شیخ چلی کا مطب
شیخ چلی نے چند ماہ ایک حکیم جی کے مطلب میں کام کیا کر لیا خد کو حکیم ہی سمجھنے لگے اور گھر کے ایک کمرے میں باقاعدہ مطب کھول کر بیٹھ گئے ۔ اماں نے بہت منع کیا کہ کم بخت سی کو الٹی سیدھی دوا دے دی اور وہ مر مرا گیا تو پھانسی ہو جائے گی مگر شیخ چلی کہاں ماننے والے بولے: ایسے ہی دوادے دیں گے الٹی سیدھی میں سب پتا ہے، دواؤں کا بھی بیماریوں کا بھی آخر چھ مہینے بڑے حکیم جی کے ہاں پڑیاں باندھی ہیں کوئی مذاق ہے کیا۔ تم بالکل پریشان نہ ہو اماں۔ اب تو سمجھ لو پریشانی کے دن گئے۔ بہت نکما، ناکارہ گھو کہتی تھیں اں اب نوٹ گنے اور تھیلیاں بھرنے کی تیاریاں کرو۔ دیکھنا جلد ہی بڑے حکیم جی سے بڑا گھر اور دواخانہ نہ بنوایا تو شیخ چالی نام نہیں ۔” مطلب کھولے کئی دن ہو گئے تھے مگر اب تک کوئی مریض نہ آیا تھا شیخ چلی کو مالی ہونے لگی۔ ایک روز بے زار سے بیٹھے تھے کہ ایک عورت مطب میں داخل ہوئی ، اس کی گود میں چھوٹا سا بچہ بھی تھا۔ آپ ہی ہیں حکیم جی؟ عورت نے شیخ چلی کو شک بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ آس ہاں ! ہم ہی ہیں حکیم جی ہمارا مطلب ہے حکیم صاحب فرمائیے کیا تکلیف ہے آپ کو حکیم جی تکلیف تو کچھ نہیں ۔ بس ایک پریشانی ہے۔ عورت نے جواب دیا۔ تو وہی بتائے شیخ چلی جلدی سے بولے ۔ ہم لوگوں کی پریشانیاں اور بیماریاں دور کرنے کو تو بیٹھے ہیں ...
یہاں بات یہ ہے حکیم جی ی ہمارا پہلا ک ہے۔ دانت نکلنے کی عمر ہے اس کی۔ مگر ہم دو یوں پریشان ہیں کہ ہمیں کیسے پتا چلے گا اس کے دانت نکل رہے ہیں ۔” لس اتنی سی بات ارے یہ تو کسی بے وقوف سے پوچھے وہ بھی بتا دے۔ ر اچھا کیا جو ہم سےپوچھ لیا۔ لی چلی گردن اکرائے کہہ رہے تھے۔ یہ تو بہت آسان ہے۔ آپ بچے کے منہ میں انگلی ڈالیے ، اگر کاٹ لے تو سمجھ لیجئے دانت نکل آئے، نہ کائے تو اس کا مطلب ہو گا انت ابھی نہیں نکلے۔ م مگر حکیم جی۔ عورت بولی۔ ہاتھوں میں تو جراثیم ہوتے ہیں میرا بچہ بیمار نہ ہو ہاں یہ بات بھی ہے۔ شیخ چلی نے کہا: خبر آپ ایسا کیجئے گا کہ بچے منہکے میں انکی ڈالنے سے پہلے ہاتھ کھوتے ہوئے پانی سے دھو لینے گا۔ ہمارے استاد بڑے حکیم صاحب چیزوں کو جراتیم سے پاک کرنے کی یہی ترکیب بتاتے ہیں سب کو . ہ خاتون بھی شتی چلی کی قیل کی عورت تھیں، کچھ دنوں بعد انہیں بچے کے دانتوں کا خیال آیا تو شیخ چلی کی بنائی ہوئی ترکیب کے مطابق منہ میں انگلی ڈالنے سے پہلے انہوں نے پانی کھولا یا پھر دونوں ہاتھ اس میں ڈال دیے۔ ایک ہولناک بینچ بلند ہوئی۔ ان کے دونوں اتھ بری طرح مجلس گئے تھے۔ چیخ کی آواز سن کر شوہر باورچی خانے میں پہنچا تو وہ تکلیف سے تڑپ رہی تھیں ۔ مرہم پٹی کے بع شویر کو اصلی بات کا پتا چلا تو وہ سیدھا مطلب پہنچا۔ شیخ چلی ایک موٹی سی کتاب پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ تم حکیم ہو کہ قصائی وہ شخص مطب میں داخل ہوتے ہوئے دہارا شن چلی کے ہاتھ سے کتاب چھین کر تخت پر بین دی اوراب خونخوار نظروں سے انہیں کھو رہا تھا۔ ارے ہا میں کیایہ ج حکیم ہیں ہم۔ ویسے قصاب کا کام بھی جانتے ہیں۔ کہوں اس شخص نے اچانک ہی شیخ چلی کا گلاد وچ لیا اور دانت پیتے ہوئے بولا:
ذبح تو میں کروں گا تجھے نیم حکیم کی اولاد. تیری وجہ سے دونوں ہاتھ جل گئے ہیں میری بیوی کے۔ نم مغر ہوا کیا ہے۔ شیخ چلی اس کے ہاتھوں سے اپنا گل پھر واتے ہوئے بولے کچھ پتا تو چلے ۔” پتا تو تجھے تھا نے چل کر ہی چلے گا۔ اس شخص نے ان کا ہاتھ پکڑ کر دروازے کی طرف کھینچتے ہوئے کہا۔ سیدھی طرح چل نہیں تو جوتے مارتا ہوائے جاؤں گا۔ یہ ہنگامہ دیکھ کر بہت سے لوگ وہاں جمع ہو گئے ۔ ہاں بھی دروازے میں آکھڑی ہوئی تھیں۔ لوگوں کے پوچھنے پر اس شخص نے ساری بات بتائی۔ شیخ چلی بھی غور سے سن رہے لو اتنی سی بات پر اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ ارے ہاتھ جل گئے تو کیا ہوا ہم جو ہیں، حکیم ابن حکیم این حکیم ... ایسا مرہم دیں گے کہ ادھر لگا ادھر زخم صاف ۔ ابھی لایا۔” شیخ چلی اتنا کہہ کر مطب کی طرف بڑھے مگر اس شخص نے فور ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ نہیں چاہے تیرا مرہم ور ہم ... نجانے وہ کیسا ہو گا۔ تھانے چل و ہیں فیصلہ ہو یا۔ لوگوں نے بہت سمجھا اگر وہ شخص کسی کی بات مانے پر تیار نہ ہوا، اس کی ایک ہی ضد تھی کہ شیخ چلی کو تھانے لے جا کر ان کے خلاف مقدمہ درج کرائے گا۔ بالآخر ان کی اماں کی منت سماجت کام آئی اور وہ شخص اس شرط پر شیخ چلی کو معاف کرنے پر راضی ہوا کہ اس کی بیوی کے علاج معالجے کے علاوہ سور و پے ہر جانہ اسے دیا جائے گا۔ بعد میں اماں نے شیخ چلی کی خوب خبرلی، ڈانا چھٹکارا ۔ وہ سر جھکائے سنتے رہے۔ مگر دل میں سوچ رہے تھے ، لوگ ان کی ترقی سے جلتے ہیں۔ ذرا سے ہاتھ جل گئے تو آگئے جھگڑا کرنے۔ تھانے لے جائیں گے۔ ہنہ - آخر علاج کروانے میں تکلیف تو ہوتی ہی ہے۔ بایہ تو خود بڑے حکیم صاحب کہتے تھے۔ مگر ہماری بات لوگوں کی سمجھ میں ہی نہیں آتی۔ اماں نے غصے میں کچھ پایا بھی نہیں ، ڈر کے مارے شیخ چلی بھی کچھ نہ بولے۔ بھو کے ہی
گئے انگی صبح نے دار ہوئے تو پیٹ میں چو ہے دوڑ رہے تھے۔ باورچی خانے سے کھٹ یٹ کی آوازی آ رہی تھیں ۔ منہ ہاتھ دھو کے وہیں پہنچ گئے۔ اماں ناشتہ تیار کر رہی ھیں، انہیں دیکھا تو خنگی سے نظریں پھیر لیں۔ امان ! چی چلی بچوں کی طرح ٹھنگ کر بولے اب تک ٹارائقن ہو دیکھ ہم نے تورات کو کھانا بھی نہیں مانگا، جھو کے سو گئے ۔ اب تو معافی کر دو۔” ان کے انداز پر اماں کو نسی آگئی منہ پھر کر سے چھپاتے ہوئے بولیں : توای حرکتیں ہی کیوں کرتا ہے بد نقیب . وہ مسٹڈ تھے لئے جا کر کھانے میں بند کر دیتا تو میں کیا کرتی نوٹوں کے تیلے بھر رہا تھا مطلب کی کمائی سے۔ الٹا این موئی کا علاج کروانا پڑے گا جو تیرے کہنے پر اپنے ہاتھ جلا بیٹھی ہے۔ سو روپے دینا پڑیں گے وہ الگ پتا نہیں کب عقل آئے گی۔ جوان ہو گیا مگر بچوں سے بھی گیا گزرا ہے۔ کسی کام کاج کا نہیں ۔” دیکھا ماں یہ نہ ہو۔ ٹیچ چلی منہ پھلا کر ہوئے۔ اتا بڑا مطلب چلا رہے ہیں اور اب بھی کام کاج کے نہیں ۔ ناشتہ کرتے ہی کھولتے ہیں۔ دیکھنا مریضوں کی قطارین لگ جا میں کی۔ خبر دار جو مطب کا نام بھی لیا اپ ۔ اماں چلائیں ۔“ کاٹ کھول کر سن لے اب یہ جھاڑ و پھرا مطلب کھلا تو آگ لگا دوں گی اسے۔ میرے پاس خزانہ نہیں رکھا جو لوگوں کے علاج کراتی اور جرمانے بھرتی رہوں سمجھ گیا۔” چلی سر جھک کر دوبارہ ناشتہ کرنے لگے۔ وہ سوچ رہے تھے، یہ ماں بھی خوب ہیں۔ کچھ کرو تو کرنے نہیں دیتیں نہ کرو تو کہتی ہیں، جھاڑ پھر کسی کام کاج کا نہیں۔ اب کوئی 33 بتائے ہم کریں تو کیا کریں ...



0 Comments