Saadat Hasan Manto

 

سعادت حسن منٹو: ایک باپ کا انوکھا لاڈ

لاہور کے ٹھنڈے کمرے میں منٹو اپنی کرسی پر بیٹھے سگریٹ کا دھواں چھت کی طرف اڑا رہے تھے۔ ذہن میں الفاظ کا ایک سمندر موجزن تھا، وہ کوئی نیا افسانہ لکھنے کی تیاری میں تھے۔ اچانک ان کے کانوں میں دروازے پر دستک کی آواز پڑی اور بیوی صفیہ کا بھانجا اندر آیا۔ اس کے چہرے پر ایک اداس مسکراہٹ تھی۔



"خالہ جان نے کہا ہے کہ مبارک باد دیں... بھابھی کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے!" اس نے سر جھکا کر کہا۔

منٹو کے چہرے پر ایک دم سے رونق آ گئی۔ انہوں نے اپنے ہونٹوں سے سگریٹ ہٹا کر ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ "رحمت آئی ہے!" وہ خوشی سے بولے۔ "میری بیٹی! ماشاءاللہ!"

جب وہ ہسپتال پہنچے، تو صفیہ کی والدہ بھی وہیں موجود تھیں۔ ان کے چہرے پر خوشی کی بجائے ایک عجیب سی رنجیدگی تھی۔ جب منٹو قریب آئے، تو انہوں نے ایک سرد آہ بھری اور کہا، "کیا برا تھا اگر پہلا لڑکا ہی ہو جاتا۔ خیر، خدا اب دوسری اولاد بیٹا دے۔"

منوشی کے چہرے پر وہ خوشی جو ابھی چند لمحے پہلے رقص کر رہی تھی، غصے میں بدل گئی۔ "خالہ جان!" انہوں نے سخت لہجے میں کہا، "ایک طرف کہتے ہیں کہ بیٹیاں تو خدا کی رحمت ہیں اور پھر ان کی پیدائش پر رنجیدہ بھی ہو جاتے ہیں؟ یہ کیسی منافقت ہے؟" ان کے الفاظ میں ایک کڑواہٹ تھی۔ ساس نے آنسو پونچھ کر خاموشی اختیار کر لی۔

سال گزرے اور صفیہ پھر سے امید سے ہو گئیں۔ اس بار منٹو کی خواہش تھی کہ ان کی بیٹی کے لیے ایک بہن آئے۔ اور جب وہ لمحہ آیا تو ایک اور خوبصورت بیٹی نے ان کی دنیا کو روشن کر دیا۔

اس بار جب منٹو ہسپتال پہنچے، تو ساس آبدیدہ ہو چکی تھیں۔ ان کے آنسو بے قابو تھے اور زبان سے صرف ایک ہی لفظ نکل رہا تھا: "یہ کیا ہوگیا... ایک کے بعد ایک لڑکی..."

منٹو کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔ انہوں نے قریب جا کر اپنی بیٹی کے نرم ہاتھ کو چوما اور پھر کرخت لہجے میں کہا، "خبردار! اگر میری بیٹی کی پیدائش پر کسی نے رونا دھونا کیا تو۔ مجھے یہ دس بیٹوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔" ساس کے آنسو فوراً تھم گئے اور وہ خوف سے چپ ہو گئیں۔ ان کے سامنے وہ منٹو نہیں تھا جس سے وہ بحث کر سکیں، یہ ایک باپ تھا جو اپنی بیٹیوں کے لیے دنیا سے لڑنے کو تیار تھا۔

منٹو کی زندگی میں ایک اور موڑ آیا جب تیسری مرتبہ ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ اس بار منٹو نے ہسپتال پہنچ کر دیکھا کہ ساس کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔ نہ کوئی خوشی، نہ کوئی غم، بس ایک عجیب سی بے حسی۔ خوف نے ان کی زبان بند کر دی تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ منٹو کا غصہ پہلے سے بھی زیادہ ہو سکتا تھا۔

منٹو نے کچھ دیر تو اس خاموشی کو دیکھا، پھر ان کے ہونٹوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ انہوں نے گہرا سانس لیا اور آہستگی سے کہا، "خالہ جان اس بار بیٹی کی پیدائش پر کچھ نہیں کہیں گی؟"

ساس نے ڈرتے ڈرتے کہا، "اللہ کی دین ہے۔۔۔ جو اللہ دے ہم تو اسی پر راضی ہیں۔"

یہ سن کر منٹو نے ایک گہرا قہقہہ لگایا، ایک ایسا قہقہہ جس میں طنز اور تلخی دونوں شامل تھے۔ "نئیں خالہ جان،" وہ مسکراتے ہوئے بولے، "نئیں اس واری تے واقعی زیادتی ہوئی اے!"

یہ جملہ بظاہر تو مذاق تھا، مگر دراصل اس میں ان کی ساری تلخی اور مایوسی چھپی ہوئی تھی۔ وہ معاشرے کے اس رویے پر طنز کر رہے تھے جو بیٹیوں کو رحمت سمجھنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن دل سے انہیں بوجھ سمجھتا ہے۔ منٹو نے اپنی بیٹیوں کی محبت میں معاشرے کی ہر اس دقیانوسی سوچ کو چیلنج کیا، جس کے خلاف وہ ساری عمر قلم چلاتے رہے۔

Post a Comment

0 Comments