امریکی نیوی کا ناکام شاہکار: زموالٹ کلاس ڈسٹرائر کی کہانی
امریکی نیوی کو بجا طور پر دنیا کی سب سے طاقتور بحری فوج سمجھا جاتا ہے، حالانکہ جہازوں کی تعداد کے لحاظ سے چینی نیوی آگے نکل چکی ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی اور حربی صلاحیت میں امریکی نیوی کا کوئی ثانی نہیں۔ آج ہم امریکی نیوی کے ایک ایسے منفرد لیکن بدقسمت وارشپ کی کہانی پر بات کریں گے جس کو بنانے کا منصوبہ تو بہت بڑا تھا مگر یہ منصوبہ مسائل کی نذر ہو گیا—اسے زموالٹ کلاس ڈسٹرائر (Zumwalt Class Destroyer) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وقت سے آگے کا ڈیزائن: سٹیلتھ اور ٹیکنالوجی
زموالٹ کلاس ڈسٹرائر کو سن 1990 کی دہائی میں بنانا شروع کیا گیا تھا، اور اسے امریکی نیوی کے سابق ایڈمرل Elmo R. Zumwalt Jr. کے نام پر پہلی شپ USS Zumwalt (DDG 1000) کا نام دیا گیا۔ یہ شپ اپنے وقت سے کہیں آگے کی ٹیکنالوجی کا نمونہ تھی
سٹیلتھ ڈیزائن: اس کا ڈیزائن اسے ریڈار پر تقریباً ایک چھوٹی فشنگ بوٹ کے برابر دکھاتا ہے۔ اس کا ریڈار کراس سیکشن روایتی ڈسٹرائر کے مقابلے 50 گنا کم ہے، جس کی وجہ سے اس کا پتہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔
ناکامی کے بڑے اسباب: مہنگا ہتھیار اور محدود رول
اتنی جدید ٹیکنالوجی کے باوجود، امریکی نیوی نے 2008 میں کانگریس سے اس منصوبے کی فنڈنگ روکنے کی درخواست کی اور واپس Arleigh Burke کلاس ڈسٹرائر کی تیاری پر توجہ مرکوز کی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ جہاز پر آنے والے مسائل اور لاگت تھی:
1. ناقابل برداشت لاگت
پروگرام کی قیمت: 2016 میں اس پورے پروگرام کی لاگت تقریباً 24 سے 25 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
2. مہنگا گائیڈڈ پروجیکٹائل (LRLAP)
زموالٹ پر نصب 155 ملی میٹر کی گن 154 کلومیٹر کی دوری تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ لیکن اس کے لیے استعمال ہونے والا LRLAP (Long Range Land Attack Projectile) ایک راکٹ assisted پروجیکٹائل تھا، جس کے ہر گولے کی قیمت 2016 میں تقریباً 1 ملین ڈالر تھی—جو ٹوماہاک یا ہارپون کروز میزائل سے بھی زیادہ مہنگا تھا۔
مستقبل کے منصوبے اور موجودہ ہتھیار
چونکہ اس کی 155 ملی میٹر کی گنز اپنے مہنگے گولوں کی وجہ سے غیر فعال ہو چکی ہیں، اب امریکی نیوی ان دونوں گن سسٹمز کو ہٹا کر ان کی جگہ ورٹیکل لانچ سیلز (VLS) نصب کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ وہ ہائپرسونک میزائل لانچ کر سکے۔
موجودہ ہتھیار:
VLS سیلز: 80 MK 57 VLS سیلز موجود ہیں، جو Tomahawk، SM-6 میزائل، اور ESSM (ہر سیل میں چار) فائر کر سکتے ہیں۔ یہ کل 320 ESSM میزائل لے جا سکتا ہے۔
نتیجہ: ایک بہترین آئیڈیا، ایک مہنگا سبق
زموالٹ کلاس ڈسٹرائر اپنے وقت سے بہت آگے تھا اور اس کا سٹیلتھ ڈیزائن قابل تعریف ہے۔ یہ ایک بہترین آئیڈیا تھا، مگر اس پر جن ٹیکنالوجیز کو انٹیگریٹ کیا جانا چاہیے تھا وہ یا تو غیر عملی تھیں یا اتنی مہنگی کہ ان کا خرچہ ناقابل برداشت ہو گیا۔ یہ منصوبہ اس بات کا ایک مہنگا سبق ہے کہ بہترین ٹیکنالوجی ضروری نہیں کہ بہترین ہتھیار بھی ہو۔ امریکی نیوی نے صرف تین شپس بنا کر اس پروگرام کو ختم کر دیا، جو بالترتیب یہ ہیں:
DDG 1000 USS Zumwalt (سروس میں شامل: 2016)
ان جہازوں کا اصل مقصد اب ہائپرسونک میزائلوں کے پلیٹ فارم کے طور پر تبدیل ہو رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی نیوی نے اس انتہائی مہنگے اثاثے کو مکمل طور پر ترک کرنے کی بجائے اسے نئے رول میں استعمال کرنے کا راستہ اپنایا ہے۔

0 Comments