Who is responsible for the decline of America?

امریکی زوال کا ذمہ دار کون؟ یہودی لابی اور امریکی عوام کا المیہ

امریکی زوال کی بحث آج عالمی سطح پر ہو رہی ہے، لیکن اس کی جڑوں کو سمجھے بغیر کوئی حل ممکن نہیں۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کے "لوزرز" یعنی سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے امریکی عوام ہیں، جبکہ "وینرز" یعنی فاتحین ایک مخصوص، مضبوط لابی ہے۔ یہ ایک خطرناک سچ ہے جسے اب امریکی دانشور اور انڈیپنڈنٹ میڈیا بھی کھل کر تسلیم کرنے لگے ہیں۔

جس طرح پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں جرمنی کے محنتی عوام کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا تھا، آج بالکل اسی طرح، امریکی عوام ایک ایسے بحران کی لپیٹ میں ہیں جس کا سب سے زیادہ بوجھ ان پر پڑ رہا ہے۔



صیہونی اسٹیبلشمنٹ کا مالیاتی کنٹرول: امریکہ کا کھوکھلا پن

سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد کی دہائیوں میں، ایک مخصوص لابی نے مالیاتی نظام پر اپنا کنٹرول مضبوط کیا۔ آپ کے فراہم کردہ مواد کے مطابق، اس عرصے میں اس لابی نے فنانشل سسٹم سے بڑی مقدار میں دولت سمیٹ کر خود کو اس قدر مستحکم کر لیا ہے کہ آج امریکہ مالی طور پر کھوکھلا ہو چکا ہے۔ امریکہ اس وقت $37 ٹریلین ڈالر کے قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔

ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگر آج صیہونی اسٹیبلشمنٹ امریکہ سے نکل جائے تو امریکہ خالی ہاتھ رہ جائے گا۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے جو یہ واضح کرتی ہے کہ ملک کا اقتصادی دار و مدار صرف مقامی معاشی طاقتوں کے ہاتھ میں نہیں رہا۔


اختیار کا مرکز: ٹرمپ سے لے کر ٹیکنالوجی بلینئرز تک

امریکی عوام اور انڈیپنڈنٹ میڈیا اب اس بات پر متفق ہیں کہ ان کے ساتھ ایک بڑا دھوکہ ہوا ہے، اور یہ دھوکہ صیہونی اسٹیبلشمنٹ نے دیا ہے۔ ملک میں حقیقی تبدیلی لانے کے خواہاں رہنما، جیسے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، بھی بے اختیار نظر آتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک کا اصل کنٹرول اسی طاقتور لابی کے ہاتھ میں ہے۔

یہی کنٹرول صرف سیاسی اور مالیاتی اداروں تک محدود نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے نام، بشمول ایلون مسک، مارک زکربرگ، اور جیف بیزوس—یہ سب اسی طاقتور "کلب" کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اثر و رسوخ صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے۔ عرب دنیا کے بڑے شاہی خاندان، جن میں قطری، اماراتی اور اردنی شاہی خاندان شامل ہیں، بھی اسی لابی کے اثر میں ہیں یا ان کے ساتھ ایک طرح کے مفاہمت کا حصہ ہیں۔ یہ بات اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر "اوپر کی سطح" پر طاقت کا توازن ان کے حق میں ہے۔ کوئی بھی، چاہ کر بھی، ان کے خلاف کھڑے ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔


امریکی عوام کا جال اور مستقبل کا راستہ

امریکی عوام ایک ایسے جال میں پھنس چکے ہیں جہاں نتیجہ کچھ بھی ہو، وہ ہارتے ہیں۔ امریکہ عالمی سطح پر جیتے یا ہارے، اس کا نقصان امریکی عوام کو ہی اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ صیہونی مفادات ہر صورت میں محفوظ رہتے ہیں اور وہ جیت جاتے ہیں۔

تاہم، ایک مثبت پیش رفت یہ ہے کہ آج امریکی دانشور پہلی بار کھل کر اس لابی پر سوال اٹھا رہے ہیں اور اس مخالفت کی شدت پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ یہ بیداری کی ایک علامت ہے اور یہ امریکی عوام کے لیے امید کی کرن ہے۔

امریکی عوام ایک محنتی اور صلاحیت رکھنے والی قوم ہیں۔ اگر انہیں اس شکنجے سے نکلنے کا موقع ملے اور ایک آزاد، نئی قیادت ابھرے، تو امریکہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے انہیں دو بڑے اور انقلابی اقدامات اٹھانے ہوں گے:

  1. یہودی لابی کو اپنے ملک سے نکالیں: یہ سب سے مشکل اور ضروری قدم ہے۔ جب تک یہ طاقت ملک کے فیصلوں پر حاوی رہے گی، حقیقی خودمختاری حاصل نہیں ہو سکتی۔

  2. چین اور باقی دنیا کے ساتھ تعاون کریں: دشمنی کی پالیسی کو ترک کر کے عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دینا ہو گا۔ یہ امریکہ کو عالمی سیاست میں ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کا موقع دے گا۔


عالمی نظام کی جڑ سے تبدیلی

مسئلہ صرف امریکہ کا نہیں، بلکہ عالمی ہے۔ جب تک مالیاتی نظام اور بینکنگ کنٹرول اسی لابی کے ہاتھ میں ہے، تب تک پوری دنیا اسی شکنجے میں رہے گی۔ اس تباہی سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ نظام کو جڑ سے بدلا جائے۔

عالمی سطح پر مالی اور قانونی نظام میں بنیادی تبدیلی لانا ہو گی۔ ہمیں ایک ملٹی پولر دنیا کی خواہش رکھنی چاہیے جہاں طاقت کا توازن صرف ایک مرکز تک محدود نہ ہو اور جہاں امریکہ بھی ایک مثبت کردار کے ساتھ موجود ہو۔ نظام کی تبدیلی ہی امریکی عوام اور پوری دنیا کو اس مالیاتی غلامی سے نجات دلا سکتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments