The 100-Year Mystery of Lincoln's Assassin, John Wilkes Booth's, Alleged Survival

 

قاتل کا بھوت: لنکن کے قاتل، جان ولکس بوتھ کی پراسرار بقا کا 100 سالہ معمہ

ابراہم لنکن کا قتل امریکی تاریخ کا وہ سیاہ لمحہ ہے جسے ہر کوئی جانتا ہے، لیکن قاتل جان ولکس بوتھ کا انجام کیا ہوا؟ سرکاری بیانات کے مطابق، اسے فرار کے بعد مار دیا گیا تھا، مگر ایک پراسرار کہانی ہے جو اس سرکاری بیان پر ہمیشہ کے لیے ایک سوالیہ نشان لگا گئی۔ یہ قصہ ہے شناخت کے فریب، ایک بھٹکتی ہوئی ممی، اور امریکی تاریخ کے سب سے بڑے معمے کا۔

یہ کہانی ایک قاتل کی موت سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ اس کی پراسرار بقا کے دعوے سے شروع ہوتی ہے۔



پردے کے پیچھے کا آدمی: جان اسٹ۔ ہیلن کا انکشاف (1870)

لنکن کے قتل کے صرف پانچ سال بعد، یعنی 1870 میں، ٹیکساس کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک پرسکون نوجوان جان اسٹ۔ ہیلن (John St. Helen) کے نام سے نمودار ہوا۔ وہ ایک مقامی شراب خانے میں بارٹینڈر تھا اور کبھی کبھار تھیٹر میں اداکاری بھی کرتا تھا۔ اس کا انداز عام اور پرسکون تھا، مگر اس کی سادگی کے پیچھے ایک بھیانک راز چھپا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ جب وہ مقامی لوگوں میں گھل مل گیا، تو اس نے ایک مقامی وکیل کو اعتماد میں لے کر وہ راز بتایا جو سننے والے کو ہلا کر رکھ دیتا تھا:

"میں ہی جان ولکس بوتھ ہوں—لنکن کا اصلی قاتل۔"

اسٹ۔ ہیلن کا دعویٰ تھا کہ سرکاری بیان کے برخلاف وہ نہیں مارا گیا تھا، بلکہ فوج نے کسی اور شخص کو اس کا شکار بنایا اور وہ فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ یہ انکشاف کسی تھرلر فلم کے پلاٹ سے کم نہیں تھا۔ اس دعوے کے کچھ ہی عرصے بعد، اسٹ۔ ہیلن پراسرار طور پر غائب ہوگیا، اور اس کی کہانی ایک افواہ بن کر رہ گئی۔


ممی کا دوبارہ منظرِ عام پر آنا: ڈیوڈ جارج کی خودکشی (1903)

یہ پراسرار قصہ 1903 میں اوکلاہوما کے شہر اینڈ (Enid) میں دوبارہ ابھرا۔ ایک پینٹر، ڈیوڈ جارج (David George)، نے خودکشی کر لی۔

مقامی تحقیقات میں جلد ہی یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ یہ ڈیوڈ جارج دراصل 1870 میں غائب ہونے والا وہی جان اسٹ۔ ہیلن تھا۔ موت سے پہلے، اس نے بھی ایک مقامی بیوہ کو یہی بتایا تھا کہ وہ جان ولکس بوتھ ہے۔

قاتل کی لاش بن گئی تماشہ

ڈیوڈ جارج کی لاش ایک غیر معمولی طریقے سے محفوظ ہو گئی اور تقریباً ممی کی شکل اختیار کر گئی۔ مقامی انڈرٹیکر نے اس لاش کو ایک تاریخی کردار کی حیثیت سے اپنی دکان کی کھڑکی میں رکھ دیا۔

عوام جوق در جوق اس لاش کو دیکھنے آتے اور یہ بحث کرتے کہ آیا یہ واقعی لنکن کا قاتل تھا جو انصاف سے بچ نکلا تھا۔ کچھ عرصے بعد، وہی پرانا ٹیکساس کا وکیل نمودار ہوا، لاش کو اپنے قبضے میں لیا، اور اسے ایک سرکس کو بیچ دیا۔


سرکس کی ممی اور اس کا پراسرار انجام

ڈیوڈ جارج کی ممی ایک تاریخی کردار سے بدل کر ایک بھیانک اور خوفناک نمائش بن گئی جو سرکس سے سرکس گھومتی رہی۔ یہ امریکی خانہ جنگی کے بعد کے دور کی سنسنی خیزی اور فریب کی علامت تھی۔

پراسرار ایکسرے اور گمشدگی

1931 میں، اس ممی کا ایکسرے کیا گیا۔ کچھ لوگوں نے اس ایکس رے میں ایسی جسمانی علامات کی نشاندہی کی جو جان ولکس بوتھ کے مشہور زخموں سے ملتی جلتی تھیں، اور یوں ان کے دعوے کو مزید تقویت ملی کہ لنکن کا قاتل واقعی زندہ بچ گیا تھا۔

لیکن کہانی کا اختتام اس کی پیدائش کی طرح پراسرار ہے۔ سرکس میں ایک تماشہ بننے کے کئی دہائیوں بعد، 1970 کی دہائی میں، یہ ممی اچانک غائب ہوگئی۔ آج تک اس ممی کا ٹھکانہ نامعلوم ہے۔

تاریخ کا دائمی افسانہ

جان ولکس بوتھ، جان اسٹ۔ ہیلن، اور ڈیوڈ جارج—تین نام ایک ہی شخص کے ہوسکتے ہیں، ایک ایسا شخص جس نے امریکی صدر کا قتل کیا اور پھر تاریخ کے چہرے پر پراسرار بقا کا ایک طویل سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔

یہ قصہ امریکی خانہ جنگی کے بعد کے افراتفری، عدم اعتماد، اور سنسنی خیزی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بعض اوقات سچائی اور افسانہ اتنی بری طرح آپس میں گھل مل جاتے ہیں کہ ان کو الگ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ کیا لنکن کا قاتل واقعی فرار ہوگیا؟ یہ معمہ آج بھی امریکی تاریخ کے سب سے سنسنی خیز ابواب میں سے ایک ہے۔

Post a Comment

0 Comments