دیوار گریہ
یہ تقسیم ہند سے چند برس بعد، ایک چھوٹے سے ضلع میانوالی کا قصہ ہے، جہاں کی زمینوں پر نواب زادوں کی تلوار کا نہیں، بلکہ خاندانی وقار کا سایہ تھا۔ نواب احمد یار کی حویلی، جسے 'کوٹھی' کہا جاتا تھا، اس علاقے میں عظمت کی آخری نشانی تھی۔ نواب صاحب کا اکلوتا بیٹا فرہاد، اپنے باپ کے مزاج سے بالکل مختلف تھا؛ وہ زمین داری کے بجائے، انسانی جذبوں کو سمجھنے اور معاشرتی نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کا قائل تھا۔ وہ کوٹھی کے کتب خانے میں گھنٹوں گزارتا اور اپنی شاعری میں اپنے دل کا حال بیان کرتا۔
فرہاد اور نیلم کی ملاقات ایک پُراسرار طریقے سے ہوئی۔ فرہاد ایک رات شہر کے پرانے محلے میں اپنی شاعری کی محفل سے لوٹ رہا تھا، جب اس نے ایک ٹوٹی ہوئی دیوار کے پاس نیلم کو غریب بچوں کو کتابیں پڑھاتے دیکھا۔ نیلم کے لہجے میں جو شفقت اور جوش تھا، اس نے فرہاد کی روح کو چھو لیا۔ یہیں سے ان کے درمیان ایک خفیہ محبت کا آغاز ہوا۔ فرہاد نے اپنی ساری شاعری نیلم کے لیے وقف کر دی۔ نیلم جانتی تھی کہ فرہاد کی محبت اس کے لیے ایک خواب ہے، جو نوابی دیواروں کی وجہ سے کبھی پورا نہیں ہو سکتا، مگر اس نے اس رومان کو جینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ان کے ملنے کا مقام وہی ٹوٹا پھوٹا مکان تھا، جہاں نیلم بچوں کو پڑھاتی تھی۔ ان کی محبت میں کوئی مادی لالچ نہیں تھا؛ یہ دو روحوں کا ملاپ تھا
نواب احمد یار کو جلد ہی اپنے بیٹے کی 'کمینگی' کا علم ہو گیا۔ انہیں لگا کہ فرہاد نے خاندان کی ناک کٹوا دی ہے۔ انہوں نے غصے میں فرہاد کو کوٹھی میں قید کر دیا اور اسے تمام مراعات سے محروم کر دیا۔ "تمہیں نہیں لگتا کہ تم نے میرے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے بگاڑ دیا ہے؟" نواب صاحب نے ایک دن نیلم کے غریب والد کو بلا کر دھمکایا۔ "تمہاری بیٹی کو اس کی اوقات یاد دلانی پڑے گی، ورنہ یہ میرے خاندان کا وقار مٹی میں ملا دے گی!" نیلم کے والد، جو ایک شریف اور سیدھے سادے آدمی تھے، نواب کی دھمکی سے خوفزدہ ہو گئے۔ انہوں نے نیلم پر دباؤ ڈالا کہ وہ فرہاد سے دور ہو جائے، مگر نیلم نے انکار کر دیا۔
یہاں سے خاندانی سازش کا ایک خوفناک کھیل شروع ہوا۔ نواب احمد یار نے اپنی ہونے والی بہو سائرہ کو نیلم کے خلاف بھڑکایا۔ سائرہ جو پہلے ہی فرہاد کے ٹھکرائے جانے پر حسد کی آگ میں جل رہی تھی، اس نے فوراً سازش میں حصہ لیا۔ سائرہ نے اپنے بھائی شہباز کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا۔ شہباز ایک بے لگام اور بدمعاش شخص تھا، جو خاندان میں اپنی جائیداد کے بل بوتے پر ہر الٹا سیدھا کام کروا لیتا تھا۔ ایک رات، جب فرہاد کو قید سے فرار کا موقع ملا اور وہ نیلم سے ملنے اس کی بستی کی طرف جا رہا تھا، تو شہباز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسے گھیر لیا۔ ایک شدید اور خونی جھگڑا ہوا، جو نہ صرف دو آدمیوں کے بیچ تھا، بلکہ دو طبقات کی انا اور غصے کا تصادم تھا۔ فرہاد، گو مضبوط تھا، مگر اکیلا تھا۔ اسے وحشیانہ طور پر مارا گیا، یہاں تک کہ اس کے چہرے پر گہرے زخم آ گئے اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ شہباز نے فرہاد کو زخمی کر کے راستے میں چھوڑ دیا اور پھر نیلم کے گھر پہنچا اور اسے جھوٹی کہانی سنائی کہ فرہاد نے خود اسے چھوڑ دیا ہے اور وہ صرف عیاشی کر رہا تھا، اس نے سائرہ سے نکاح کر لیا ہے۔ نیلم نے فرہاد کے زخمی ہونے اور اس کے بعد اس کے اچانک غائب ہو جانے پر یقین کر لیا کہ فرہاد نے بھی اپنے باپ کی طرح دولتمندی کی خاطر اس کی محبت کو بیچ دیا ہے۔ اس صدمے نے نیلم کو توڑ کر رکھ دیا۔ اس نے شہر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
تقدیر کی ستم ظریفی دیکھیں! اسی رات نواب احمد یار کو دل کا شدید دورہ پڑا اور وہ کوٹھی میں اکیلے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ سائرہ اور شہباز دونوں نے اپنی سازش کے کھیل میں ان کی جان لے لی۔ جب فرہاد ہوش میں آیا تو اس نے دیکھا کہ نہ اس کا باپ رہا اور نہ ہی اس کی محبوبہ۔ کوٹھی ویران ہو چکی تھی اور اس کے ہاتھ میں صرف پچھتاوا تھا۔
نواب کے مرنے کے بعد، فرہاد نے مجبوراً سائرہ سے نکاح کر لیا تاکہ جائیداد کو خاندان کے اندر ہی رکھا جا سکے۔ یہ نکاح محبت کا نہیں، بلکہ مفادات کا اتحاد تھا۔ سائرہ نے فرہاد کے زخموں اور اس کی بے بسی پر کوئی ہمدردی نہیں دکھائی، بلکہ اپنے بھائی شہباز کے ساتھ مل کر کوٹھی کا انتظام سنبھال لیا اور فرہاد کو صرف نام کا نواب بنا کر رکھ دیا۔ فرہاد کی راتیں جاگ کر گزرتی تھیں۔ وہ اپنے بستر پر کروٹیں بدلتا اور اسے نیلم کی یاد ستاتی۔ اس نے اپنی محبت کی سچائی کو ثابت کرنے کے لیے اس وقت آواز نہیں اٹھائی، جس کا خمیازہ وہ اب بھگت رہا تھا۔ اس کی زندگی میں سکون نہیں تھا، صرف بے چینی اور سائرہ کا غرور تھا
سالوں کا گزر فرہاد کو پچھتاوے کی مزید گہری کھائی میں دھکیلتا گیا۔ اسے کوئی اولاد نہیں ہوئی، اور سائرہ کا رویہ مزید تلخ ہوتا گیا۔ اس نے فرہاد کو مکمل طور پر جائیداد سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ٹھیک دس برس بعد، ایک اتفاقی واقعہ ہوا۔ فرہاد کا پرانا دوست، جو فوج میں تھا، ایک تقریب میں اس سے ملا۔ اس نے فرہاد کو بتایا کہ وہ جہاں اس وقت تعینات ہے، وہاں ایک اسکول ہے جسے ایک غیر معمولی عورت چلاتی ہے۔ اس کا نام نیلم ہے۔ "وہ عورت بہت غمگین رہتی ہے، مگر اس کا کام قابلِ تعریف ہے،" دوست نے بتایا۔ فرہاد کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ وہ سمجھ گیا کہ اس کی نیلم زندہ ہے اور اس سے دور، اپنی ایک نئی دنیا بسا چکی ہے۔ فرہاد نے فوری طور پر اپنے دوست سے اس جگہ کا پتہ معلوم کیا اور ایک دن، سائرہ کی نظروں سے بچ کر، اس جگہ کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب فرہاد اس چھوٹے سے قصبے میں پہنچا، تو اسے نیلم ایک پرانے اسکول کے باہر بچوں کو پڑھاتی نظر آئی۔ وہ آج بھی ویسی ہی سادہ، مگر اس کی آنکھوں میں گہرے غم کا سمندر تھا۔ فرہاد نے آہستہ سے اس کا نام پکارا: "نیلم!" نیلم نے پلٹ کر دیکھا۔ فرہاد کو اس حالت میں دیکھ کر—چہرے پر پرانے زخموں کے نشان، آنکھوں میں درد—وہ دنگ رہ گئی۔ "تم یہاں کیوں آئے ہو؟" نیلم کا لہجہ سرد اور سپاٹ تھا۔ "تمہیں اپنی نوابی اور اپنی بیوی کے پاس رہنا چاہیے تھا۔" فرہاد نے روتے ہوئے اسے ساری سچائی بتائی: نواب کی موت، شہباز کی سازش، اور جھگڑے میں اس کا زخمی ہونا۔ اس نے بتایا کہ وہ اس جھگڑے میں اتنا بے بس ہو گیا تھا کہ بستر پر پڑا رہا اور جب ہوش آیا تو سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ وہ کیسے مجبوراً سائرہ کے ساتھ نکاح کے بندھن میں بندھا، اور کیسے وہ آج تک اس کے بغیر بے سکون رہا۔ نیلم نے گہرے دکھ سے کہا:
"تمہارے زخموں کو دیکھ کر میرا دل پگھلتا ہے فرہاد، مگر میرے دل میں جو گھاؤ لگا ہے، اس کا علاج صرف تمہاری خاموشی تھی۔ تمہاری محبت میں انا آ گئی، اور تم سچائی کو ثابت نہیں کر سکے۔ تم نے میرا بھروسہ توڑ دیا تھا۔"
"مجھے معاف کر دو،" فرہاد نے بے بسی سے کہا۔ نیلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اس نے فرہاد سے نظریں چرا لیں۔ "معافی؟ مجھے لگتا ہے کہ خدا نے ہم دونوں کے لیے ہی دیوار گریہ کی سزا لکھی تھی۔ میں آج بھی اکیلی ہوں اور تم بھی۔ ہم دونوں کی زندگی اس نوابی غرور کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔" نیلم نے فرہاد کو دو ٹوک انکار کر دیا کہ وہ اب کسی بھی رشتے میں بندھے۔ اس نے کہا کہ اب اس کی زندگی کا مقصد صرف بچوں کی تعلیم ہے۔
شکست خوردہ فرہاد واپس اپنی کوٹھی لوٹا۔ وہاں سائرہ اور شہباز نے اس پر جائیداد کے کاغذات پر دستخط کرنے کا دباؤ ڈالا۔ فرہاد کو احساس ہوا کہ اس کے پاس اب کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا۔ اس نے تمام کاغذات پر دستخط کر دیے اور اپنے والد کی جاگیر سے مکمل طور پر دستبردار ہو گیا۔ فرہاد اس کوٹھی کو، اس انا کی علامت کو، ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلا گیا۔ اس نے اپنی باقی زندگی ایک معمولی مدرس کی حیثیت سے گزاری اور اپنی شاعری کو عام لوگوں تک پہنچایا۔ اس کی تمام شاعری میں نیلم کا ذکر ہوتا، مگر وہ ہمیشہ اس سے دور رہا۔
سچ ہے! نا انصافی کا بدلہ یا تو مظلوم خود لیتا ہے، یا پھر قدرت خود ایسے حالات پیدا کر دیتی ہے کہ ظالم اور ساجش کرنے والے بھی عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ فرہاد نے جس طرح اپنی محبت کی سچائی کا گلا گھونٹا، اسی طرح اس کی ساری زندگی بے سکونی کے ہاتھوں قید رہی۔ وہ آخری دم تک دیوار گریہ کے سامنے کھڑا رہا، اور اس کے حصے میں صرف پچھتاوا ہی آیا۔




0 Comments