شیخ چلی اور پری
شیخ چلی اول درجے کے بے وقوف تو تھے ہی ستی اور کام چوری میں بھی ان کا کوئی جواب نہ تھا۔ بیوی سے اکثر ان بن رہتی۔ ایک روز بیوی نے کچھ زیادہ ہی بُرا بھلا کہا تو تنتا کے چار پائی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور دروازے کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بولے: لو، ہم جا رہے ہیں شہر بھی اسی وقت نوکری کرنے ۔ شہر کوئی یہاں رکھا ہے ... دن بھر کا راستا ہے۔ بیچ میں کھاؤ یوگے کیا۔ بیوی بولی ڈر ٹھہر جاؤ روٹیاں پکائے دیتی ہوں۔ پھر اُس نے سات روٹیاں پکا کر دیں، شیخ چلی چل پڑے۔ چلتے چلتے و پہر ہو گئی، ایک کنواں نظر آیا وہ اُس کی منڈیر پر بیٹھ گئے ، بہت زور کی بھوک لگی تھی ۔ روٹیاں نکالیں اور سر کھجاتے ہوئے بولے: ایک کھاؤں دو کھاؤں کہ ساتوں کو کھا جاؤں ..! کنویں میں سات پر یاں رہتی تھیں ۔ انہوں نے جو یہ سنا تو ڈر گئیں۔ ملکہ پری کنویں سے باہر آئی اور شیخ چلی سے بولی: کیوں تم کیوں کھانا چاہتے ہو ساتوں کو۔ بھوک جوز ور کی لگی ہے۔ ایک دو سے کام نہیں چلے گا اس لیے۔ شیخ چلی نے جواب دیا۔ اچھا اگر تم ہمیں نہ کھاؤ تو میں ایک ایسی چیز نہیں دوں گی کہ جو نہیں کیا تمہارے خاندان بھر کو بھوکی نہ رہنے دے گی۔
پر بولی اور ہاتھ آسان کی طرفلند کیا ہاتھ پر ایک دیکی آگئی۔ پری نے کہا۔ یہ دینی دیکھ رہے ہو؟۔ اس کے سامنے تم جب اور جس کھانے کا نام لوگے یہ اُس سے بھر جائے گی۔ یخ چلی بولے روٹیاں تو ہیں میرے پاس قورمہ مانگتا ہوں اس سے۔ دیگچی فور اقورے سے بھر گئی۔ شیخ چلی نے سیر ہو کر کھایا اور پیچی بغل میں دبا کر چل دیے۔ شہر میں وہ ایک سرائے میں رکے دینی سامنے رکھ کر بریانی کا یا دیگچی بریانی سے بھر گئی۔ پر دے کی خواہش کی وہ بھی مل گیا۔ انہوں نے جی بھر کے کھایا۔ سرائے کی مالکہ بڑھیا یہ سب دیکھ رہی تھی ۔ اُس نے شیخ چلی سے دینچی کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے صاف صاف بتا دیا۔ بڑھیا نے چکنی چپڑی باتیں کر کے شیخ چلی کو رات سرائے میں ہی ٹھہرالیا اور جب وہ سو گئے تو پریوں والی وینچی چرا کر اُس کی جگہ ویسی ہی وسری یکی رکھ دی شیخ چلی تھی دیکچھ لے گھر پہنے اور بیوی سے بولے: دیکھو نیک بخت! تمہارے لیے کیا لایا ہوں ۔ پھر انہوں نے دینچی کے بارے میں بتایا اور مرغ مسلم کی فرمائش کی۔ مگر وینچی خالی رہی۔ انہوں نے کئی اور کھانوں کے نام لیے مگر کچھ نہ ہوا۔ بیوی نے خوب مذاق آزا۔ وہ شیخ لی کی بات پر یقین کرنے کو تیار تھی۔ آخر شیخ چلی جھل کر بولے: اچھی بات ہے۔ کل مجھے روٹیاں پکا کر دینا میں پریوں کے پاس جاؤں گا اور دینی کی شکایت کروں گا۔ اگلے روز بیوی نے روٹیاں پکائیں ۔ شیخ چلی چل دینے کنویں پہنچ کر پھر بولے: ایک کھاؤں دو کھاؤں کہ ساتوں کو کھا جاؤں ۔ ملکہ پری باہر آئی اور بولی: تم پھر آگے ہمیں کھانے ۔ کیا اب بھی کھانے کی کمی ہے تمہارے پاس ؟ شیخ چلی کی شکایت پر کہ دینی اُن کی فرمائش پوری نہیں کر رہی ۔ پری سوچ میں پڑگئی۔ پھر بولی: خیر چھوڑ پیچی کو میں تمہیں ایک ایسا تحفہ دیتی ہوں کہ مالا مال ہو جاؤ گے ۔” اُس نے اپنا دایاں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیا۔ ایک سفید خوبصورت مرغی ہاتھ پر بیٹھی۔ پری نے مرغی شیخ چلی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: یہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے۔ جب کہو گے تب سونے کا انڈا دے گی۔ اسے لے جاؤ اور اب ہمیں پریشان کرنے مت آنا ۔ شیخ چلی نے خوشی خوشی مرغی بغل میں دبائی اور چل پڑے۔ وہ پھر اُس سرائے میں پہنچے۔ بڑھیا نے انہیں دیکھا تو فوراً قریب آئی ۔ پوچھا۔ اب کیا تحفہ لائے ہو۔
شیخ چلی نے اسے نہ صرف
مرغی کے بارے میں بتایا بلکہ تجربہ بھی کر کے دکھا دیا۔ بڑھیا بہت خوش ہوئی۔ اس نے
شیخ چلی کو سرائے کے سب سے خوبصورت کمرے میں ٹھہر ایا۔ خوب خاطر مدارات کی رات کو شیخ
چلی مرغی کی ٹانگ اپنی چارپائی کے پائے سے باندھ کر سو گئے ۔ بڑھیا نے موقع پا کر مرغی
چرالی اور اس کی جگہ دوسری ویسی ہی مرغی باندھ دی۔ شیخ چلی علی مرغی بغل میں دہائے
گھر پہنچے اور لگے ڈینگیں مارنے ۔ بیوی نے کہا: میں سونے کا انڈا دیکھوں گی تو یقین
کروں گی ۔” ہاں ہاں کیوں نہیں۔ ابھی لو!۔ شیخ چلی جوش سے بولے اور مرغی سے کہا: بی
مرغی سونے کا انڈا دو۔ مگر بی مرغی سونے کا انڈا تو کیا، عام انڈا بھی نہ دے سکیں،
بیوی پھر مذاق اڑانے لگی۔ شیخ چلی غصے سے بولے: کل تم پھر روٹیاں پکانا ۔ دیکھ میں
کیا حشر کرتا ہوں اُن دھو کے باز پریوں کا ۔ اگر واقعی زندہ نہ چہا گیا تو شیخ چلی
نام نہیں ۔” بس رہنے دو!... میرا خیال ہے تم روٹیاں ہڑپ کرنے کو یہ سارا ڈراما کرتے
ہواب کوئی روٹی گی۔ نہیں ملے خیر، نہ دینا روٹی میں بغیر روٹی کے ہی چلا جاؤں گا ۔
شیخ چلی نے آہستہ سے جواب دیا اور اگلے روز وہ پھر کنویں پر پہنچے اور بولے: ای کھاؤں
دو کھاؤں کہ ساتوں کو کھا جاؤں ۔ کنویں کی پریوں میں ہلچل مچ گئی۔ ملکہ باہر آئی اور
بولی اب کیا ہوا ! میں نے تمہیں ایسے تھنے دیے کہ جن سے مالامال ہو جاؤ گے مگر تم کچھ
زیادہ ہی لاچی معلوم ہوتے ہو۔” نہیں ملکہ پری! یہ بات نہیں ہے۔ یقین کرود پیچی کی طرح
اب مرغی بھی میری بات نہیں مان رہی۔ میری بیوی نے تو میرا بہت مذاق ایا ہے۔ شیخ چلی
بتاتے ہوئے روہا نے ہو گئے ۔ ملکہ پری سوچ میں پڑ گئی۔ پوچھا: یہ بتاؤ ! تم گھر جانے
سے پہلے بھی دونوں چیزیں کہیں لے کر گئے تھے۔ شیخ چلی نے سرائے اور بڑھیا کے بارے میں
بتایا۔ ملکہ پری سمجھ گئی ساری شرارت بڑھیا کی ہے اُس نے آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھایا،
ایک موٹا سا ڈنڈا اُس کے ہاتھ میںآ گیا۔ اُس نے ڈنڈ شیخ چلی کو دیتے ہوئے یہ ڈنڈا لے
کر سرائے جانا اور کہنا۔ اے ڈنڈے جس نے میری دونوں چیزیں چرائی ہیں اُس کی پٹائی اُس
وقت ت کر جب تک وہ دونوں چیزیں مجھے واپس نہ کر دے۔ شیخ چلی وہ ڈنڈ لیے سرائے پہنچے۔
بڑھیا نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا اور پوچھا: آج پر یوں نے کیا تحفہ دیا ہے؟ شیخ
چلی بولے یہ ڈنڈا اور کہا ہے اے ڈنڈے ! جس نے میری دونوں چیزیں چرائی ہیں اُس کی پٹائی
اُس وقت تک کر جب تک وہ دونوں چیزیں مجھے واپس نہ کر دے۔ ان کے منہ سے جملہ پورا ہوا
تھا کہ ڈنڈے نے بڑھیا کی پٹائی شروع کر دی۔ وہ چینی چلاتی پوری سرائے میں بھاگی بھا
گی پھر رہی تھی نا بھی مسلسل پیچھا تھا اور دھڑا دھڑ پائی کر رہاتھا اوروہ تب ہی رکا
جب بڑھیا نے دونوں چیزیں شیخ چلی کو واپس کر دیں۔ شیخ چلی ڈنڈا ، مرغی اور بچی لیے
گھر پہنچے۔ اب دینچی نے فرمائش کرنے پر کھانے بھی دیے اور مرغی نے انڈے بھی ۔ دونوں
میاں بیوی مالامال ہو گئے اور عیش آرامو سے رہنے لگے۔ مگر وہ اپنا برا وقت بھی نہ بھولے،
ہمیشہ غریبوں اور حق داروں کی دل کھول کر مدد کرتے رہے۔



0 Comments