شیخ چلی نے انگریزی سیکھی
پیارے بچو! یہ ان دنوں کی
بات ہے جب انگریزوں نے ابھی ہندوستان پر قبضہ تو نہیں کیا تھا مگر تجارت کے بہانے اُن
کی آمدو رفت خوب بڑھ گئی تھی ۔ گورے بیٹے شہری بالوں نیلی آنکھوں والے انگریز شیخ چلی
کو بہت اچھے لگتے تھے۔ خاص طور پر جب وہ گٹ پٹ گٹ پٹ انگریزی بولتے تو یہ شوق سے انہیں
تکتے رہتے۔ ایسے وقت اُن کے دل میں خواہش ہوتی کہ کاش وہ بھی انگریزوں کی زبان بول
اور سمجھ سکتے اور اُن سے بات چیت کر سکتے ۔ اتفاق سے انہی دنوں اُن کی ملاقات ایک
ایسے شخص سے ہو گئی جو ایک انگریز تاجر کے گھر میں اور پی تھا اور ٹوٹ پھوٹی انگریزی
بول اور سمجھ لیتا تھا۔ دراصل اُس کی یہی خوبی بی چلی کی دلچسپی کا باعث بنی تھی اور
پھر وہ اس سے قریب ہوتے گئے ۔ اُس کی بہت عزت کرتے ، خاطر مدارات میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔
ایک روز انہوں نے اس شخص سے انگریزی سیکھنے کی خوہش ظاہر کی ۔ پہلے تو وہ اکڑتا نخرے
کرتا رہا۔ مگر شیخ چلی کے خوشامد در آمد کرنے پر راضی ہو گیا اور ایک لفظ ) Yes ہاں(
انہیں سکھا دیا۔ شیخ چلی پھولے نہ سمائے اور اتر اتے پھرتے تھے کہ انہوں نے آخر کا
انگریزی سیکھ لی ۔ اگلے روز بازار گئے تو تہیہ کر کے نکلے کہ اب بات کریں گے تو بس
انگریزی میں۔ سبزی کی دکان پر پہنچے دکان دار نے پوچھا: کو بھائی شیخ چلی ، کیا چاہئے
۔ آلو، گوبھی مٹر! شیخ چلی بولے لیں ! دکان دار نے الجھن آمیز نظروں سے انہیں دیکھا۔
بولا:
ہم سمجھے نہیں ایس ایس کیے
جاتے ہو اردو میں بولو مگر شیخ چلی نے تو طے کر رکھا تھا کہ بس انگریزی بولیں گے۔ اس
لیے پھر بولے: دکان دار نے کچھ بڑ بڑاتے ہوئے تینوں چیزیں ایک ایک سیر تولیں اور شیخ
چلی کے حوالے کیں۔ شیخ چلی پیسے ادا کر کے آگے بڑھ گئے ۔ کچھ دور گئے تھے کہ ایک موڑ
مڑتے ہی دوسری طرف سے آتے انگریز سے ٹکرا گئے ۔ اُس کے ہاتھ میں کچھ سامان تھا جو زمین
پر گر گیا۔ او احمق انسان انگریز نے سے چلایا۔ “ تجھے نظر نہیں آتا۔ کیا میں تیرے اس
منحوس چہرے پر ایک مکا رسید کروں کہ تجھے سب صاف صاف دکھائی دینے لگے.. شیخ چلی مارے
خوشی کے پھول گئے کہ ایک انگریز ان سے انگریزی میں بات کر رہا ہے ۔ اسے بھی معلوم ہو
گیا ہے کہ مجھے انگریزی آتی ہے۔ انہوں نے سوچا اور کچھ اور اکڑ گئے زور سے بولے لیں
! لیس ! .. انگریز نے حیرت آمیز لہجے میں کہا۔ تو یہ لو۔ اور ایک زور دارم کا شتی چلی
کے منہ پرسید کیا۔ شیخ چلی لڑکھڑاتے ہوئے سڑک کے کنارے بہتے گندے نالے میں جا کرے۔
سبزی کا تھیلا ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ سبزیاں بکھر گئیں جن سے ایک آوارہ گائے دعوت اڑانے
گی۔ شیخ چلی نالے میں پڑے آنکھیں پٹ پکا رہے تھے۔ انگریز بکا ٹھکتا چلا گیا۔ شیخ چلی
کیچڑ میں تھڑے، خالی ہاتھ گھر پہنچے۔ اماں چھیں: ارے یہ کیا حالت بنا کرآ گیا کم بخت
سودا کہاں ہے؟ رو اماں ہماری حالت نہ دیکھ شیخ چلی اکڑ کر بولے آج ہم نے وہ فرفر انگریزی
بولی ہے کہ گورا صاحب بھی کیا گیا۔ لگا ہاتھ پائی کرنے ۔ ہم نے جانے دیا کہ کون جاہلوں
کے منہ لگے ۔ اماں خوش ہو جاؤ تمہارا بیٹا انگریز باب بن گیا ہے انگریز بابو ... ارے
بھاڑ میں گیا تو اور چولہے میں گیا انگریز با و ماں غصے سے بولیں ۔ سودا
غارت کر آیا اب انگریزی کھا
کے پیٹ بھر لینا۔ میں اب کچھ نہیں پکانے والی ۔ اگلے روز بھی چلی اُسی باورچی کےاس
پنچا اور اپنا کارنامہ نایا باورچی نے انہیں ایک اور لفظ No (نہیں سکھا دیا۔ ایک دن
شیخ چلی کہیں جارہے تھے کہ اسی انگریز سے سامنا ہو گیا۔ ں نے کچھ دنوں پہلے اُن کی
درگت بنائی تھی ۔ انگریز ان کے قریب پہنچ کر بولا: خوب ... تم وہی احمق ہونا جس نے
ایک روز میرے ہاتھ سے مار کھائی تھی ۔ وہ مگا تو میں سیدھانا لے میں پہنچا دیا تھا۔
کیوں یاد ہے ناں ؟ تمہیں یاد ہوگا جس نے تمہیں سے انگریز ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے
مضحکہ اُڑانے والے انداز میں کہہ رہا تھا۔ شیخ چلی اُس کی بات تو خاک نہ سمجھے مسکراتے
ہوئے بولے کو و انگریز نے غصے سے دہرایا۔ اس کا مطلب ہے تمہیں وہ لگا یاد دلانا پڑے
گا۔ اتنا کہ کر ایک زور دار مکا شیخ چلی کے جڑ دیا۔ وہ لڑکھڑا کر دور سڑک پر جا کرے۔
سر چکرا گیا۔ آنکھوں کے سامنے پینگے سے اڑنے لگے۔ مگر وہ برداشت کر گئے۔ مسکراتے ہوئے
اُٹھے اور ڈگ گا تے قدموں سے چل دیے۔ انہیں خوشی تھی کہ وہ انگریزی میں ماہر ہوتے جارہے
ہیں۔ اگلے روز وہ پھر باورچی کے پاس پہنچ گئے۔ اُس نے انہیں ایک اور لفظ )
Excellent بہت عمدہ بہت خوب سکھا دیا۔ باور چی کے پاس سے اُٹھ کر گھر جارہے تھے، راستے
میں کسی کی آواز پر ان کے بڑھتے قدم رک گئے ۔ یہ ایک دس گیارہ برس کا لڑکا تھا۔ اس
نے قریب آکر کہا کہ سامنے والے ہوٹل میں ایک انگریز بیٹھا ہے جس نے انہیں وہاں بلوایا؟
یخ چلی ہوٹل پہنے، سامنے وہی انگریز بیٹھا تھا جو و مرتبہ اُن کی خاطر تواضع کر چکا
تھا۔ بہت غم زدہ نظر آرہا تھا۔ شیخ چلی کےقریب پہنچے پر اٹھ کھڑا ہو اور نہیں گلے سے
لگاتے ہوئے ولا: او میرے بھائی میں نے تمہارے ساتھ بڑا ظلم کیا۔ تم کو مارا۔ اللہ کو
یہ بات پسند نہیں
آئی۔ اُس نے مجھے اس کی بہت بڑی سزادے دی۔ بہت بڑی جسے برداشت کرنے کا حوصلہ میں خود میں نہیں پاتا۔ وہ قدرے کا اور پھر بولا تم جانا نہیں چا ہو گے کہ اللہ نے مجھے کئی بڑی سزادی ہے ... تو سنو کل شب اُس نے مجھ سے میرا کوتا بیٹا پھین لیا ہے۔” شیخ چلی کی سمجھ میں تو اُس کی بات نہیں آئی مگر کچھ ہی دیر پہلے سکھے نئے لفظ کے استعمال کا سنہری موقع ہاتھ آ گیا تھا اُسے ضائع کیسے جانے دیتے ۔ مسکرا کر بولے: ایک سیلنٹ ایکسیلوٹے انگریز نے جو آنکھوں میں بھر آنے والے آنسور و مال سے پونچھ رہا تھا چوک کر شیخ چلی کو دیکھا۔ وہ اب بھی مسکرا رہے تھے۔ دوبارہ بولے : انگریز کا چہراغھنے سے سرخ ہو گیا گندے آدمی ! وہ چلایا میر کلوتا بیٹا مر گیا اور تو کہتا ہے، ایکسیلوٹ ایکسیلٹ میں نے بالکل ٹھیک کیا تھا جو تجھے مارا۔ تیرے جیسے لوگ اسی قابل ہوتے ہیں. پھر اُس نے شیخ چلی کی گردن دبوچی اور لگا پٹائی کرنے ۔ ہوٹل میں موجود لوگوں نے بڑی مشکل سے چھڑوا پا۔ شیخ چلی کئی روز تک گھر میں چوٹوں کی سنکائی کرواتے رہے۔ انہوں نے تو بہ کر لی کہ اب کبھی انگریزی نہ بولیں گے۔



0 Comments