The American Navy's Failed Masterpiece

 

امریکی نیوی کا ناکام شاہکار: زموالٹ کلاس ڈسٹرائر کی کہانی

امریکی نیوی کو بجا طور پر دنیا کی سب سے طاقتور بحری فوج سمجھا جاتا ہے، حالانکہ جہازوں کی تعداد کے لحاظ سے چینی نیوی آگے نکل چکی ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی اور حربی صلاحیت میں امریکی نیوی کا کوئی ثانی نہیں۔ آج ہم امریکی نیوی کے ایک ایسے منفرد لیکن بدقسمت وارشپ کی کہانی پر بات کریں گے جس کو بنانے کا منصوبہ تو بہت بڑا تھا مگر یہ منصوبہ مسائل کی نذر ہو گیا—اسے زموالٹ کلاس ڈسٹرائر (Zumwalt Class Destroyer) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

تفصیلقدر/معلومات
کل بنائے گئے شپس3 (DDG 1000، 1001، 1002)
مقصد شدہ تعداد32 شپس
ڈسپلیسمنٹتقریباً 15,000 سے 16,000 ٹن
قیمت (فی شپ)8 سے 10 ارب ڈالر (2025 کے حساب سے)



وقت سے آگے کا ڈیزائن: سٹیلتھ اور ٹیکنالوجی

زموالٹ کلاس ڈسٹرائر کو سن 1990 کی دہائی میں بنانا شروع کیا گیا تھا، اور اسے امریکی نیوی کے سابق ایڈمرل Elmo R. Zumwalt Jr. کے نام پر پہلی شپ USS Zumwalt (DDG 1000) کا نام دیا گیا۔ یہ شپ اپنے وقت سے کہیں آگے کی ٹیکنالوجی کا نمونہ تھی


سٹیلتھ ڈیزائن: اس کا ڈیزائن اسے ریڈار پر تقریباً ایک چھوٹی فشنگ بوٹ کے برابر دکھاتا ہے۔ اس کا ریڈار کراس سیکشن روایتی ڈسٹرائر کے مقابلے 50 گنا کم ہے، جس کی وجہ سے اس کا پتہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔

خاموش آپریشن: انٹیگریٹڈ الیکٹرک پروپلشن سسٹم سے لیس ہونے کی وجہ سے اس کا تھرمل اور acoustic سگنیچر بہت کم ہے۔ اس کا acoustic سگنیچر لاس اینجلس کلاس آبدوز کے برابر ہے، جو اسے انتہائی خاموش بناتا ہے۔
پروپلشن سسٹم: یہ سسٹم دو گیس ٹربائنوں، ٹربائن جنریٹروں اور الیکٹرک موٹروں پر مشتمل ہے جو کل 105,000 ہارس پاور کی طاقت پیدا کرتا ہے، اور اسے 56 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کے قابل بناتا ہے۔

ناکامی کے بڑے اسباب: مہنگا ہتھیار اور محدود رول

اتنی جدید ٹیکنالوجی کے باوجود، امریکی نیوی نے 2008 میں کانگریس سے اس منصوبے کی فنڈنگ روکنے کی درخواست کی اور واپس Arleigh Burke کلاس ڈسٹرائر کی تیاری پر توجہ مرکوز کی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ جہاز پر آنے والے مسائل اور لاگت تھی:

1. ناقابل برداشت لاگت

پروگرام کی قیمت: 2016 میں اس پورے پروگرام کی لاگت تقریباً 24 سے 25 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

فی شپ لاگت: ایک اکیلی زموالٹ کلاس ڈسٹرائر کی قیمت آج کے حساب سے تقریباً 10 ارب ڈالر بنتی ہے، جو اسے ایک سپر ایئرکرافٹ کیریئر کے برابر لاگت کا بنا دیتا ہے۔

2. مہنگا گائیڈڈ پروجیکٹائل (LRLAP)

زموالٹ پر نصب 155 ملی میٹر کی گن 154 کلومیٹر کی دوری تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ لیکن اس کے لیے استعمال ہونے والا LRLAP (Long Range Land Attack Projectile) ایک راکٹ assisted پروجیکٹائل تھا، جس کے ہر گولے کی قیمت 2016 میں تقریباً 1 ملین ڈالر تھی—جو ٹوماہاک یا ہارپون کروز میزائل سے بھی زیادہ مہنگا تھا۔

اس کی زیادہ قیمت کی وجہ سے نیوی نے اس کی خریداری بند کر دی، جس سے جہاز کی بنیادی فائر پاور تقریباً بے کار ہو گئی۔ 2020 تک صرف 90 پروجیکٹائل بنائے جا سکے تھے۔
3. عملی استعمال میں محدودیت
تنہائی میں استعمال: اپنے سٹیلتھ کو برقرار رکھنے کے لیے اس جہاز کو اکیلا چلنا پڑتا ہے۔ یہ اسے کیریئر سٹرائیک گروپس میں مؤثر طریقے سے استعمال کرنے سے روکتا ہے۔
دفاعی کمزوریاں: لاگت کم کرنے کے لیے اس میں Aegis Combat System کا استعمال نہیں کیا گیا، جس نے اس کی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو محدود کیا۔
بیلسٹک میزائل ڈیفینس کی کمی: یہ جہاز بیلسٹک میزائل ڈیفینس کی صلاحیت سے عاری ہے اور SM-2 یا SM-3 جیسے اہم انٹرسیپٹر فائر نہیں کر سکتا۔ اس کی بنیادی ایئر ڈیفینس RIM-162 ESSM ہے، جو کہ ایک محدود رینج (50 کلومیٹر) کا سسٹم ہے۔
اینٹی سب میرین وارفیئر: حیرت انگیز طور پر، آبدوزوں کا پتہ لگانے کے باوجود اس پر کوئی ٹارپیڈو لانچنگ ٹیوبز نہیں ہیں، جو آبدوزوں کے خلاف اس کی کارکردگی پر سوال کھڑا کرتا ہے۔


مستقبل کے منصوبے اور موجودہ ہتھیار

چونکہ اس کی 155 ملی میٹر کی گنز اپنے مہنگے گولوں کی وجہ سے غیر فعال ہو چکی ہیں، اب امریکی نیوی ان دونوں گن سسٹمز کو ہٹا کر ان کی جگہ ورٹیکل لانچ سیلز (VLS) نصب کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ وہ ہائپرسونک میزائل لانچ کر سکے۔

موجودہ ہتھیار:

VLS سیلز: 80 MK 57 VLS سیلز موجود ہیں، جو Tomahawk، SM-6 میزائل، اور ESSM (ہر سیل میں چار) فائر کر سکتے ہیں۔ یہ کل 320 ESSM میزائل لے جا سکتا ہے۔

گن سسٹمز: 155 ملی میٹر کی دو مین گنز (جو غیر فعال ہیں) اور قریباً 2 کلومیٹر رینج کی 30 ملی میٹر کیلیبر کی دو گنز موجود ہیں۔
ایوی ایشن: یہ دو MH-60R اینٹی سب میرین وارفیئر ہیلی کاپٹر یا تین MQ-8 Fire Scout ڈرون ہیلی کاپٹر لے جا سکتا ہے۔

نتیجہ: ایک بہترین آئیڈیا، ایک مہنگا سبق

زموالٹ کلاس ڈسٹرائر اپنے وقت سے بہت آگے تھا اور اس کا سٹیلتھ ڈیزائن قابل تعریف ہے۔ یہ ایک بہترین آئیڈیا تھا، مگر اس پر جن ٹیکنالوجیز کو انٹیگریٹ کیا جانا چاہیے تھا وہ یا تو غیر عملی تھیں یا اتنی مہنگی کہ ان کا خرچہ ناقابل برداشت ہو گیا۔ یہ منصوبہ اس بات کا ایک مہنگا سبق ہے کہ بہترین ٹیکنالوجی ضروری نہیں کہ بہترین ہتھیار بھی ہو۔ امریکی نیوی نے صرف تین شپس بنا کر اس پروگرام کو ختم کر دیا، جو بالترتیب یہ ہیں:

DDG 1000 USS Zumwalt (سروس میں شامل: 2016)

DDG 1001 USS Michael Monsoor (سروس میں شامل: 2019)
DDG 1002 USS Lyndon B. Johnson (متوقع شمولیت: 2027)

ان جہازوں کا اصل مقصد اب ہائپرسونک میزائلوں کے پلیٹ فارم کے طور پر تبدیل ہو رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی نیوی نے اس انتہائی مہنگے اثاثے کو مکمل طور پر ترک کرنے کی بجائے اسے نئے رول میں استعمال کرنے کا راستہ اپنایا ہے۔

Post a Comment

0 Comments