ماسکو کی آگ اور نپولین کی شکست
سن 1812 کا سال تھا۔ فرانسیسی شہنشاہ نپولین بوناپارٹ اپنی طاقت کے عروج پر تھا۔ وہ پورے یورپ کو فتح کر چکا تھا، اور صرف برطانیہ ایک ایسا ملک تھا جو اس کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں تھا۔ نپولین جانتا تھا کہ برطانیہ کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے ایک مضبوط اتحاد کی ضرورت ہے۔ اس نے اپنے حلیفوں کو حکم دیا کہ وہ برطانیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی تجارت بند کر دیں۔ اس پالیسی کو 'کانٹینینٹل سسٹم' (Continental System) کہا جاتا تھا۔
روس کے زار الیگزینڈر اول نے اس پالیسی کو نظرانداز کرتے ہوئے برطانوی تاجروں کے ساتھ تجارت جاری رکھی۔ نپولین کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا تھا۔ اس نے یہ سوچا کہ اگر وہ روس پر حملہ کرے اور زار کو دباؤ میں لے آئے، تو وہ برطانیہ کے ساتھ تجارت بند کر دے گا اور پھر برطانیہ کو بھی اس کے سامنے جھکنا پڑے گا۔ اس مقصد کے لیے، نپولین نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فوج تیار کی، جسے گرانڈے آرمی (Grande Armée) کہا جاتا تھا۔ یہ فوج تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار فوجیوں پر مشتمل تھی، جس میں فرانسیسی فوجیوں کے علاوہ اس کے اتحادی ممالک کے فوجی بھی شامل تھے۔
جون 1812 میں، نپولین نے اپنی اس عظیم فوج کے ساتھ روس کی سرحد عبور کی۔ اس کا منصوبہ تھا کہ وہ روسی فوج کو ایک بڑی جنگ میں شکست دے کر جلد ہی ماسکو پر قبضہ کر لے گا۔ مگر روسیوں کی حکمت عملی نپولین کے اندازوں سے بالکل مختلف تھی۔ انہوں نے ایک نئی حکمت عملی اپنائی، جسے جلتی ہوئی زمین کی حکمت عملی (Scorched Earth Tactic) کہا جاتا ہے۔ جیسے جیسے نپولین کی فوج آگے بڑھتی، روسی فوج پیچھے ہٹتی جاتی اور اپنے پیچھے ہر چیز جلا دیتی۔ کھیت کھلیان، فصلیں، گاؤں، اور حتیٰ کہ خوراک کے ذخائر بھی۔ اس کا مقصد فرانسیسی فوج کو خوراک اور پانی سے محروم کرنا تھا۔
ستمبر کا مہینہ آ گیا تھا۔ نپولین کی فوج بھوک اور تھکاوٹ سے نڈھال تھی۔ آخرکار، 7 ستمبر کو بوروڈینو کے مقام پر دونوں فوجوں کا آمنا سامنا ہوا۔ یہ جنگ تاریخ کی سب سے خونریز جنگوں میں سے ایک تھی۔ دونوں طرف سے ہزاروں فوجی مارے گئے۔ اگرچہ فرانسیسیوں نے میدان جنگ میں فتح حاصل کی، لیکن یہ فتح اتنی بڑی تھی کہ اس نے نپولین کی فوج کی کمر توڑ دی۔
ماسکو کی آگ
بوروڈینو کی جنگ کے بعد، روسی فوج پیچھے ہٹ کر ماسکو کی طرف چلی گئی۔ 14 ستمبر 1812 کو، نپولین کی فوج ماسکو کے دروازے پر پہنچی۔ وہ توقع کر رہا تھا کہ روسی شہر کے دفاع کے لیے تیار ہوں گے یا ہتھیار ڈال دیں گے، لیکن شہر بالکل خاموش اور ویران تھا۔ زیادہ تر لوگ شہر چھوڑ چکے تھے۔ جیسے ہی نپولین کی فوج شہر میں داخل ہوئی، اس کا استقبال کسی جنگ سے نہیں، بلکہ آگ کے خوفناک شعلوں سے ہوا۔
ماسکو کے گورنر جنرل، فیوڈور روستوپچن نے شہر میں آگ لگانے کا حکم دے دیا تھا۔ یہ ایک دلیرانہ فیصلہ تھا جو اس بات کا اظہار تھا کہ روسی اپنے سب سے مقدس شہر کو بھی دشمن کے ہاتھوں میں جانے نہیں دیں گے۔ ماسکو کی زیادہ تر عمارتیں لکڑی سے بنی ہوئی تھیں، اس لیے آگ تیزی سے پھیل گئی۔ چاروں طرف سے دھوئیں کے بادل اور آگ کے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ آگ اتنی خوفناک تھی کہ 133 میل دور سے بھی اس کے شعلے دیکھے جا سکتے تھے۔
نپولین کو یہ منظر دیکھ کر بہت حیرت اور غصہ ہوا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا، "کتنا خوفناک نظارہ ہے! اور یہ انہوں نے خود کیا! اتنے محلات! کیا ایک ناقابل یقین حل! کس قسم کے لوگ ہیں!" یہ ایک ایسا لمحہ تھا جب نپولین کو روسیوں کی نفسیات کا اندازہ ہوا۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ لوگ ہتھیار ڈالنے کے بجائے اپنے سب کچھ تباہ کرنے کو ترجیح دیں گے۔
آگ نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اندازے کے مطابق، ماسکو کی 3/4 عمارتیں جل کر راکھ ہو گئیں۔ ہزاروں لوگ آگ کی لپیٹ میں آ کر جان سے گئے۔ یہ آگ 18 ستمبر کو بجھ سکی، لیکن اس وقت تک شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا تھا۔
نپولین کی فوج نے ماسکو پر ایک مہینہ تک قبضہ کیے رکھا، اس امید پر کہ زار الیگزینڈر اول امن کی پیشکش کریں گے۔ لیکن ایسی کوئی پیشکش نہیں آئی۔ روسیوں نے ایک طویل انتظار کی حکمت عملی اپنائی۔
سردی اور پسپائی کا آغاز
اکتوبر کا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔ ماسکو میں ایک ماہ قیام کے بعد بھی جب زار کی طرف سے امن کی کوئی پیشکش نہ آئی تو نپولین کے لیے صورتحال تیزی سے خراب ہونے لگی۔ روسیوں نے شہر کو جلا کر فرانسیسیوں کو خوراک اور پناہ گاہ سے محروم کر دیا تھا۔ سرد روسی سردی تیزی سے قریب آ رہی تھی، جو نپولین کی فوج کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھی۔
نپولین کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ یا تو وہ مزید انتظار کرے اور سردی میں محصور ہو کر مرے، یا پھر پسپائی اختیار کرے۔ اس نے پسپائی کا فیصلہ کیا۔ 19 اکتوبر 1812 کو، نپولین نے ماسکو کو چھوڑ دیا اور اپنی فوج کے ساتھ واپسی کا سفر شروع کیا۔
یہ واپسی کا سفر ایک طویل اور خوفناک پسپائی میں بدل گیا۔ روسی چھاپہ ماروں نے پیچھے ہٹنے والی فرانسیسی فوج پر مسلسل حملے کیے۔ یہ حملے خاص طور پر ان فوجیوں پر ہوتے تھے جو زخمی، بیمار یا پیچھے رہ جاتے تھے۔ روسیوں کی حکمت عملی یہ تھی کہ وہ نپولین کی فوج کو مسلسل کمزور کرتے رہیں، بغیر کسی بڑی جنگ کے۔
نومبر کے مہینے میں، روس میں شدید برف باری اور سخت سردی پڑنا شروع ہو گئی۔ درجہ حرارت منفی 30 ڈگری سیلسیس تک گر گیا۔ فوجیوں کے لیے یہ ایک نیا عذاب تھا۔ وہ بھوک، سردی اور تھکاوٹ سے بے حال ہو چکے تھے۔ ہزاروں فوجی سردی کی وجہ سے جم کر مر گئے۔ ہزاروں گھوڑے بھی ٹھنڈ اور خوراک کی کمی کی وجہ سے مر گئے۔
نپولین کی عظیم الشان فوج، جو 6 لاکھ 50 ہزار فوجیوں پر مشتمل تھی، روس سے صرف 40 ہزار فوجیوں کے ساتھ واپس آئی۔ ان میں سے زیادہ تر فوجی بھی زخمی اور بیمار تھے۔ یہ نپولین کی فوجی زندگی کی سب سے بڑی اور بدترین شکست تھی۔ اس شکست نے نپولین کی ساکھ کو بہت بڑا نقصان پہنچایا اور اس کی سلطنت کے خاتمے کی بنیاد رکھ دی۔
ماسکو کی آگ روسیوں کی طرف سے ایک دلیرانہ اور فیصلہ کن قدم تھا۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنی آزادی کے لیے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ یہ واقعہ آج بھی اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ بعض اوقات ایک ملک اپنے وقار کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے۔ روسیوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایک شہر کو دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں، لیکن آزادی کی جدوجہد بہت مشکل اور تکلیف دہ ہوتی ہے، اور ایک بار آزادی چھن جائے تو اسے واپس حاصل کرنا ایک طویل سفر ہوتا ہے۔

0 Comments