Wisdom vs. Ignorance

 چندن کے درختوں کو کوئلہ بنانے والا بے وقوف

بہت پرانے وقتوں کا ذکر ہے۔ ایک بادشاہ شکار کھیلتے ہوئے ایک گھنے جنگل میں کھو گیا۔ شدید پیاس کے عالم میں، راستہ تلاش کرتے ہوئے وہ ایک جگہ پہنچا جہاں ایک لکڑہارا لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔ لکڑہارے نے بادشاہ کی مدد کی، اسے پانی پلایا اور جنگل سے باہر نکلنے کا راستہ بتایا۔ بادشاہ نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "نیک انسان، تم میرے محل ضرور آنا۔ میں تمہیں انعام دینا چاہتا ہوں۔"

#ShortStory, #ThePriceOfFolly, #KnowYourWorth, #LifeLessons, #OpportunityCost, urdu kahani ghar 88, urdu stories, moral stories, stories;


کچھ دنوں بعد وہ لکڑہارا بادشاہ کے محل کی طرف یہ سوچ کر چلنے لگا کہ اگر بادشاہ نے مجھ سے انعام کی فرمائش کی، تو میں بادشاہ سے ایک ایسی جگہ مانگوں گا جہاں بہت سے درخت ہوں۔ پھر ان درختوں کی لکڑیاں کاٹ کر کوئلہ بناؤں گا اور بازار میں بیچ کر زیادہ پیسے کما سکوں گا۔ یہی سوچتے ہوئے وہ محل تک پہنچا۔

دربان کو اپنا تعارف کرایا اور بادشاہ نے اسے اپنے روبرو پیش ہونے کی اجازت دے دی۔ رحم دل بادشاہ نے کہا، "مانگو، اے نیک دل انسان! کیا مانگتے ہو؟" لکڑہارے نے اپنی خواہش بادشاہ کے سامنے ظاہر کر دی۔ بادشاہ نے ایک لمحے کے لیے سوچا، پھر مسکرا کر وزیر سے کہا، "میرا چندن کا باغ، جہاں تاحد نگاہ صرف چندن کے درخت ہیں، اس کے نام کر دو۔"
#ShortStory, #ThePriceOfFolly, #KnowYourWorth, #LifeLessons, #OpportunityCost, urdu kahani ghar 88, urdu stories, moral stories, stories;



لکڑہارے نے بادشاہ کے دربار سے اپنا من چاہا انعام وصول کیا اور واپسی کی راہ لی۔ جب اس نے اتنا بڑا، درختوں سے بھرا باغ دیکھا تو خوشی سے اس کے دل میں یہ خیال آیا کہ اب وہ چند ہی دنوں میں امیر ہو جائے گا۔ دن میں درخت کاٹتا، رات کو ان کا کوئلہ بناتا، اور اگلے دن بازار میں بیچ آتا۔ یوں عرصہ گزر گیا، مگر کوئی خاطر خواہ منافع نہ ہوا۔ اب لکڑہارا بہت پریشان ہو گیا کیونکہ اب چند ہی درخت باقی بچے تھے اور وہ وہیں تھا جہاں سے شروع کیا تھا۔ نہ آمدنی میں اضافہ ہوا اور نہ ہی طرز زندگی میں کوئی تبدیلی آئی۔

ایک دن بادشاہ کو خیال آیا کہ کیوں نہ لکڑہارے سے ملنے جاؤں، وہ تو اب ایک امیر کبیر آدمی بن گیا ہوگا۔ کیا پتا، اس نے بہترین رہائش بھی بنا لی ہو۔ بادشاہ جب چندن کے باغ کے پاس پہنچا تو وہ منظر دیکھ کر صدمے سے زمین پر بیٹھ گیا۔ آدھے سے زیادہ باغ جل چکا تھا، دور دور تک سیاہی پھیلی ہوئی تھی اور وہ جگہ خوفناک ویرانے کا منظر پیش کر رہی تھی۔
#ShortStory, #ThePriceOfFolly, #KnowYourWorth, #LifeLessons, #OpportunityCost, urdu kahani ghar 88, urdu stories, moral stories, stories;



بادشاہ نے لکڑہارے سے پوچھا، "یہ تم نے کیا کیا ہے؟"

لکڑہارے نے کہا، "بادشاہ سلامت، میں نے سوچا تھا کہ درخت کاٹ کر لکڑیوں سے کوئلہ بنا کر بیچوں گا، تو میری قسمت بدل جائے گی۔ ساری لکڑیاں کاٹ ڈالیں، اب کچھ ہی بچے ہیں، مگر آمدنی وہی رہی جو پہلے تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے جنگل میں کوئلہ بناتا تھا، اب اس باغ میں بناتا ہوں۔"

بادشاہ ایک لمحے میں ساری بات سمجھ گیا اور کہا، "یہ جو آدھی لکڑیاں، یعنی کچھ میٹر لکڑی پڑی ہیں، جاؤ اور انہیں بازار میں لے جا کر بیچ آؤ۔"

لکڑہارا بادشاہ کا حکم ماننے پر مجبور تھا، سو گیا اور چندن کی لکڑی آواز لگا کر بیچنے لگا۔ چند ہی لمحوں میں کئی خریدار آگئے، اور بولیاں لگنے لگیں۔ آخرکار سب سے زیادہ دام لگانے والے کو اس نے وہ چندن کی لکڑی بیچ دی۔ اتنی زیادہ رقم لکڑی کے بیچنے پر اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ واپس آ کر بادشاہ سے کہا، "اتنی سی لکڑی اتنے مہنگے داموں بیچی گئی، اور میں نے باقی ساری لکڑیاں کوئلہ بنا کر برباد کر دیں۔"
#ShortStory, #ThePriceOfFolly, #KnowYourWorth, #LifeLessons, #OpportunityCost, urdu kahani ghar 88, urdu stories, moral stories, stories;



بادشاہ نے کہا، "میں نے یہ باغ تمہیں اس لیے دیا تھا کہ تم کچھ درختوں کی مدد سے نئے درخت اگاؤ گے اور کچھ درختوں کی لکڑی بیچ کر امیر بن جاؤ گے، مگر تم نے اپنی بے وقوفی سے سارا باغ ہی برباد کر ڈالا۔ اب سوائے پچھتانے کے لکڑہارے کے پاس کچھ بھی نہیں بچا تھا۔"

اس کہانی سے ہم دو اہم سبق سیکھتے ہیں:

1. انسان کی روح وہ چندن کا باغ ہے اور اس کی سانسیں چندن کے درخت ہیں۔ ان درختوں کو ہم برے کاموں میں جلا کر کوئلہ بنا دیتے ہیں۔ تمام سانسوں کو نفرت، جھوٹ، لالچ، حرص، حسد اور بدی میں جلا کر ہمیں یہ ہوش نہیں ہوتا کہ جیسے ایک درخت سے دوسرے درخت اگائے جا سکتے ہیں، ویسے ہی ان چلتی سانسوں کو امید، بھروسہ، ہمدردی، رحم دلی، اخلاص، سچائی اور نیکی میں لگا کر ہم کتنی زندگیوں کو فائدہ پہنچا سکتے تھے۔ جب بہت کم سانسیں بچتی ہیں، تو ہمیں یاد آتا ہے کہ ہمارے پاس کچھ باقی نہیں بچا سوائے پچھتانے کے۔

2. کبھی کبھی اللہ ہمیں ہماری من چاہی خواہش سے کہیں زیادہ عطا کر دیتا ہے، مگر ہم اپنی کم علمی اور بے وقوفی کے باعث اس کی عطا کردہ نعمت کو برباد کر دیتے ہیں۔ اللہ جس لیے ہمیں وہ نعمت دیتا ہے، وہ ہم بھول بیٹھتے ہیں یا پھر لکڑہارے کی طرح اس نعمت کا اصل مقصد اور اس کے استعمال کا طریقہ نہیں سمجھ پاتے، اور آخرکار ہم تہی داماں ہو جاتے ہیں۔

حاصل کلام یہ ہے کہ اپنی روح کے باغ کو نیکی سے سیراب کریں اور ان درختوں (سانسوں) کو برے کاموں میں جلنے نہ دیں۔ ان سانسوں کو اچھے کاموں سے مزید درخت اگانے کے لیے استعمال کریں۔ اور جب اللہ ہمیں من چاہی نعمت دے، تو اس کی قدر کریں اور اسے صحیح طور پر استعمال کریں۔

مومن بیوقوف نہیں ہوتا، بلکہ فہم و فراست، سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے والا ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں بے وقوفی کو معصومیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ بے وقوفی ایک بدبختی ہے۔ بے وقوف انسان نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے، بالکل اس لکڑہارے کی طرح۔ نعمتوں کی قدر شکر اور عقل و دانش سے کریں تاکہ آپ کو مزید نعمتوں سے نوازا جائے۔

Post a Comment

0 Comments