ہاتھی کو سزا کا ایک دلخراش واقعہ۔۔
دنیا میں سزائے م وت ہمیشہ انسانوں کے لیے سنائی جاتی رہی ہے۔ کبھی تختہ دار پر لٹکا کر، کبھی گول ی مار کر، اور کبھی زہ ر پلا کر۔ لیکن
تاریخ میں ایک واقعہ ایسا بھی درج ہے جب ایک بے زبان جانور کو بھی اسی سزا کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ بیسویں صدی کے آغاز میں پیش آیا، جب امریکہ کی ریاست ٹینیسی کے ایک چھوٹے سے
قصبے "ایرون" میں ایک سرکس کی ہتھنی کو سرعام پھانسی دے دی گئی۔
یہ ہتھنی "میری" کے نام سے مشہور تھی اور Sparks World Famous Shows سرکس کا حصہ تھی۔ سرکس کے مالک کا دعویٰ تھا کہ میری سب سے بڑی اور سب سے ذہین ہتھنی ہے، لیکن ستمبر 1916ء میں وہ "Killer Elephant" کے نام سے بدنام ہو گئی۔
کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک نیا مہاوت(ہاتھی کو ٹرین کرنے والا)، جسے ہاتھیوں کے ساتھ تجربہ نہ تھا، شو کے دوران میری کی پشت پر بیٹھا ہوا تھا۔ جیسے ہی ہتھنی تربوز کھانے کے لیے جھکی، اس نے کان کے پیچھے ایک نوک دار آلہ چبھو دیا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں میری پہلے ہی ایک شدید دانت کے انفیکشن کی وجہ سے اذیت سہہ رہی تھی۔ درد اور غصے میں بے قابو ہو کر اس نے مہاوت کو نیچے گرا دیا اور اپنے بھاری قدموں سے کچل ڈالا۔
واقعے کے فوراً بعد اخبارات نے اسے خونخوار قاتلہ قرار دیا۔ عوام میں خوف اور اشتعال بڑھ گیا اور ہزاروں آوازیں اٹھنے لگیں کہ اس ہتھنی کو عبرت کا نشان بنایا جائے۔ دباؤ کے آگے سرکس کے مالک نے ہتھیار ڈال دیے اور فیصلہ ہوا کہ میری کو سرعام پھانسی دی جائے۔
13 ستمبر 1916ء کو ایرون شہر کے ریلوے یارڈ میں ایک کرین منگوائی گئی۔ تقریباً ڈھائی ہزار لوگ تماشا دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔ پہلی کوشش میں جب زنجیر ٹوٹی تو میری زمین پر آ گری اور اس کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ مجمع میں شور برپا ہو گیا، لیکن کسی نے رحم نہ کیا۔ دوسری بار مضبوط زنجیر سے باندھ کر اسے دوبارہ لٹکایا گیا، اور بالآخر ایک بے زبان جانور موت کی نیند سو گیا۔
بعد میں جب ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تو انکشاف ہوا کہ میری کے آخری دانت میں ایک خطرناک انفیکشن تھا، اور اسی مقام پر مہاوت نے آلہ چبھویا تھا۔ میری کا ردِعمل دراصل درد اور اذیت کا شاخسانہ تھا، لیکن انسانوں نے اسے جرم قرار دے کر موت دے دی۔
میری کی پھانسی کے بعد امریکہ میں سرکس میں ہاتھیوں کے استعمال پر سخت سوالات اٹھے۔ یہ واقعہ آج بھی حیوانات کے حقوق کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اصل مجرم کون تھا؟ وہ ہتھنی، جو ناقابلِ برداشت درد میں تھی؟ یا وہ انسان، جس نے اسے زبردستی تماشا بنانے پر مجبور کیا؟
اور یہ سوال صرف ایک صدی پہلے کے واقعے تک محدود نہیں۔ آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں بے زبان جانور انسانوں کے ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُن کی چیخیں اور اُن کی موت کے قصے اکثر منظرِ عام پر نہیں آ پاتے۔ ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی جانور کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے، چاہے وہ ہمارا پالتو ہو یا کوئی بے سہارا جانور۔ ان پر رحم کرنا دراصل انسانیت اور ایمان کی اصل روح ہے۔
0 Comments