Pakistan launches first TV channel

 

پاکستان میں ٹیلی ویژن کا سفر: اسکرین کے اس پار ایک شاندار کہانی

یہ 1960 کی دہائی کی بات ہے، جب پاکستان میں بجلی اور سڑکوں کا جال ابھی مکمل نہیں بچھا تھا۔ ریڈیو گھروں کی زینت تھا، اور لوگ خبروں، موسیقی اور ڈراموں کے لیے اس چھوٹے سے ڈبے پر انحصار کرتے تھے۔ اسی دوران، دنیا کے دوسرے کونے میں ایک نیا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا—ٹیلی ویژن۔ ایک ایسی شے جو تصویروں کو ہوا میں سفر کروا کر گھر گھر پہنچاتی تھی۔



پاکستان میں اس جادو کی کرن سب سے پہلے ایک جرمن ماہر، ڈاکٹر تھوماس، کے ذہن میں چمکی۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ پاکستان بھی اس نئے انقلاب کا حصہ بنے۔ لیکن اس وقت ٹی وی کو ایک ایسی پرتعیش چیز سمجھا جاتا تھا جو صرف امیروں کے گھروں میں سجتی تھی۔ حکومت نے اس منصوبے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی، لیکن ایک دلیر پاکستانی صنعتکار سید واجد علی نے اس خواب کو حقیقت بنانے کا تہیہ کر لیا۔

سید واجد علی نے جاپانی کمپنی نیپون الیکٹرک کمپنی (NEC) کے ساتھ مل کر ایک نجی ٹی وی چینل قائم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ یوں، 1964 میں ایک نجی منصوبے کے طور پر پاکستان میں ٹیلی ویژن کی بنیاد رکھی گئی۔ ایک چھوٹی سی عمارت میں، چند ساز و سامان کے ساتھ، لاہور میں پاکستان کی پہلی تجرباتی نشریات کا آغاز ہوا۔


روشنی کی کرن اور بلیک اینڈ وائٹ کی دنیا

26 نومبر 1964 کی شام، لاہور کی فضا میں ایک نیا جادو بکھر رہا تھا۔ لوگ حیرت سے ایک بڑے سے ڈبے کے سامنے جمع تھے، جس کی اسکرین پر چلتی پھرتی تصویریں دکھائی دے رہی تھیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ تھا۔ اس وقت چند ہی لوگوں کے گھروں میں ٹی وی سیٹ تھے، جو کہ بہت مہنگے اور بیرون ملک سے درآمد شدہ تھے۔ عام عوام تک اس نئی ایجاد کو پہنچانے کے لیے حکومت اور نجی اداروں نے ایک انوکھا قدم اٹھایا۔

لاہور کے ریلوے اسٹیشن، چائے خانوں، اور عوامی پارکوں میں بڑی بڑی اسکرینیں لگائی گئیں۔ لوگ ان جگہوں پر جمع ہوتے، ایک دوسرے سے کندھا ملا کر اس نئے معجزے کو دیکھتے۔ اس دور میں ایک بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سیٹ کی قیمت 2000 سے 3000 روپے تھی، جو کہ ایک عام آدمی کی کئی مہینوں کی تنخواہ کے برابر تھی۔ پھر بھی، جیسے جیسے ٹی وی کی مقبولیت بڑھتی گئی، لاہور کے انارکلی، کراچی کے صدر بازار اور راولپنڈی کے راجہ بازار میں ٹی وی سیٹ کی فروخت بڑھنے لگی۔ بعض دکانوں نے تو "ٹی وی دیکھنے کی سہولت" بھی فراہم کرنا شروع کر دی، جہاں ایک چھوٹی سی فیس کے عوض لوگ دن بھر کی نشریات دیکھ سکتے تھے۔



1965 کی جنگ کے دوران، یہ جادوئی ڈبہ محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ قومی جذبات کو جگانے والا ایک طاقتور ہتھیار بن گیا۔ پہلی بار لوگوں نے اپنے فوجی جوانوں، قومی ترانوں اور محاذ جنگ کی خبروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ لاہور، کراچی، اور راولپنڈی کے ریلوے اسٹیشنوں پر لگی عوامی اسکرینوں کے گرد لوگوں کا ہجوم جمع رہتا تھا، جہاں وہ تازہ ترین خبریں سنتے اور اپنے ہیروز کو دیکھتے تھے۔


پی ٹی وی کا جنم اور رنگین خواب

  1967 میں، حکومت نے اس جادو کو پوری قوم تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ ایک نئے سرکاری ادارے کی بنیاد رکھی گئی—پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (PTV)۔ لاہور کے بعد کراچی، راولپنڈی-اسلام آباد، پشاور، اور کوئٹہ میں بھی ٹی وی اسٹیشن قائم کیے گئے۔ پی ٹی وی اب حکومت کے کنٹرول میں تھا، اور اس نے اپنے پروگراموں میں قومی ثقافت، تعلیم اور تفریح کو فروغ دینا شروع کیا۔

1970 کی دہائی میں، پی ٹی وی نے ملک کے دور دراز علاقوں تک بھی اپنی پہنچ بنائی۔ ریلوے اسٹیشنوں، یونیورسٹیوں اور بڑے بازاروں میں عوامی ٹی وی اسکرینیں نصب کی گئیں، تاکہ ہر کوئی ٹی وی کے اس نئے دور کا حصہ بن سکے۔

1974 میں ایک اور انقلاب آیا۔ پہلی بار پاکستان میں رنگین نشریات کا تجربہ کیا گیا، اور پھر 1976 میں اسے باقاعدہ طور پر متعارف کرا دیا گیا۔ جو دنیا اب تک بلیک اینڈ وائٹ تھی، وہ اچانک رنگین ہو گئی۔ سبز کھیت، نیلے آسمان اور سرخ پھول—سب کچھ سکرین پر زندہ ہو اٹھا۔ رنگین نشریات کی آمد نے ٹی وی کی مانگ کو آسمان پر پہنچا دیا۔ لوگ اپنی آمدنی کے مطابق قسطوں پر ٹی وی خریدنے لگے اور ہر گھر میں یہ جادوئی ڈبہ داخل ہو گیا۔


چیلنجز اور نئے افق

1980 کی دہائی، جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کا دور، ٹی وی کے لیے ایک مشکل وقت تھا۔ سنسر شپ بڑھ گئی تھی، اور بہت سے موضوعات پر بات کرنا مشکل ہو گیا۔ لیکن اسی دور میں "آنگن ٹیڑھا"، "ففٹی ففٹی"، اور "الف نون" جیسے لازوال پروگراموں نے مزاح کے ذریعے سماجی اور سیاسی مسائل کو بیان کیا۔ ان پروگراموں نے سنسر شپ کی دیوار کو توڑتے ہوئے عوام کو ایک نئی سوچ دی۔

1990 کی دہائی ٹی وی کی دنیا میں ایک نئی صبح لے کر آئی۔ پہلی بار نجی ٹی وی چینلز کی شروعات ہوئی، جن میں شالیمار ٹیلی ویژن نیٹ ورک (STN) اور نیشنل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (NTM) شامل تھے۔ یہ چینلز پی ٹی وی کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے لگے، اور ان کے ذریعے تفریح کے نئے دروازے کھل گئے۔


ڈیجیٹل انقلاب اور مستقبل کا سفر

2000 کی دہائی ٹی وی کی تاریخ کا سب سے بڑا موڑ تھی۔ نجی چینلز کا ایک سیلاب آگیا۔ جیو، اے آر وائی، ایکسپریس، اور دنیا جیسے نیوز اور انٹرٹینمنٹ چینلز نے پاکستانی میڈیا کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ اب ایک چینل کے بجائے کئی چینلز تھے، اور ان میں مقابلہ بڑھ گیا۔ یہ دور ٹی وی انڈسٹری کی ترقی کا سنہری دور تھا۔

تاہم، 2010 کے بعد ایک نیا چیلنج سامنے آیا—سوشل میڈیا اور یوٹیوب۔ انٹرنیٹ کی آمد نے ٹی وی کو صرف ایک اسکرین تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے ہر شخص کی جیب میں پہنچا دیا۔ اب لوگ اپنے موبائل فون پر لائیو خبریں دیکھ سکتے تھے، اپنے پسندیدہ ڈرامے اور پروگرام کسی بھی وقت دیکھ سکتے تھے۔ روایتی ٹی وی کو اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے سخت مقابلہ تھا۔

آج کا ٹی وی ماضی کے بلیک اینڈ وائٹ ڈبے سے بہت آگے نکل آیا ہے۔ یہ اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ، اور ٹیبلٹ کی شکل میں ہر جگہ موجود ہے۔ مصنوعی ذہانت، ورچوئل رئیلٹی اور انٹرایکٹو میڈیا جیسی جدید ٹیکنالوجیز نے ٹی وی کے مستقبل کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ پاکستان میں ٹیلی ویژن کا سفر ایک ایسا سفر ہے جو ماضی، حال اور مستقبل کی کہانی سناتا ہے، اور یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ یہ ایک نئے اور شاندار دور میں داخل ہو رہی ہے۔

Post a Comment

0 Comments