گوگامیلا کی جنگ: ایک شہنشاہیت کا انجام اور نئے دور کا آغاز
جنگ کا پس منظر اور فریقین کا سفر
گوگامیلا کی جنگ (Battle of Gaugamela)، جو یکم اکتوبر 331 قبل مسیح کو لڑی گئی، تاریخ کے سب سے فیصلہ کن معرکوں میں سے ایک ہے۔ یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ فارسی اچیمینیڈ سلطنت کے دو سو سالہ اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی اور سکندر اعظم کو ایشیا کا بلا شرکت غیرے بادشاہ بنا دیا۔
ایشیائی خواب کا تعاقب
333 قبل مسیح میں دریائے اسوس کے مقام پر دارا سوم کی فوج کو زبردست شکست دینے کے بعد، سکندر اعظم نے شام، بحیرہ روم کے ساحلی شہروں اور مصر پر اپنا قبضہ مضبوط کیا۔ اس نے درحقیقت فارسیوں کو بحیرہ روم کی طاقت سے محروم کر دیا تھا۔ ان علاقوں کو محفوظ بنانے کے بعد، سکندر نے ایک بار پھر مشرق کی طرف اپنی نگاہیں مرکوز کیں، جس کا واحد مقصد دارا سوم کی عظیم سلطنت کو مکمل طور پر گرانا تھا۔
فیصلہ کن محاذ کی تیاری
331 قبل مسیح کے موسم گرما میں، سکندر نے اپنی فوج کے ساتھ مصر سے شمال مشرق کی طرف مارچ کیا۔ وہ بغیر کسی بڑی مخالفت کے دریائے فرات اور پھر دریائے دجلہ کو پار کرنے میں کامیاب رہا۔ سکندر کی پیش قدمی نے دارا کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اپنی سلطنت کے ہر کونے سے دستیاب تمام وسائل اور آدمی اکٹھے کیے جائیں تاکہ مقدونیائی بادشاہ کے سامنے حتمی اور فیصلہ کن محاذ آرائی کی جا سکے۔
دارا نے موصل، عراق کے قریب گوگامیلا کے وسیع اور ہموار میدان کو جنگ کے لیے منتخب کیا۔ یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا کیونکہ:
اس کا وسیع علاقہ اس کی بڑی تعداد میں گھڑ سوار فوج کو حرکت دینے اور زیادہ موثر طریقے سے تعینات کرنے کی اجازت دیتا تھا۔
اس کی سطح کو پہلے سے ہی ہموار کر دیا گیا تھا تاکہ اس کے خوفناک داسی رتھوں (scythed chariots) اور حال ہی میں حاصل کیے گئے جنگی ہاتھیوں کو رکاوٹ کے بغیر استعمال کیا جا سکے۔
گوگامیلا کی تقدیر اس کی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے لکھی جانی تھی۔
فوجوں کی تعداد اور سکندر کا اہم فیصلہ
گوگامیلا کے میدان پر دو عظیم فوجیں آمنے سامنے کھڑی تھیں، جن کی قیادت کرنے والے دو ایسے بادشاہ تھے جن کی قسمت ابدی طور پر جڑ چکی تھی۔
فارسی فوج: کثرت میں اتحاد کا فقدان
اگرچہ قدیم ذرائع دارا کی فوج کی تعداد کو مبالغہ آرائی کے ساتھ بیان کرتے ہیں (کچھ اندازے لاکھوں میں ہیں)، تاہم جدید مؤرخین کا خیال ہے کہ اس کی فوج میں 50,000 سے 100,000 کے درمیان فوجی تھے، جن میں بڑی تعداد گھڑ سواروں کی تھی۔ دارا کی فوج ایک متنوع مخلوط گروہ تھی، جس میں ایرانی صوبوں کے بہترین بیکٹریائی اور سیتھیائی گھڑ سوار، مرکزی پیادہ فوج (Inmortals)، اور مختلف علاقوں سے جمع کیے گئے مرتکز دستے شامل تھے۔ اس کثرت کے باوجود، اس فوج میں نظم و ضبط اور یکجہتی کا فقدان تھا۔
مقدونیائی فوج: نظم و ضبط اور تجربہ
اس کے برعکس، سکندر کی فوج کی تعداد بہت کم تھی، تقریباً 47,000 فوجی۔ اس میں 7,000 گھڑ سوار اور 40,000 پیدل فوجی شامل تھے۔ تعداد میں کم ہونے کے باوجود، سکندر کی فوج کو غیر معمولی فائدہ حاصل تھا:
نظم و ضبط: وہ انتہائی تربیت یافتہ پیشہ ور فوجی تھے، جو مقدونیائی پھالانکس (Phalanx) اور ساتھی گھڑ سوار (Companion Cavalry) کی طاقت پر انحصار کرتے تھے۔
مشترکہ اسلحہ (Combined Arms): ان کے پاس بھاری پیادہ فوج، ہلکی پیادہ فوج اور گھڑ سواروں کا توازن تھا، جو انھیں غیر معمولی لچک فراہم کرتا تھا۔
رات کے حملے کا انکار
میدان جنگ میں داخل ہونے کے بعد، سکندر نے فارسی کیمپ سے چار میل کے فاصلے پر اپنا کیمپ قائم کیا۔ ایک سکاؤٹنگ مشن کے بعد، سکندر نے اپنے کمانڈروں سے مشاورت کی۔ اس موقع پر، اس کے تجربہ کار جنرل پارمینین (Parmenion) نے رات کے حملے کی تجویز دی، کیونکہ فارسیوں کی بڑی تعداد کو چھپ کر حملہ کر کے قابو کیا جا سکتا تھا۔
سکندر نے اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا اور کہا: "میں اپنی فتح چوری نہیں کروں گا!" وہ مکمل طور پر دن کی روشنی میں، بہترین حکمت عملی اور دلیری سے دارا کو شکست دینا چاہتا تھا۔
سکندر کا یہ فیصلہ کتنا درست ثابت ہوا، کیونکہ دارا نے احتیاط کے طور پر رات کے حملے کا اندازہ لگایا تھا اور اپنی فوج کو رات بھر چوکس رکھا تھا۔ اس طرح، سکندر کے دن کی روشنی میں حملے کا فیصلہ اس بات کی علامت تھا کہ وہ حکمت عملی کے لحاظ سے دارا سے ایک قدم آگے تھا۔
سکندر کی غیر معمولی جنگی حکمت عملی
گوگامیلا میں سکندر کی فتح کو اکثر تاریخ کی سب سے بڑی فوجی فتوحات میں شمار کیا جاتا ہے، جس کی بنیادی وجہ اس کی غیر معمولی اور تخلیقی جنگی حکمت عملی تھی۔
اوبیئک فارمیشن (Oblique Formation)
سکندر جانتا تھا کہ اگر وہ فارسیوں کے عظیم محاذ کے مقابلے میں اپنی فوج کو روایتی طریقے سے تعینات کرتا ہے تو اسے مکمل طور پر گھیر لیا جائے گا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے، اس نے ایک اوبیئک آرڈر یا ترچھی تشکیل کا انتخاب کیا۔ اس تشکیل کے بنیادی عناصر یہ تھے:
دائیں بازو پر زور: سکندر نے اپنا بنیادی زور دائیں بازو پر رکھا، جہاں اس نے اپنے ساتھی گھڑ سواروں اور بہترین پیادہ دستوں (Hypaspists) کی کمان سنبھالی۔
محفوظ کنارے: گھیرنے سے بچنے کے لیے، اس نے اپنی صفوں کو دو حصوں میں تعینات کیا۔ سامنے کی صف، جو روایتی پھالانکس پر مشتمل تھی، براہ راست دشمن کے سامنے تھی، جبکہ پیچھے کی صف کو 45 ڈگری کے زاویے پر پیچھے کی طرف موڑ دیا گیا تھا تاکہ وہ کسی بھی طرف سے گھڑ سواروں کے حملے کا مقابلہ کر سکے۔
پارمینین کا کردار: بائیں بازو پر، تجربہ کار پارمینین کو بڑی تعداد میں تھیسلیائی (Thessalian) اور اتحادی گھڑ سواروں کے ساتھ "ہولڈنگ ایکشن" کی قیادت کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان کا مقصد فارسی دائیں بازو کو مصروف رکھنا تھا، یہاں تک کہ سکندر مرکز میں فیصلہ کن ضرب لگانے میں کامیاب ہو جائے۔
پہلا مرحلہ: بائیں طرف بڑھنا
جنگ کے آغاز میں، سکندر نے اپنے ساتھی گھڑ سواروں کو دائیں طرف ایک ترچھے راستے پر آگے بڑھایا۔ دارا نے اسے گھیرنے کی کوشش سمجھا اور اپنے بہترین گھڑ سواروں کو مقدونیائی دائیں بازو کے خلاف بھیج کر جوابی کارروائی کی۔ اس کے نتیجے میں جنگ کے کنارے پر زبردست گھڑ سواری کی جنگ شروع ہو گئی۔
رتھوں کی ناکامی
جب گھڑ سواری کی جنگ عروج پر تھی، دارا نے اپنے سب سے اہم ہتھیار، داسی رتھوں (scythed chariots) کو مقدونیائی مرکز کی طرف آگے بڑھایا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں دارا نے میدان کو ہموار کیا تھا۔ تاہم، سکندر نے اپنی فوج کو ان کا مقابلہ کرنے کی تربیت دی تھی۔
راتباط توڑنا: مقدونیائی ہلکی پیادہ فوج نے ان رتھوں کا سامنا کیا اور فوری طور پر اپنے بیچ میں خلا (gaps) بنا دیے، جس سے رتھ ان کے بیچ سے بے ضرر گزر گئے۔
حملہ: جب رتھ خلا سے گزرے تو پیچھے کی صف میں موجود ہلکی پیادہ فوج نے ان رتھوں پر نیزے اور تیروں سے حملہ کر کے رتھبانوں کو ختم کر دیا۔ اس طرح، دارا کا یہ اہم ہتھیار جنگ میں بے اثر ہو گیا۔
جنگ کا فیصلہ کن لمحہ اور دارا کا فرار
جب فارسی گھڑ سواروں کی اکثریت سکندر کے دائیں بازو اور پارمینین کے بائیں بازو کو گھیرنے کی کوشش میں مصروف تھی، سکندر کی حکمت عملی کا فیصلہ کن لمحہ قریب آ گیا۔
کامیابی کی تکونی ضرب (The Wedge Charge)
جیسا کہ فارسی گھڑ سوار دائیں طرف زیادہ سے زیادہ باہر کی طرف پھیل گئے تاکہ سکندر کو گھیر سکیں، فارسی مرکز اور ان کے بائیں بازو کے درمیان ایک نازک خلا (gap) پیدا ہو گیا۔ اس خلا میں دارا کی ذاتی محافظ فوج اور دیگر بہترین یونٹ تعینات تھے، لیکن ان کی پوزیشن اب کمزور ہو چکی تھی۔
سکندر، جو ایک تجربہ کار جنرل تھا اور حالات کا گہرائی سے جائزہ لے رہا تھا، اس موقع کو بھانپ گیا۔ اس نے اچانک اپنے بہترین دستوں کو، جن میں ساتھی گھڑ سوار اور ہیپاسپسٹس شامل تھے، واپس مرکز کی طرف موڑ دیا اور ایک عظیم تکونی ضرب (giant wedge) کی شکل میں اس خلا پر تیزی سے حملہ کر دیا۔
یہ ضرب سیدھی دارا سوم کے مقام پر لگی۔
دارا کا فرار
سکندر کی غیر معمولی جارحیت اور ساتھی گھڑ سواروں کے اچانک حملے نے فارسی کمان کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا۔ سکندر کا مقصد دارا کو گرفتار کرنا یا مارنا تھا۔ فارسی لائنوں کو چیرتے ہوئے، مقدونیائی گھڑ سوار دارا کے قریب پہنچ گئے۔
اس خوفناک صورتحال میں، دارا سوم اپنا حوصلہ کھو بیٹھا۔ جیسا کہ وہ اسوس میں کر چکا تھا، وہ دوبارہ میدان جنگ سے فرار ہو گیا اور اپنے فوجیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ بادشاہ کے فرار ہوتے ہی، فارسی فوج کا مرکز تیزی سے ٹوٹ گیا اور بھاگنا شروع کر دیا۔
پارمینین کا دفاع
جبکہ سکندر نے مرکز میں فتح حاصل کر لی تھی، بائیں بازو پر پارمینین کی فوجیں فارسیوں کی کثرت کے سامنے دباؤ میں تھیں۔ فارسی دائیں بازو کی کمان مازیئس (Mazaeus) کر رہا تھا اور وہ مقدونیائی بائیں بازو کو کامیابی سے گھیرنے کی کوشش کر رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے پارمینین کو مدد کے لیے سکندر کو فوری پیغام بھیجنے پر مجبور کر دیا۔
سکندر نے دارا کا پیچھا ترک کر دیا (اس کے فرار ہونے دیا) اور واپس مڑ کر پارمینین کی مدد کے لیے چلا گیا۔ اس نے اپنے گھڑ سواروں کے ساتھ فارسیوں کے عقب پر حملہ کیا اور بائیں بازو کو بچا لیا۔ اس فیصلہ کن جوابی حملے نے مازیئس کی فوج کو بھی بھاگنے پر مجبور کر دیا اور جنگ کا اختتام ہو گیا۔
جنگ کا نتیجہ اور فارس کا انجام
گوگامیلا میں سکندر کی فتح نہ صرف ایک عسکری کامیابی تھی، بلکہ یہ ایک سیاسی اور تاریخی زلزلہ تھا۔
فوری نتائج
بھاری نقصانات: فارسیوں کا نقصان بہت زیادہ تھا، اندازے کے مطابق 47,000 تک فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ مقدونیائی نقصانات کم تھے۔
سلطنت کا زوال: گوگامیلا کی جنگ نے اچیمینیڈ سلطنت کے خاتمے پر مہر ثبت کر دی۔ سکندر نے خود کو ایشیا کا جائز حکمران قرار دیا اور آسانی سے فارس کے اہم دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا۔
بابل (Babylon): سکندر کو فاتح کے طور پر وصول کیا گیا۔
سوسا (Susa): ہتھیار ڈال دیا گیا۔
پرسیپولیس (Persepolis): فارسی سلطنت کا اصل اور اہم دارالحکومت، جس پر قبضہ کر لیا گیا اور بعد میں جلایا گیا۔
دارا سوم کا انجام
دارا سوم میدان سے فرار ہو کر مشرقی صوبوں میں چلا گیا، جہاں اس نے ایک اور فوج تیار کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، اس کے اپنے ساتھیوں نے اسے دھوکہ دیا۔ اس کے ایک صوبائی گورنر اور رشتہ دار، بیسس (Bessus) نے اسے قید کر لیا۔
330 قبل مسیح میں، جب سکندر دارا کا پیچھا کر رہا تھا، بیسس نے دارا سوم کو قتل کروا دیا تاکہ اسے سکندر کے ہاتھوں نہ آنے دیا جائے۔ جب سکندر کو دارا کی لاش ملی تو اس نے اسے عزت و احترام کے ساتھ دفن کرایا اور بعد میں قاتل بیسس کا پیچھا کیا اور اس کو سزائے موت دی۔
تاریخی اہمیت
گوگامیلا کی جنگ کے نتیجے میں دنیا کا سب سے بڑا سیاسی نقشہ تبدیل ہو گیا۔
یہ جنگ آرمینیا سے ہندوستان کی سرحدوں تک پھیلی ہوئی ایک عظیم سلطنت کے خاتمے کا سبب بنی۔
اس نے ہیلنسٹک دور (Hellenistic Era) کا آغاز کیا، جس میں یونانی ثقافت اور زبان کو مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا۔
اس فتح نے سکندر کو بجا طور پر "اعظم" (The Great) بنا دیا اور اس کی فوجی قابلیت کو ناقابل تردید طور پر ثابت کر دیا۔
گوگامیلا کی جنگ عسکری تاریخ کا ایک لازوال سبق ہے کہ اعلیٰ حکمت عملی اور نظم و ضبط ہزاروں کی کثرت کو شکست دے سکتا ہے۔ اس جنگ نے قدیم دنیا کی قسمت بدل دی اور ایک نئے، عالمی دور کی بنیاد رکھی۔

0 Comments