار کو حاصل کرنے کی کوشش کرو- وہ ہار اگر تمہارے ہاتھ لگ گیا تو تمام پریشانیاں ختم ہوسکتی ہیں-" پھر اس نے شہزادی ثریا کو ایک آئینہ دیا اور بولی- "شہزادی- یہ جادو کا آئینہ ہے- اس کی یہ خاصیت ہے کہ اس میں بدصورت سے بدصورت شکل بھی بے حد حسین اور خوبصورت نظر آنے لگتی ہے- اس کو اپنے پاس رکھ لو- شائد تمہارے کسی کام آجائے-"
یہ کہہ کر حسینہ پری نے شہزادی ثریا اور فرید سے اجازت لی اور وہاں سے پرواز کرتے ہوۓ پرستان کی جانب روانہ ہو گئی- شہزادی ثریا حسینہ پری کے دیے جادو کے آئینے کو ہاتھ میں پکڑے کچھ سوچ رہی تھی- سوچتے سوچتے اچانک اس کے لبوں مسکراہٹ آ گئی اور پھر وہ مطمئن انداز میں سر ہلانے لگی-
____________
شہزادی ثریا نے فرید کو وہیں رکنے کی تاکید کی اور خود حسن آرا جادوگرنی کے محل کی طرف چل دی جہاں پر اس کا بھائی آدھا پتھر کا بنا ہوا تھا اور جس سے شادی کرنے کی خواہش حسن آرا جادوگرنی کے دل میں تھی- فرید کو وہ اپنے ساتھ اس لیے نہیں لے گئی تھی کہ کہیں حسن آرا کی اس پر نظر نہ پڑ جائے، اس سے سارا کھیل بگڑ جاتا-
محل میں گھستے ہی شہزادی کی مڈھ بھیڑ حسن آرا جادوگرنی سے ہوگئی- پہلے تو جادوگرنی نے شہزادی ثریا کو حیرت بھری نظروں سے دیکھا اور پھر غصے میں بھر کر بولی- "تجھے میرے گھر میں بغیر اجازت گھسنے کی جرات کیسے ہوئی- کیا تو یہ نہیں جانتی کہ یہ میرا محل ہے؟"
"میں سب کچھ جانتی ہوں"- شہزادی ثریا نے بڑے اطمینان سے جواب دیا- "تم نے ایک شہزادے کو پکڑ کر اسے آدھا پتھر کا بنا دیا ہے- تم اس سے شادی کرنا چاہتی ہو، مگر اس نے تمھاری بطخ جیسی شکل دیکھ کر صاف انکار کر دیا ہے- مگر حسن آرا جادوگرنی تمہیں گھبرانے، پریشان ہونے اور فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- تم دنیا کے سب سے خوبصورت شہزادے سے شادی صرف اس لیے کرنا چاہتی ہو نا کہ اپنی بہن کو نیچا دکھا سکو- میں اس نیک کام میں تمھاری مدد کرنے کے لیے ہی حاضر ہوئی ہوں اور مجھے جادوگروں کے سردار سامری جادوگر نے بھیجا ہے-"
حسن آرا جادوگرنی جو شہزادی ثریا کی باتیں بڑی حیرت سے سن رہی تھی، سامری جادوگر کے نام پر اچھل پڑی-
"اگر سامری جادوگر میری مدد پر آمادہ ہو گیا ہے تو میں ضرور اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاؤں گی-" اس نے خوشی سے کہا- "سامری جادوگر نے میرے لیے کیا پیغام بھیجا ہے-؟"
"بات دراصل یہ ہے کہ سامری جادوگر بلا ضرورت کسی کی مدد نہیں کرتا- اس کے پاس ایک بہت ہی خوبصورت لوٹن کبوتر ہے- اس نے چند دنوں سے دانہ کھانا اور پانی پینا چھوڑ دیا ہے- بس ہر وقت کسی سوچ میں گم رہتا ہے- سامری جادوگر کو اپنے اس کبوتر سے بہت پیار ہے- اس نے اپنے جادو سے پتہ لگایا ہے کہ اگر کبوتر کی چونچ کو تمہارے گلے میں پڑے ہوۓ ہار سے لگا دیا جائے تو کبوتر کی تمام اداسی لمحہ بھر میں ختم ہو جائے گی اور وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا- سامری جادوگر کو یہ بھی معلوم ہے کہ تم شہزادہ عثمان سے شادی کی خواہش مند ہو- لہٰذا اگر تم سامری جادوگر کی مدد پر آمادہ ہو جاؤ تو وہ بھی تمھاری مدد کر سکتا ہے-"
"نہیں بھئی میں اس سودے پر تیار نہیں ہوں-" جادوگرنی بولی- "اس ہار کو میں اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتی ہوں-"
"تم شائد اس بات سے خوف زادہ ہو کہ سامری جادوگر کہیں اس ہار کو تباہ کر کے تمہیں موت کے گھاٹ نہ اتار دے- کیونکہ اس ہار کے ایک موتی میں تمھاری جان ہے-"
"ارے تم سب باتوں کو جانتی ہو"- حسن آرا جادوگرنی تعجب سے بولی- "اس بات کو تو میں نے راز میں رکھا تھا- اور سوائے میری بہن کے کوئی بھی اس راز سے واقف نہیں تھا-"
"سامری جادوگر اپنے جادو سے تمام باتیں معلوم کر لیتا ہے- پھر تمہیں مار کر اسے دھیلے بھر کا بھی فائدہ نہیں ہوگا اور تم تو یہ جانتی ہوگی کہ بغیر فائدے کے تو وہ اپنے گھر سے بھی نکلنا پسند نہیں کرتا تم جیسی عورت کو ختم کرنا تو دور کی بات ہے-"
یہ بات جادوگرنی کی سمجھ میں آگئی- وہ بولی- "ٹھیک ہے میں تمہیں اپنا یہ ہار دینے کو تیار ہوں مگر سامری جادوگر سے کہنا کہ وہ اسے جلد ہی واپس کردے- لیکن سامری جادوگر میری شادی شہزادہ عثمان سے کس طرح کراے گا؟"
"اس نے مجھے ایک جادو بتایا ہے جس سے تمھاری شکل و صورت انتہائی حسین و جمیل ہو جائے گی- تم مجھے ہار دو- میں تمھاری شکل تبدیل کر دوں گی- تمہارے خوبصورت چہرے کو دیکھ کر شہزادہ عثمان تم سے فوراً شادی کرنے پر رضا مند ہو جائے گا-"
حسن آرا جادوگرنی نے جھٹ اپنے گلے سے وہ ہار اتار کر شہزادی ثریا کے حوالے کردیا جس کے ایک موتی میں اس نے اپنی جان بند کر رکھی تھی- شہزادی ثریا نے حسینہ پری کا دیا ہوا جادو کا آئینہ نکالا جس میں بدصورت سے بدصورت شکلیں بھی انتہائی حسین نظر آنے لگتی تھیں- پھر اس نے یونہی منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑا کر حسن آرا جادوگرنی کے چہرے پر دو چار پھونکیں ماریں اور آئینہ اس کے چہرے کے آگے کر کے بولی- "لو خود ہی دیکھ لو کیسی شہزادیوں کی طرح شکل ہوگئی ہے تمھاری-"
جادوگرنی نے آئینے میں جھانکا اور پھر خوشی و مسرّت سے اس کے منہ سے ایک ہلکی سی چیخ نکل گئی- آئینے میں ایک بد صورت جادوگرنی کی بجاے ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی کی صورت نظر آ رہی تھی-
جادوگرنی بے حد خوش تھی- اس نے جلدی سے ثریا کو رخصت کردیا اور شہزادے عثمان کے کمرے کی طرف دوڑی وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ کس قدر حسین ہو گئی ہے- اسے کیا پتہ تحت کہ وہ پہلے ہی جیسی ہے- جب وہ شہزادہ عثمان کے کمرے میں پہنچی تو وہ کھڑے کھڑے ہی سو گیا تھا- جب وہ حسن آرا جادوگرنی کی کی کی آوازوں پر بھی نہیں اٹھا تو وہ وہاں سے چلی آئ- رات زیادہ ہو گئی تھی- وہ بھی اپنے بستر پر لیٹ گئی مگر مارے خوشی کے نیند اس کی آنکھوں سے دور تھی- جب باوجود کوشش کے بھی وہ نہ سو سکی تو بستر سے اٹھ کر محل سے باہر نکل آئ تاکہ چاندنی رات میں جنگل کی سیر کرے-
ادھر شہزادی ثریا بھاگم بھاگ فرید کے پاس پہنچی جو ایک درخت کے نیچے بیٹھا اونگھ رہا تھا- اس نے فرید کو جلدی جلدی جادوگرنی سے ہونے والی ملاقات کا حال بتایا- فرید شہزادی ثریا کی ذہانت سے بے حد خوش ہوا جس نے ایک جھوٹی کہانی سنا کر اس چالاک جادوگرنی کو بڑی آسانی سے بے وقوف بنا دیا تھا-
شہزادی دو پتھر ڈھونڈ لائی تھی- اس کا ارادہ تھا کہ وہ ہار کے تمام موتیوں کو پتھروں کی مدد سے کچل دے گی- اس نے ہار کے تمام موتیوں کو علیحدہ کر لیا اور انھیں ایک ایک کر کے توڑنے لگی- فرید اسے بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا- اچانک شہزادی ثریا فرید کی آواز سن کر چونک گئی- وہ شہزادی کو پیچھے کی طرف متوجہ کر رہا تھا- شہزادی نے گھوم کر دیکھا- چاند کی ہلکی روشنی میں ایک سایہ ان کی طرف بڑھ رہا تھا- شہزادی ثریا پہلی ہی نظر میں تاڑ گئی کہ یہ وہ ہی جادوگرنی ہے جس نے اس کے بھائی کو پتھر کا بنا دیا ہے-
وہ فرید کو لے کر جھاڑیوں میں گھس گئی اور سرگوشی کے انداز میں فرید سے بولی- "یہ جادوگرنی رات کو جنگل میں کیا لینے آئ ہے؟"
"شائد اسے خوشی کے مارے نیند نہیں آ رہی ہوگی-" فرید نے ہلکے سے جواب دیا- شہزادی کچھ نہ بولی- تھوڑی دیر بعد جادوگرنی ان کے سامنے سے گزری- دونوں نے اپنے سانس تک روک لیے تھے تاکہ جادوگرنی ان کی موجودگی سے باخبر نہ ہو جائے- جب جادوگرنی ان سے کچھ دور پہنچ گئی تو شہزادی ثریا نے کہا- "یہ جانے کب تک جنگل میں چکراتی پھرے گی- ہم اس کے محل میں ہی چلتے ہیں- وہاں پر اطمینان سے تمام موتیوں کو توڑیں گے- کیونکہ ہمیں یہ تو پتہ ہی نہیں کہ اس کی جان کونسے موتی میں ہے-"
پھر وہ اور فرید تیزی سے جادوگرنی کے محل کی طرف چل دئیے- فرید شہزادی کو اس کمرے میں لایا جہاں پر شہزادہ موجود تھا- اپنے بھائی کو آدھا پتھر کا بنا دیکھ کر شہزادی ثریا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے- وہ اس سے لپٹ کر زار و قطار رونے لگی- شہزادہ عثمان کی آنکھ کھل گئی- اس نے جو اپنی بہن کو وہاں پر دیکھا تو اسے بے حد حیرت ہوئی- شہزادی نے مختصراً اسے تمام بتایں- اس عرصے میں فرید دروازے میں کھڑا ہو گیا تھا تاکہ اگر حسن آرا جادوگرنی وہاں پر آ بھی جائے تو وہ جلدی سے اس کی اطلاع شہزادی ثریا کو دے دے-
شہزادی ثریا خاموش ہوئی ہی تھی کہ فرید جلدی سے اس کے پاس آ یا اور بولا- "شہزادی- آپ نے باتوں میں بہت سا وقت ضائع کر دیا ہے- وہ جادوگرنی محل میں داخل ہو چکی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ اب یہاں پر ہی آئے گی-"
یہ سن کر شہزادی کچھ پریشان سی ہوگئی- اس نے جلدی جلدی موتیوں کو دیوار پر مارنا شروع کر دیا- موتی دیوار سے ٹکراتے ہی ننھی منی کرچیوں میں تبدیل ہوجاتے- پھر شہزادی کے ہاتھ میں صرف ایک ہی موتی رہ گیا تھا جو یقیناً وہ ہی موتی تھا جس میں حسن آرا جادوگرنی کی جان بند تھی- ابھی شہزادی ثریا نے ہاتھ بلند کیا ہی تھا کہ جادوگرنی کمرے کے دروازے پر آن پہنچی- وہ شہزادی ثریا کو وہاں دیکھ کر بہت حیران ہو گئی تھی- اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ شہزادی ثریا نے اس آخری موتی کو بھی دیوار پر دے مارا- دیوار سے ٹکراتے ہی موتی سینکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا- اس کے ٹوٹتے ہی حسن آرا جادوگرنی کے منہ سے ایک نہایت ہی بھیانک چیخ نکلی اور وہ زمین پر گر کر اسی وقت مر گئی-
اس کے مرتے ہی فضا میں چیخوں اور کراہوں کی آوازیں گونجنے لگیں- دور کہیں زور سے بادل کڑ کڑ ا یا اور پھر لمحہ بھر میں وہ محل بھک ے اڑ گیا-
شہزادہ عثمان اور فرید اپنی اصلی حالت میں آ گئے تھے- شہزادی انھیں مسکراتے ہوۓ دیکھنے لگی- محل تو چونکہ غائب ہو گیا تھا اس لیے اب وہ لوگ جنگل میں کھڑے تھے- ان کے قریب ہی جادوگرنی کی لاش پڑی تھی-
شہزادہ عثمان بولا- "ثریا بہن- میں تو تمہیں نہایت ڈرپوک سمجھتا تھا مگر تم تو بہت باہمت نکلیں- صبح تو میں تمہیں اپنے ساتھ شکار پر نہیں لایا تھا، مگر اب تم جی بھر کر شکار کھیل سکتی ہو-"
"اور اس بات کا خیال رکھئے گا کہ اندھیرے میں شکار صرف بلی ہی کرتی ہے-" فرید ہنس کر بولا- اس کی اس بات پر شہزادہ عثمان اور شہزادی ثریا بھی ہنس پڑے-
شہزادی نے درخت سے اپنا گھوڑا کھولا اور وہ تینوں محل کی طرف چل دیے- محل پہنچے تو تمام لوگ شہزادہ عثمان کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے- شہزادہ عثمان نے بادشاہ اور ملکہ کو تمام کہانی سنا دی- شہزادی ثریا اور فرید کو بہت شاباش ملی- بادشاہ نے فرید کو بہت سا انعام و اکرام دے کر رخصت کیا-
اس روز کے بعد سے شہزادہ عثمان کا دل شکار سے اچاٹ ہوگیا- وہ حکومت کے کاموں میں بادشاہ کا ہاتھ بٹانے لگا- کچھ عرصہ بعد ملکہ نے ایک خوبصورت شہزادی سے شہزادہ عثمان کی شادی کردی اور بادشاہ اسے تخت و تاج سونپ کر خود یاد الہی میں مصروف ہوگیا

0 Comments