اعتماد کی قیمت اور تزویراتی غلط فہمیاں: پوٹن کا نقطہ نظر
ولادی میر پوٹن سے جب روس کی سب سے بڑی غلطی کے بارے میں سوال کیا گیا، تو ان کا جواب اس گہری خلیج کو واضح کرتا ہے جو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پیدا ہوئی۔ ان کا یہ کہنا کہ "روس نے مغرب پر بہت زیادہ بھروسہ کیا،" ایک ایسی ریاست کے دکھ کا اظہار ہے جس نے سرد جنگ کے بعد ایک نئے عالمی ڈھانچے میں شراکت دار بننے کی کوشش کی تھی، لیکن اسے دیوار سے لگا دیا گیا۔ پوٹن کے مطابق، جہاں روس نے خلوصِ نیت سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا، وہیں مغرب نے اسے خلوص کے بجائے روس کی مجبوری اور کمزوری گردانا۔ یہیں سے وہ "تزویراتی دھوکہ دہی" شروع ہوئی جسے روس آج کے تنازعات کی جڑ قرار دیتا ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو 1991 میں دیوارِ برلن کے گرنے اور سوویت یونین کی تحلیل کے بعد ایک امید پیدا ہوئی تھی کہ اب دنیا بلاک کی سیاست سے نکل کر برابری اور تعاون کی طرف بڑھے گی۔ تاہم، پوٹن کا استدلال ہے کہ روس نے اس وقت سب سے بڑی تزویراتی غلطی یہ کی کہ نیٹو کی مشرقی یورپ کی طرف توسیع کے حوالے سے کوئی باقاعدہ 'تحریری معاہدہ' (Formal and Written Agreement) نہیں کیا۔ اس وقت کی روسی قیادت نے زبانی یقین دہانیوں پر اکتفا کیا، جبکہ حقیقت میں نیٹو قدم بہ قدم روس کی سرحدوں کے قریب پہنچتا گیا۔ اگر اس وقت سینٹرل یورپ میں کوئی "نو گو زون" واضح کر دیا جاتا، تو شاید آج یوکرین کا بحران اس شدت سے سر نہ اٹھاتا۔
سرد جنگ کے بعد کے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے پوٹن کا یہ موقف نہایت اہم ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سوویت یونین کے بکھرنے کو محض ایک نظریاتی فتح نہیں سمجھا، بلکہ اسے روس کی مکمل شکست میں بدلنے کی کوشش کی۔ ایک ایسی شکست جہاں روس کو عالمی فیصلوں میں برابر کا حصہ دار بنانے کے بجائے اسے محض ایک "علاقائی طاقت" تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔ پوٹن کے الفاظ میں، مغرب نے اچھے اور برابری کے تعلقات کو فروغ دینے کے بجائے روس کو مزید دبانے اور اسے جغرافیائی و سیاسی طور پر مفلوج کرنے کی پالیسی اپنائی۔
دسمبر 2025 میں اپنے حالیہ بیانات میں بھی پوٹن نے اسی موقف کو دہرایا ہے کہ مغربی ممالک آج بھی پرانی ذہنیت سے باہر نکلنے میں ناکام رہے ہیں۔ یوکرین کا معاملہ اس کشمکش کی تازہ ترین اور سب سے زیادہ خطرناک مثال بن کر ابھرا ہے۔ روس کا اصرار ہے کہ وہ اب بھی امریکہ اور یورپ سے برابری کی بنیاد پر تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے جب روس کے سیکیورٹی خدشات کو تسلیم کیا جائے اور اسے ایک خودمختار عالمی طاقت کے طور پر عزت دی جائے۔
مجموعی طور پر، پوٹن کا بیانیہ ایک ایسے روس کی تصویر کشی کرتا ہے جو اپنی ماضی کی لغزشوں سے سیکھ چکا ہے۔ وہ پیغام دے رہے ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات میں "بھروسہ" ایک مہنگا سودا ہے، خاص طور پر جب فریقِ مخالف اسے فتح کا ذریعہ سمجھنے لگے۔ آج کا روس اسی لیے زیادہ سخت گیر نظر آتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اب زبانی وعدوں کا وقت گزر چکا ہے اور بقا کے لیے اپنی طاقت اور جغرافیائی حدود کا تحفظ خود کرنا ہوگا۔ یہ بحث صرف روس تک محدود نہیں، بلکہ یہ پوری دنیا کے لیے ایک سبق ہے کہ عالمی امن کے لیے طاقت کا توازن اور ایک دوسرے کے مفادات کا احترام کتنا ضروری ہے۔


0 Comments