The Battle of Dhi Qar: Where Honor Defeated Empire


غیرت کا نعرہ: جب عرب قبائل نے ایک آزاد عورت کی خاطر اتحاد کیا

شہنشاہ ایران خسرو کی کونسل کے اجلاس کے دوران خسرو ثانی نے عرب خواتین کی خوبصورتی کا ذکر کیا۔ اس کونسل میں

 زید بن عدی نام کا ایک عرب شخص بھی  بیٹھا تھا۔

زید کو غصہ تھا کیونکہ شاہ نعمان بن المنذر نے اس کے والد کو قتل کر دیا تھا۔

زید نے موقع غنیمت جانا اور خسرو سے کہا



"اے بادشاہ، نعمان بن المنذر کی بیس سے زیادہ عورتیں ہیں اس کی بیٹیاں، بہنیں اور کزنز ۔ وہ سب دلکش اور غیر معمولی خوبصورت ہیں"

اس بات نے خسرو کی لالچ اور تجسس کو بھڑکا دیا اس نے نعمان کو پیغام بھیجا کہ وہ اسے اپنی ایک بیٹی بطور لونڈی دے۔

نعمان نے سختی سے انکار کر دیا اور کہا کہ

'ایک آزاد عرب عورت کو غیر ملکی بادشاہ کے حوالے کرنے پر موت کو ترجیح دوں گا'

خسرو نے غصے میں آکر اسے اپنے دربار میں طلب کیا۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس کا انجام قریب ہے نعمان نے اپنی بیٹی کو قبیلہ بنی شیبان کے سردار ہانی بن مسعود الشیبانی کے سپرد کر دیا اور پھر خسرو کے پاس گیا۔

خسرو نے اسے قتل کر دیا۔

اس کے بعد خسرو نے ہانی بن مسعود کو پیغام بھیجا کہ وہ لڑکی اس کے حوالے کی جائے

ہانی نے انکار کرتے ہوئے کہا

"ہمارا فخر اور عزت ہمیں ایک آزاد عرب عورت کو کسی غیر ملکی کے حوالے کرنے سے منع کرتی ہے!

غصے میں آکر خسرو نے عظیم الشان وزیر الحمراء الطستری کی قیادت میں ایک بڑی فوج کو عربوں کو زیر کرنے اور لڑکی کو اس کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔


یہ ایک اہم موڑ تھا:

زمین کے کونے کونے سے عرب قبائل ۔۔ بکر، ربیعہ، ابس، ذبیان، غطفان، ہوازن اور تمیم جمع ہوئے، اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، اپنی عزت اور فخر کے احساس سے متحد ہو گئے

جنگ میں حصہ لینے والے جنگجوؤں میں عروہ بن الورد، صخر بن عمرو، دورید بن السمہ، عمرو بن ود اور دیگر عرب جنگجو شامل تھے۔

ذیقار کے مقام پر ایک عظیم جنگ شروع ہوئی جو قبل از اسلام عرب کی تاریخ کی سب سے شدید جنگوں میں سے ایک تھی۔

فارسیوں کی عددی اور وسائل کی برتری کے باوجود، عربوں نے غیرت اور غیر معمولی ہمت کے ساتھ جنگ لڑی، اور جنگ کا اختتام عربوں کی شاندار فتح اور فارسی کمانڈر حمرز الطستری کی موت پر ہوا۔

ذیقارمیں فارسیوں پر عربوں کی پہلی فتح تھی اور یہ زمین یا دولت کے لالچ سے نہیں بلکہ ایک عورت کے لیے غیرت کے جذبے سے کارفرما ہوئی، جس نے تمام عربوں کے غرور کو ہلا کر رکھ دیا۔زیقار میں خون بہایا گیا، اور پرچم اٹھائے گئے اور یہ سب عزت و ناموس بچانے کے لیے کیا گیا۔۔

صنف نازک کی عزت کی خاطر تاریخ کے مختلف ادوار میں بہت سے واقعات رونما ہوتے آئے ہیں۔ جنہوں نے مختلف سورماؤں کو ہلا کر رکھ دیا'

وہ چاہے ماضی ہو یا حال ۔۔۔!


















Post a Comment

0 Comments