شیخ چلی کو ہو گیا ہو کا
شیخ چھلی کھاتے تو ہمیشہ سے ہی خوب تھے مگر جب سے شادی ہوئی تھی ان کی لگتا تھا ہو گا ہی ہو گیا ہے۔ صبح اٹھتے تو کھانا ۔ رات سونے لگتے تو کھانا۔ گھر سے جاتے تو کھانا ۔ واپس آتے تو کھانا ۔ بات کرتے تو کھانے کی اور بات سنتے تو وہ بھی بس کھانے کی ۔ بیوی اور ماں دونوں ہی بہت پریشان تھیں۔ ایک روز اماں اپنی بہن کے پاس دوسرے گاؤں گئی ہوئی تھیں۔ صبح چار آدمیوں کے ناشتے کے برابر ناشتہ کرنے کے بعد ، ابھی دو پہر بھی نہ ہوئی تھی کہ چوتھی بار کھانےکی فرمائش کر دی۔ بیوی تو جلی بھی بیٹھی تھی، صاف منع کر - مجھ سے نہیں پکا یا جاتا ہر وقت کا شادی کے وقت سنا تھا لیں ماں ہیئے ، دو جائیں ہیں تو سوچا تھا چلو پکانے ریندھنے کی مصیب نہ ن ہو گی کی ۔ مگر اس سے تو کہیں بہتر تھا آٹھ دس افراد کے گنبے میں بیاہ ہو جاتا، چوتھائی کام بھی نہ ہوتا جتنا تم اکیلے کا ہے۔ اب کھانا ہے تو خود ہی پکا لو۔ سوچ لو !۔ شیخ چلی تنبیہ کرنے کے انداز میں بولے ہم نے ایک بار رمضان میں افطاری بنائی تھی تو باورچی خانہ ہی جل کر راکھ ہو گیا تھا۔ ایسا نہ ہ، آج ہم کھانا پکائیں تو گھر ہی جل جائے پورا کا پورا پھر ہوگی کہاں ؟! باور چی خانہ جلے یا گھر پھٹکے ، میری جوتی سے۔ مگر میں ہر وقت کھانا نہیں پا سکتی بس ! بیوی نے فیصلہ کن انداز میں جواب دیا۔ شیخ چلی کا اپنا مطلب تھا ، لگے خوشامد کرنے اور آخر کار سے کھانا پکانے پر راضی کر لیا۔ کھانا تیار ہو چکا تھا۔ بیوی نے دسترخوان لگایا، دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گیا تھا، وہ خود بھی ساتھ آبیٹھی۔ شیخ چلی نے خوب لمبے لیے ہاتھ مارنا شروع کر دیے۔
کیسا پکا ہے کھانا ۔ بیوی نے اپنی تعریف سننے کے لیے پوچھا۔ ب لغوت بہت اچھا ش چلی نے بڑا سالقمہ منہ میں ٹھونستے ہوئے بولنے کی کوشش کی ۔ مگر ایک گڑبڑ ہے۔” گزیر وہ کیا بیوی نے حیرت سے پوچھا۔ بھی یعنی ہجوم ۔ بہت ہے دستر خوان پر خطرہ ہے پیٹ بھر کے نہیں کھا پاؤں گا۔” پھیر دسترخوان پر بیوی بدستور حیران تھی ۔ ادھر ادھر دیکھتی ہوئی ہوئی۔ مگر دستر خوان پر تو بس ہم اور تم ، دوہی ہیں ۔ ہاں ! یہی تو .. میرا مطلب ہے.. کتا چھا ہوتا اگر دسترخوان پر بس میں اور یہ کھانا بیوی کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ غصے سے بھری اٹھ کھڑی ہوئی۔ اچھا تو میں تمہیں بھیڑ اور ہجوم نظر آرہی ہوں۔ میرے دو لقے کھانے سے تم بھو کے رہ جاؤ گے تو لوں میں چیلی۔ بھروا کیلے اپنا دوزخ اور اب حرام ہے جو اس گھر کا ایک دانہ بھی کھاؤں وہ پیر سختی وہاں سے چلی گئی۔ شیخ چلی نے دعا کے انداز میں دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے چھت کی طرف دیکھا جیسے اس کے جانے پر شکر ادا کر رہے ہوں اور پھر دسترخوان پروٹ پڑے۔ شیخ چلی کی بسیار خوری کی خبریں دور دور تک پہنچ گئی تھیں ۔ لوگ انہیں دعوت دینا تو دوران سے بات کرتے بھی ڈرنے لگے تھے کہ کہیں کھانے کی فرمائش کر بیٹھیں۔ کسی کے لیے ان کو بلانا ضروری ہوتا تو تہا ان کیلئے پانچ سات افراد کے کھانے کا انتظام کرنا پڑتا ۔ چونکہ نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ دعوتوں کا سلسلہ بھی چل رہا تھا۔ اکثر ان کی دعوت کرنے والے خود بھو کے رہ جاتے تھے۔ زین الدین شیخ چلی کا بہت اچھا دوست تھا، اس نے بھی شادی کے بعد شیخ چلی کی دعوت کی تھی اور کھانے کی بہت زیادہ تعریف کیے جانے پر کچھ روز بعد پھر انہیں کھانے پر بلا لی
تھا۔ کھانے کی تعریف دوسری بار بھی خوب ہوئی تھی مگر اس میں مزید دعوت کی ہمت نہ تھی ۔ دونوں بار اس کے گھر والوں اور خود سے بھوکا سونا پڑا تھا۔ شچی کو بڑا انتظار تھا کہ کب وہ ایک بار پھر انہیں دعوت پر بلائے اور کب وہ اپنے دل بلکہ پیٹ کے ارمان نکالیں۔ اور جب طویل انتظار کے بعد بھی دعوت نہیں ملی تو ایک روز وہ خود بن بلائے مہمان بن کر اس کے گھر جادھمکے۔ زین الدین نے دستک سن کر دروازہ کھولا تو شیخ چلی کو دیکھ کر اس کی جان ہی نکل گئی۔ اخلاقاً گھر میں بلایا اور علیک سلیک کے بعد آنے کا سب پوچھا۔ تی چلی بولے : بھائی تم نے تو ہمیں بھلا ہی دیا ۔ عرصے سے صورت نہیں دکھائی۔ کب سے انتظار تھا کہ کھانے پر بلواؤ گے مگر پس انتظار ہی کرتے رہے ہم تو ۔ سوچا چلو خود ہی ہو آتے یں۔ آخر کو تمہارا گھر بھی خیر سے اپنا ہی گھر تو ہے۔ ہاہاہا۔ انہوں نے اپنی بات پر خود ہی قہقہ لگایا۔ زین الدین کو غصہ تو بہت آیا مگر صبر سے کام لیا۔ سوچان سے دوٹوک بات کر لینا ہی بہتر ہے، ورنہ مستقل در سر بن جائیں گے۔ اس نے کہا: “ بھائی شیخ چلی نہ میں تم کو بھولا۔ نہ ہی نہیں کھانے پر بلانے میں مجھے کوئی پریشانی ہوتی .. مگر بات کروں گا صاف صاف۔ بری لگے تو بتا دینا۔ پچھلی دعوتوں میں تم نے کھانے کا جو حیرت انگیز مظاہرہ کیا تھا، اس کے بعد میری ہمت نہ ہوئی کہ پھر ایسا کوئی خطرہ مول لوں ۔ غضب خدا کا جیسے تم کھاتے تے: ہو، ایسے تو کوئی بھٹی میں کوئل بھی نہیں جھونکتا ہوگا۔ ایک نوالہ حلق سے اتر انہیں کہ دوسر ابھی منہ میں اور تیسر ہاتھ میں تیار ۔ اور یہ سلسلہ چلتا ہے تو رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ شیخ چلی کو ایسی کھری کھری سنے کی امید نہ تھی۔ پہلے تو وہ حیرت زدہ سے زین الدین کی باتیں سنتے رہے پھر تعملا کر بولے: واہ میاں زین الدین واہ تم نے دو ایک دفعہ کھانا کیا کھلا دیا جیسے ہماری سات پشتوں پر احسان کر دیا۔ نہ کرتے ہو دعوت تو نہ کرو، بلکہ اب تم بلاؤ گے بھی تو ہم آنے والے
نہیں مگر ہم یہ باتیں برداشت نہیں کر سکتے تم کیا چاہتے تھے کہ ہم تمہارے ہاں دعوت میں آتے تو ایک لقمہ کھا کر دو رکعت نماز پڑھتے پھر دوسر القمہ لیتے ۔ ارے میاں ایسے کھانے سے تو یہ بھی اور ایسی دوستی کو بھی دور سے سات سلام جس میں کھانا کھلا کر جنایا جاتا ہو۔ لنے دیے جاتے ہوں۔ وہ ہے اور خبردار و نمی آواز دی۔ روکنے کی کوشش کی۔ زین الدین نے دور جاتے شیخ چلی کو دیکھتے ہوئے سکون کی سانس لی۔ اسے توقع نہیں تھی کہ یہ بلا اتنی آسانی سے مل جائیگی۔ پھر شیخ چلی کو جس طرح اپنے آپ یہ بیماری لگی تھی ، اسی طرح خود خود ٹھیک بھی ہوگئی۔ ان کی اماں اور بیوی نے بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔



0 Comments