Akbar Allahabadi's Best Moments

  اکبر الٰہ آبادی کی ذہانت اور طنز سے بھرپور مزید یادگار لمحات

!ایک روپیہ اور انگریزی تعلیم کی حقیقت


یہ بات اُس دور کی ہے جب انگریزی تعلیم برصغیر میں ایک نیا مذہب بن چکی تھی، اور نوجوان نسل اسے ترقی کی واحد سیڑھی سمجھتی تھی۔ سر سید احمد خان کی تحریک کے زیرِ اثر لوگ مغربی علوم اور طرزِ زندگی کو آنکھیں بند کر کے قبول کر رہے تھے۔

اکبر الٰہ آبادی ایک سرکاری ملازم اور جج ہونے کے باوجود اس اندھی تقلید کے خلاف تھے۔ انہیں محسوس ہوتا تھا کہ یہ تعلیم قوم کو صرف کلرک اور نوکر بنا رہی ہے، نہ کہ حقیقی رہنما اور باوقار انسان۔

ایک روز، اکبر الٰہ آبادی کے پاس ایک نوجوان طالب علم آیا جو علی گڑھ کالج سے پڑھ کر نکلا تھا اور انگریزی میں بہت فرفر بولتا تھا۔ وہ اپنے نئے علم اور مغربی طرزِ فکر پر بے حد مغرور تھا۔

اس طالب علم نے اکبر سے کہا: "جناب! اب آپ کی پرانی مشرقی تعلیم کا زمانہ گیا۔ اب تو وہی شخص کامیاب ہے جو انگریزی دان ہو۔"

اکبر نے مسکرا کر جیب سے ایک روپیہ نکالا اور اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا: "بیٹا، یہ لو ایک روپیہ۔ اس کو لے کر تم بازار جاؤ اور مجھے وہاں کی کسی بھی اچھی سے اچھی اور خوبصورت چیز کی تعریف کرکے دکھاؤ، مگر یاد رکھنا کہ تعریف کے دوران تمہارے منہ سے اردو یا فارسی کا ایک لفظ بھی نہیں نکلنا چاہیے!"

نوجوان طالب علم نے روپیہ لیا اور بڑے فخر سے بازار کی طرف چل دیا۔ وہ گھنٹوں کوشش کرتا رہا، لیکن جب بھی وہ کسی چیز کی تعریف یا اس کی خوبصورتی کو بیان کرنا چاہتا، تو اس کی زبان پر بے اختیار "واہ!"، "عمدہ!"، "بہت خوب!" یا "کیا کہنے!" جیسے الفاظ آ جاتے، جن کا تعلق اردو یا فارسی سے تھا۔ انگریزی کے محدود الفاظ اور اپنے جذبات کی گہرائی کو بیان کرنے میں وہ ناکام رہا۔

شام کو جب وہ تھکا ہارا واپس لوٹا تو وہ ایک روپیہ اکبر کی طرف بڑھا دیا اور اپنی ہار تسلیم کر لی۔

اکبر نے روپیہ واپس لے کر اسے مسکرا کر کہا: "بیٹا! یہی حال تمہاری انگریزی تعلیم کا ہے۔ تم نے سارا علم دوسروں کی زبان میں حاصل کر لیا، مگر جب تمہیں اپنے دل کا درد، اپنی قومی غیرت، اور اپنے ایمان کی گرمی بیان کرنی پڑے گی، تو تمہیں اپنی زبان اور تہذیب کے الفاظ ہی تلاش کرنے پڑیں گے۔"


!لارڈ کرزن اور اکبر الٰہ آبادی کا وہ تاریخی مکالمہ جو آج بھی کانوں میں گونجتا ہے

سن 1900ء کے قریب کی بات ہے۔ وائسرائے لارڈ کرزن نے برصغیر کے لوگوں کو کمتر ثابت کرنے کے لیے ایک تقریر میں کہا تھا:

"ہمارا تجربہ یہ ہے کہ ہندوستان کا ہر آدمی جھوٹا ہے۔"

یہ جملہ سن کر پورے برصغیر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

لیکن اس وقت الٰہ آباد میں ایک سرکاری ملازم، جو خود انگریزوں کے ماتحت نوکری کرتے تھے، خاموش نہ رہے۔

ان کا نام تھا: اکبر حسین رضوی، تخلص اکبر الٰہ آبادی۔

انہوں نے فوراًٰ جواب دیا، اور وہ جواب اتنا شاہکار تھا کہ لارڈ کرزن کے منہ پر طمانچہ بن کر لگا:

"جھوٹے ہیں ہم، تو آپ ہیں جھوٹوں کے بادشاہ!"

بس ایک مصرع… مگر اس میں ساری قوم کا وقار، ساری غلامی کا درد، اور سارا طنز سمو دیا گیا۔

انگریز کو یہ جملہ اتنا چبھا کہ کئی انگریز افسران نے اکبر کو نوکری سے نکالنے کی تجویز دی، مگر کرزن نے خود کہا:

"اس آدمی نے تو ہماری حقیقت کھول دی ہے، اسے چھوڑ دو۔"


کالج کا دورہ اور نماز کا وقت





یہ واقعہ اس دور کا ہے جب سر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک اپنے عروج پر تھی، اور کالج میں پڑھنے والے بہت سے طلباء پر مغربی رنگ پوری طرح چڑھ چکا تھا۔ اکبر، اگرچہ سر سید کے دوست تھے، مگر اس حد تک مغربیت کو ناپسند کرتے تھے۔

ایک مرتبہ اکبر الٰہ آبادی کو علی گڑھ کالج کے دورے پر مدعو کیا گیا۔ وہ جب کالج کے گراؤنڈ میں چہل قدمی کر رہے تھے، تو انہوں نے دیکھا کہ ایک نوجوان طالب علم پوری طرح سے فیشن ایبل لباس میں ملبوس، سگار پی رہا تھا اور نہایت بے فکری سے دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھا۔

اتفاق سے اس وقت ظہر کی اذان ہوئی۔

اکبر نے بڑے پیار سے اس نوجوان کو بلایا اور پوچھا: "بیٹا، یہ اذان کی آواز آ رہی ہے، نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ کیا تم نماز پڑھنے جا رہے ہو؟"

نوجوان نے بڑے اطمینان سے جواب دیا: "جناب! میں تو علیگ (علی گڑھ کا طالب علم) ہوں، مجھے ان چیزوں کی فرصت کہاں؟ میں ان 'قدیم' باتوں میں وقت ضائع نہیں کرتا۔"

اکبر نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا: "ہاں، ٹھیک کہتے ہو بیٹا! لیکن میری ایک درخواست ہے کہ کم از کم جب تم اپنے بستر پر سونے جاؤ، تو سہی، سونے سے پہلے ایک بار اپنے والد کو فون کرکے بتا دینا کہ 'اب میں سو رہا ہوں۔' تاکہ یہ تو انہیں معلوم ہو جائے کہ ان کا بیٹا کہاں ہے۔"

نوجوان یہ سن کر حیران رہ گیا۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ فون کرنے کی بات نماز کے وقت کیوں؟

اکبر نے وضاحت کی: "بیٹا! تم خدا کو تو بھول چکے ہو، نماز نہیں پڑھتے، جو تمہارا اصل خالق ہے اور جسے یہ جاننا چاہیے کہ تم کیا کر رہے ہو۔ اگر تم اپنے فانی والد کو یہ اطلاع نہیں دو گے کہ تم سونے جا رہے ہو، تو وہ تمہاری خبرگیری کیسے کریں گے؟ جب تم اپنے دنیاوی باپ کو یاد رکھتے ہو تو اس بڑے باپ (خالق) کو بھی یاد رکھا کرو۔"

 

 

اخبار، بیوی اور سچے عاشق کی تمیز



اکبر الٰہ آبادی اپنی شاعری میں بیوی اور بچوں کے جدید طریقوں کو اپنانے پر بھی ہلکا پھلکا طنز کرتے تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ مغربی تہذیب نے لوگوں کو حقیقی محبت سے دور کر کے صرف ظاہری چیزوں کا عاشق بنا دیا ہے۔

ایک محفل میں کچھ دوستوں نے اکبر سے پوچھا: "اکبرؔ صاحب! آپ کو کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کون شخص سچا عاشق ہے اور کون صرف زمانہ سازی کر رہا ہے؟"

اکبر نے فوراً ایک سوال پوچھا: "تم میں سے کون سا شخص ایسا ہے جو صبح سب سے پہلے اخبار کو ڈھونڈتا ہے، اور اس کے بعد ہی کسی دوسرے کام پر توجہ دیتا ہے؟"

سب نے اعتراف کیا کہ وہ صبح اٹھ کر سب سے پہلے اخبار ہی پڑھتے ہیں۔


















اس پر اکبر نے مسکراتے ہوئے کہا: "یہی مسئلہ ہے! تم لوگ اخبار کو اتنی اہمیت دیتے ہو کہ اسے اپنی بیوی سے پہلے دیکھتے ہو۔ گویا تمہاری پہلی محبت تمہاری بیوی نہیں، بلکہ دنیا کی بے ثبات خبریں ہیں۔"

پھر انہوں نے ایک شعر کہہ کر بات ختم کر دی جو آج بھی ان کے فکر کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے:

"عشقِ لیلیٰ بھی ہوا، عشقِ بتانِ فرنگ بھی ہوا

مگر دل کو چین نہ آیا، جب تک عشقِ اخبار نہ ہوا"

 

Post a Comment

0 Comments