وقت کا سفر: ایک قاتل بیماری کی کہانی جو کبھی تھی، لیکن اب نہیں
کبھی سوچا ہے کہ ہماری تاریخ میں سب سے بڑا فاتح کون رہا ہے؟ شاید سکندرِ اعظم، یا چنگیز خان، یا پھر کوئی اور بڑا بادشاہ؟ لیکن حقیقت میں، انسان کا سب سے بڑا دشمن، اور سب سے بڑا فاتح، ایک ننھا سا وائرس تھا جسے ہم اسمال پاکس یا چیچک کہتے ہیں۔ اس نے خاموشی سے، کسی ہتھیار یا فوج کے بغیر، کروڑوں جانیں لیں۔ اس کی کہانی صرف ایک بیماری کی نہیں، بلکہ انسانیت کی جدوجہد، خوف اور بالآخر، ایک شاندار فتح کی کہانی ہے۔
یہ کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب انسان نے زراعت سیکھی۔ آج سے تقریباً 12,000 سال پہلے، جب لوگ ایک جگہ رہنے لگے، تو اس وائرس کو پھیلنے کا موقع مل گیا۔ یہ ایک ایسا مہمان تھا جو صدیوں تک دنیا کے ہر کونے میں اپنا استقبال کرواتا رہا۔ اس کے دہشت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ فرعونوں کی قبروں میں بھی اس کے نشان ملے ہیں۔ جب 19ویں صدی کے مشہور فرعون رامسیس پنجم کی ممی دریافت ہوئی، تو اس کے چہرے پر اس خوفناک بیماری کے نشانات واضح تھے۔
چیچک ایک بے رحم اور ظالم حملہ آور تھا۔ اس کی علامات میں تیز بخار، شدید سر درد اور جسم میں بے انتہا درد شامل تھا۔ اس کے بعد جلد پر چھوٹے چھوٹے لال دانے نمودار ہوتے تھے جو آہستہ آہستہ بڑھ کر پیپ بھرے چھالوں کی شکل اختیار کر لیتے تھے۔ یہ چھالے نہ صرف تکلیف دہ تھے، بلکہ جب یہ خشک ہو کر جھڑتے تھے، تو یہ اپنے پیچھے خوفناک گڑھے چھوڑ جاتے تھے۔ وہ لوگ جو اس بیماری سے بچ جاتے تھے، ان کے چہرے اس قدر بگڑ جاتے تھے کہ وہ اپنی پہچان کھو دیتے تھے۔ اس بیماری نے امیر و غریب، بادشاہ و فقیر میں کوئی فرق نہیں کیا۔ تاریخ کے بڑے بڑے نام بھی اس کے سامنے بے بس تھے۔ ملکہ الزبتھ اوّل بھی اس بیماری کا شکار ہوئیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر ابراہام لنکن بھی اپنی صدارت کے دوران اس کا شکار ہوئے۔
اس بیماری کی موت کی شرح اتنی زیادہ تھی کہ آج اس کا تصور بھی مشکل ہے۔ اس بیماری میں مبتلا ہر دس میں سے تقریباً تین افراد کی موت واقع ہو جاتی تھی۔ اس بیماری کی وجہ سے صرف بیسویں صدی میں ہی تقریباً 300 ملین (30 کروڑ) افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے پھیلنے کی رفتار اتنی تیز تھی کہ لوگ اس کے نام سے ہی کانپ جاتے تھے۔ ہر گھر میں ایک نہ ایک کہانی تھی، کسی کی بچی کا چہرہ بگڑ گیا، کسی کی جان چلی گئی، اور یہ سلسلہ کئی صدیوں تک جاری رہا۔ لیکن پھر انسان نے فیصلہ کیا کہ اب بس۔ 20ویں صدی کے وسط میں، دنیا کی ایک بڑی طاقت، عالمی ادارہ صحت (WHO)، نے اس بیماری کے خلاف ایک منظم جنگ کا اعلان کیا۔ یہ جنگ کسی ہتھیار سے نہیں لڑی گئی، بلکہ ایک چھوٹی سی سوئ سے لڑی گئی، جس میں ویکسین تھی۔ اس جنگ میں ہر ملک نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اور گھر گھر جا کر لوگوں کو ویکسین لگائی گئی۔ ویکسین کا مقصد انسان کو اس بیماری سے محفوظ کرنا تھا۔ جیسے جیسے یہ مہم آگے بڑھی، چیچک کے کیسز کم ہوتے گئے اور ایک طویل، تھکا دینے والی اور کامیاب جدوجہد کے بعد، آخرکار وہ دن آیا جس کا ہر کوئی انتظار کر رہا تھا۔
26 اکتوبر، 1977 کو، صومالیہ میں ایک 23 سالہ ہسپتال کے باورچی، علی معو ماالن میں آخری قدرتی چیچک کا کیس درج کیا گیا۔ دنیا نے سکھ کا سانس لیا، یہ جانتے ہوئے کہ اب اس بیماری کا قدرتی پھیلاؤ ختم ہو چکا ہے۔ علی معو بھی مکمل طور پر صحت یاب ہو گئے تھے۔ لیکن افسوس، یہ کہانی کا آخری باب نہیں تھا۔ اگست 1978 میں، برطانیہ کے شہر برمنگھم میں، ایک میڈیکل فوٹوگرافر جینیٹ پارکر ایک لیبارٹری حادثے کا شکار ہو گئیں۔ وہ ایک ایسی لیب کے اوپر رہتی تھیں جہاں چیچک کے وائرس پر تحقیق ہو رہی تھی۔ وائرس ہوا کے ذریعے ان تک پہنچ گیا، اور وہ اس بیماری سے مرنے والی آخری انسان بن گئیں۔ ان کی موت کے بعد، دنیا نے فیصلہ کیا کہ اب اس وائرس کو دنیا سے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ اور پھر، 8 مئی، 1980 کو، عالمی ادارہ صحت نے باقاعدہ طور پر چیچک کو دنیا سے ختم شدہ قرار دیا۔
یہ انسان کی تاریخ میں ایک منفرد فتح تھی۔ یہ پہلی بار تھا کہ انسان نے اپنے ہاتھوں سے، اپنی ذہانت سے، ایک ایسی بیماری کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جس نے ہزاروں سال تک اسے ڈرایا اور خوفزدہ کیا۔ آج جب ہم ایک محفوظ دنیا میں جی رہے ہیں، تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کی سائنس اور اجتماعی کوشش نے ہی اس بڑے دشمن کو شکست دی۔ چیچک اب صرف تاریخ کی کتابوں میں زندہ ہے۔




0 Comments